عورت کو ضعیف‌النفس و ناقص‌العقل قرار دینا



  

معاشره کے بهت سے افراد بعض روایات کی بنا پر عام طور پر عورت کو ضعیف‌النفس و ناقص‌العقل... کے عنوان سے یاد کرتے هیں تو کیا ایسا فیصله کرنا صحیح هے؟ کیا اس طرح کی روایات خاص موارد سے مخصوص هیں؟ آیا اس سلسله میں عورتوں کے تمام خصوصیات بیان هوئے هیں یا ان میں سے صرف بعض کی طرف اشاره هوا هے؟

 جواب:

 انسان (چاهے مرد هو یا عورت) کمال تک پهنچنے کے لئے بهت سی چیزیں رکھتا هے اور وه کھبی بھی دنیوی جلد ختم هونے والی چیزوں کے لئے وسیله نهیں هے، اسی وجه سے انسان پر بهت سی ذمه داریاں وارد هوتی هیں، اور کبھی بھی اس کو مشین کی طرح یا ضرورت پوری کرنے والے وسیله کی صورت میں قرار نهیں دیا گیا هے اور اس لحاظ سے مرد و عورت میں کوئی فرق نهیں هے تاکه یه کها جاسکے که عورت کے سلسله میں اسلام کا نظریه وسیله کی مانند هے اور عورت ایک وابسته موجود کے عنوان سے یاد کی جاتی هے، عورت بھی مرد کی طرح کمال تک پهنچنے میں مستقل هے اور خلقت کا اصلی هدف دونوں کا کمال اور قرب الٰهی اور معرفت خدا تک پهنچنا هے، دونوں اپنے ذاتی، گھریلو اور اجتماعی ذمه داریوں کے سلسله میں ذمه دار هیں،اور کبھی بهی ایک دوسرے کے لئے وسیله نهیں هیں۔

حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) نے فرمایا: "الرجل راع علي اهل‌بیته وکل راع مسئول عن رعیته والمرأة راعیة علي مال زوجها و مسئولة عنه؛[1]  ٬ مرد اهل خانه کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذمه دار هےاور عورت شوهر کے مال و دولت کو محفوظ رکھنے کی ذمه دار هے، اور هر ذمه دار اپنی ذمه داری پر ثابت قدم رهتا هے"۔

 اگرچه خداوندعالم نے تمام حقوقی قوانین کو حقوق فطری کے مقابله میں قرار دیا هے تاکه فطری خزانوں کے شگوفه هونے کا راسته هموار هوجائے، لیکن چونکه هم کافی مقدار میں علم و حکمت سے بهره مند نهیں هیں تا که عدل میں چھپے راز کو تلاش کرسکیں، لیکن خداوندعالم آگاه اور حکیم هے، وه مساوات کے وجوهات اور اختلاف کے اسباب سے آگاه اور ان پر احاطه رکھتا هے اور حکمت کے مطابق انھیں متوسط قسم کے حقوقی صورت میں بیان کرتا هے تاکه قدیمی جاهلیت کی کوتاهی یا ماڈرن جاهلیت کی زیادتی کا شکار نه هونے پائے۔

اسلامی نقطه نگاه سے عورت ایک کامل اور ظریف و زیبا وجود کی شکل میں پیدا هوئی هے، جیسا که مرد بھی کامل اور زیبا شکل میں پیدا هوا هے، عورت کا کمال اس کے عورت هونے میں هے، اور مرد کا کمال اس کے مرد هونے میں هے، عورت کو اگر عورت هونا هے تو اسے مخصوص اخلاق و رفتار اور خصوصیات کو اختیار کرنا هوگا، اسی طرح اگر مرد کو مرد هونا هے تو اسی بھی مرد کے خصوصیات کو اپنانا هوگا، ان میں سے هر ایک خاص هدف و مقصد کے لئے خلق هوا هے، ظاهر سی بات هے که مرد اور عورت کے خصوصیات برابر اور مساوی نهیں هیں، چنانچه بهت سی غلطیاں اور شبهات اور اعتراضات اسی وجه سے هوتے هیں که عورت و مرد میں غلط طور پر موازنه کیا جاتا هے، ان دونوں کو ایک دوسرے سے موازنه کرنا صحیح نهیں هے، یه درست هے که یه دونوں انسان هیں اور انسانیت کی صفت میں مشترک هیں، لیکن ان دونوں کا آپس میں موازنه کرنا صحیح نهیں هے، عورت میں اپنے خصوصیات هونا چاهئے، اور مرد اپنے صفات کا حامل ، چونکه عورت مرد میں واضح طور پر فرق پایا جاتا هے اور یه فرق ان کے احکام میں بھی فرق هونے کا باعث بنتا هے۔

 پروفیسر "ریک" که جس نے چند سال تک عورت و مرد کے خصوصیات پر تحقیق کی هے اس نے عورت و مرد کے درمیان فرق کے سلسله میں ایک کتاب لکھی هے جس میں لکها هے: عورت کی دنیا مرد کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ هے، دونوں کا جسموں میں بھی فرق هوتا هے، ترکیب کے لحاظ سے بھی آپس میں فرق هے، ان میں ایک طرح کا عکس العمل نهیں پایا جاتا، عورت و مرد اپنی جنسی تقاضوں کے لحاظ سے مختلف عمل انجام دیتے هیں اور بالکل دو مداروں پر دو مختلف ستاروں کی طرح چلتے هیں، لیکن وه ایک دوسرے کو کامل کرنے والے هیں، اس لحاظ سے ایک ساتھ زندگی بسر کرسکتے هیں۔

نه صرف عورت و مرد کی آپس میں گھریلو محبت مختلف چیزوں کے سلسله میں فرق کرتی هے بلکه ایک دوسرے کی نسبت دونوں کی محبت میں بھی فرق پایا جاتا هے، یعنی مرد کی عورت سے محبت کی قسم، عورت کی مرد سے محبت کی قسم الگ هوتی هے۔

مرد کا نظام خلقت مظهر طلب اور مظهر عشق و تقاضا هے اور عورت کا نظام خلقت مظهر محبوبیت اورمعشوقیت قرار دیا گیا هے٬مرد کے احساسات نیاز آمیز اور عورت کے احساسات ناز برداری والے هوتےهیں۔

ایک ماهر نفسیات خاتون بنام "کلیوڈلسن" کهتی هے: میں نے عورت و مرد کے نفسیاتی حالات کا مکمل طور پر جائزه لیا هے، اور میں اس  نتیجه تک پهنچی هوں:

1-      تمام عورتیں دوسروں کی نظارت کے تحت کام کرنا پسند کرتی هیں، بطور خلاصه یه کها جاسکتا هےکه عورتیں مافوق بننے کی نسبت ماتحت هوکر کام کرنے میں زیاده خوش رهتی هیں۔



1 2 next