شیعوں کی علمی میراث



  

شیعوں کی علمی میراث

شرع مقدس اسلام میں تالیف وتصنیف کی اھمیت کسی پر مخفی نھیں ھے کیونکہ علم وآگاھی کے منتقل کرنے کے راستوں میں ایک راستہ لکھنا ھے، عرب کے معاشرے میں اسلام سے پھلے اس نعمت سے بھت کم لوگ بھرہ مند تھے اور صرف چند افراد لکھنے اور پڑھنے کی توانائی رکھتے تھے۔[1]

لیکن بعثت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور نزول وحی کے بعدتعلیمات اسلامی سے واقفیت کے لئے قرآنی آیات کے لکھنے کی ضرورت محسوس ھوئی، جیسا کہ ابن ھشام نے نقل کیا ھے کہ عمر بن الخطاب کے مسلمان ھونے سے پھلے ان کی بھن فاطمہ بنت خطاب اور ا ن کے شوھر سعید بن زید مسلمان ھوئے،خباب ابن ارث نے ایک نوشتہ کے ذریعہ کہ جسے صحیفہ کھتے، عمر کی نظروں سے مخفی ھوکر انھیں سورہ طہ کی تعلیم دی۔ [2]

مدینہ میں بھی رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے بعض افراد کو کہ جو لکھنے پر قادر تھے وحی لکھنے کے لئے انتخاب کیا اس کے علاوہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیرالمومنین(علیہ السلام) کو کہ جو دائمی وحی لکھنے والے تھے مسلسل آیات محکمات ومتشابھات اور ناسخ ومنسوخ آیات کے بارے میں وضاحت پیش کرتے تھے جس کی بنا پر صحیفہٴ جامعہ کے نام سے ایک کتاب رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے املا کرایا جو حلال و حرام، احکام و سنن اور وہ احکام جن کی دنیا و آخرت میں لوگوں کو ضرورت ھے ان سب کو شامل تھی۔[3]

 دوسری دو کتابیں جن میں سے ایک دیات کے بارے میں تھی جس کا نام صحیفہ تھا اور دوسری کتاب جس کا نام فریضہ تھا اس کی نسبت بھی حضرت کی طرف دی گئی ھے۔[4]

 بعض دوسرے صحابہ نے بھی رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خداکی تقاریر اور احادیث کو جمع کیا تھا اس کو بھی صحیفہ کھتے تھے جیسا کہ بخاری نے ابو ھریرہ سے نقل کیا ھے:  اصحاب پیغمبر میں سے سب سے زیادہ میں احادیث رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نقل کرتا ھوں سوائے عبداللہ بن عمر کے کیونکہ وہ جوچیز بھی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنتے تھے اس کو لکھ لیتے تھے لیکن میں نھیں لکھتا تھا۔[5]

لیکن وفات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دوسرے خلیفہ، عمر نے احادیث رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو لکھنے سے منع کر دیا۔[6]

عمر بن عبدالعزیز نے پھلی صدی ھجری کے آخر میں اس ممانعت کو ختم کر دیا اور ابو بکر بن حزم کو احادیث لکھنے کے لئے خط لکھا۔[7]

لیکن دوسری صدی ھجری کے شروع تک یہ کام عملی طور پر نھیں ھو سکا کیونکہ غزالی کے نقل کی بنا پر جن لوگوں نے اھل سنت کے درمیان حدیث کی کتاب کو سب سے پھلے تالیف کیا ھے وہ یہ ھیں: ابن جریح، معمر بن راشد، مالک بن انس اور سفیان ثوری،[8]یہ لوگ دوسری صدی ھجری کے نصف دوم میں تھے، ان کی وفات کے سال ان کے نام کی ترتیب کے ساتھ اس طرح ھیں ۱۵۰ھ، ۱۵۲ھ،۱۷۹ھ،۱۶۱ھ لیکن خلیفہ دوم کی طرف سے کتابت احادیث پر پابندی اور روک ٹوک شیعوں کے درمیان موثر نہ ھوئی اور شیعوں کے بزرگ اصحاب جیسے سلمانۺ فارسی، ابوذرغفاری،ابو رافع قبطی نے تالیف و تصنیف کی راہ میں پھلے قدم بڑھائے، ابن شھر آشوب کا بیان ھے، غزالی معتقد ھے کہ سب سے پھلی کتاب جو جھان اسلام میں لکھی گئی وہ ابن جریح کی کتاب ھے جو تفاسیر کے حروف اور آثار کے بارے میں ھے کہ جس کو مجاھد اور عطا نے مکہ میں نقل کیا ھے، اس کی کتاب کے بعد یمن میں معمر بن راشد صنعانی کی کتاب ھے اس کے بعد مدینہ میں موطا مالک بن انس کی کتا ب ھے نیز اس کتا ب کے بعدسفیان ثوری کی کتاب جامع ھے لیکن صحیح یہ ھے کہ عالم اسلام میں سب سے پھلی کتاب امیرالمومنین(علیہ السلام) نے لکھی ھے کہ جس میں قرآن کو جمع کیا ھے حضرت کے بعد سلمان فارسی ۺ، ابوذر غفاریۺ اصبغ بن نباتہ ۺ عبیداللہ ۺبن ابی رافع نے تصنیف وتالیف کی راہ میں قدم اٹھایا اور ان کے بعد امام زین العابدین(علیہ السلام) نے صحیفہٴ کاملہ تالیف کی۔[9]

ابن ندیم نے بھی شیعی تالیفات کو پھلی صدی سے مربوط جانتا ھے۔[10]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next