شیعه تاریخ کے آئینه میں



 

<۱>شیعہ خلفا کے زمانے میں

شیعہ پھلے تینوں  خلیفہ، ابوبکر،عمر، عثمان کے زمانے میں حسب ذیل خصوصیات کے حامل تھے۔    

<الف>شیعہ ان تین خلفا کے دور میں سقیفہ کے ابتدائی دنوں کے علاوہ بھت زیادہ فشار میں نھیں تھے اگر چہ کھا جا سکتا ھے کہ بھت سے شیعہ، شیعہ ھونے کی وجہ سے اھم منصبوں سے محروم تھے۔ [1]

<ب>سقیفہ کے بعد مسلمانوں کی قیادت کا مسئلہ انتشار کا شکار ھوگیا اور مسلمان دو اھم گروھوں میں تقسیم ھوگئے، اھل سنت علمی فقھی و اعتقادی مشکلات میں خلفاء زمانہ کی طرف اور شیعہ حضرت علی(علیہ السلام) کی طرف رجوع کرتے تھے، شیعہ اپنے علمی اور فقھی مشکلات بلکہ بطورکلی معارف اسلامی سے متعلق امور میں حضرت علی(علیہ السلام) کی شھادت کے بعد ائمہ طاھرین(علیہ السلام) کی طرف رجوع کرتے رھے اورشیعہ و اھل سنت کے درمیان فقہ و حدیث و تفسیر کلام وغیر ہ میں اختلاف کی وجہ یھی ھے کہ ان دونوں گروھوں کی دینی درسگاہ اورپناہ گاہ ایک دوسرے سے علیحدہ تھی۔

<ج> اسی طرح حضرت علی(علیہ السلام) نے قانونی طور پر خلفاء وقت کے ساتھ فوجی اور سیاسی شعبہ میں عالم اسلام کی حفا ظت اور مصلحت کی خاطر کافی حد تک طرفداری وحمایت کی [2]چند بزرگ شیعہ صحابہ نے بھی امام کی موافقت سے فوجی اورسیاسی منصوبوں کو قبول کرلیا تھا مثلاً حضرت علی(علیہ السلام) کے چچازاد بھائی فضل بن عباس جو سقیفہ میں حضرت علی(علیہ السلام) کے مدافع تھے شام میں فوجی منصب پر فائز تھے اور ۱۸ ھ میں فلسطین میں دنیا سے رخصت ھوگئے۔[3]

حذیفہ ا ور سلمان ترتیب وار مدائن کے حاکم تھے،[4]عمار یاسر، سعد بن ابی وقاص کے بعد خلیفہ دوم کی طرف سے کوفہ کے حاکم [5]ھاشم مرقال جو حضرت علی(علیہ السلام) کے مخلص شیعوں میں تھے اور جنگ صفین میں علی(علیہ السلام) کے لشکرمیں شھید ھوئے [6]تینوں خلفا کے زمانے میں بڑے افسر تھے ۲۲ ھمیں ٓذر بائیجان کو فتح کیا [7]عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن یمان عمر کی طرف سے عراق کی زمین کی پیمائش پر مامور تھے[8]عبداللہ بن بدیل بن ورقہ خزاعی،شیعیان علی(علیہ السلام) میں سے تھے جن کا بیٹا جنگ جمل میں سب سے پھلے شھید ھوا[9]یہ فوجی افسروں میں سے تھا اور اس نے اصفھان اور ھمدان کو فتح کیاتھا۔[10]

اسی طرح سے دوسرے افراد بھی جیسے جریر بن عبداللہ بجلی[11]قرظہ بن کعب انصاری [12]یہ لوگ امیرالمومنین(علیہ السلام) کی خلافت میں اھم افراد شمار کئے جاتے تھے جب کہ تینوں خلفا کے زمانے میں ملکی اور لشکری عھدوں پر فائز تھے جریر نے کوفہ کا علاقہ فتح کیا [13]اور زمانہٴ عثمان میں ھمدان کے حاکم تھے[14]قرظہ بن کعب انصاری نے بھی عمر بن خطاب کے زمانے میں شھر ری کو فتح کیا۔[15]

اظھار تشیّع( امیرالمومنین(علیہ السلام) کی خلافت میں)

 اگر چہ تشیّع کا سابقہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے ھے، لیکن قتل عثمان کے بعد خلافت علی(علیہ السلام) کے دورمیں علی الاعلان اظھار ھو ا اس زمانہ میں صف بندی ھوئی اور پیروان علی(علیہ السلام) نے آشکار ا اپنے شیعہ ھونے کا اعلان کیا، شیخ مفید نقل کرتے ھیں کہ ایک جماعت حضرت علی(علیہ السلام) کے پاس آئی اور کھا:

”اے امیرالمومنین(علیہ السلام)  ھم آپ کے شیعہ ھیں، حضرت نے ان کو غور سے دیکھا اور فرمایا: آخرمیں تمھارے اندر شیعہ ھونے کی علامت کیوں نھیں دیکھ رھا ھوں؟ اس جماعت نے کھا: اے امیرالمومنین شیعوں کی کیاعلامت ھونی چاھیے حضرت نے فرمایا:

 راتوں میں کثرت عبادت سے ان کارنگ زردپڑ جائے،(خوف خدا میں) گریہ کرنے سے ان کی بینائی ضعیف ھوگئی ھومسلسل قیام عبادت سے ان کی کمر خمیدہ ھوگئی ھو اور ان کا پیٹ روزہ رکھنے کی وجہ سے پیٹھ سے لگ گیا ھو اور خضوع اور خشوع میں ڈوبے ھوئے ھوں [16]

اسی طرح بھت سے اشعار حضرت علی(علیہ السلام) کی خلافت کے دور میں کھے گئے ھیں کہ جو امام کے بر حق نیز پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعدپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانشین اور بلا فصل خلیفہ ھونے کی طرف اشارہ کرتے ھیں ، قیس بن سعد نے کھا:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 next