حضرت امام موسی کاظم عليه السلام



آپ کی ولادت باسعادت

          حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام بتاریخ ۷/ صفرالمظفر ۱۲۸ ھ مطابق ۷۴۵ ء یوم شنبہ بمقام ابواجومکہ اورمدینہ کے درمیان واقع ہے پیداہوئے (انوارالنعمانیہ ص ۱۲۶ ،واعلام الوری ص ۱۷۱ ،جلاء العیون ص ۲۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۲ ،روضة الشہداء ص ۴۳۶) ۔

          علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ پیداہوتے ہی آپ نے ہاتھوں کوزمین پرٹیک کر آسمان کی طرف رخ کیااورکلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایا آپ نے یہ عمل بالکل اسی طرح کیا،جس طرح حضرت رسول خداصلعم نے ولادت کے بعدکیاتھاآپ کے داہنے بازوپرکلمہ تمت کلمة ربک صدقا وعدلا لکھاہواتھا آپ علم اولین وآخرین سے بہرہ ورمتولدہوئے تھے آپ کی ولادت سے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کو بیحد مسرت ہوئی تھی اورآپ نے مدینہ جاکراہل مدینہ کودعوت طعام دی تھی (جلاء العیون ص ۲۷۰) ۔ آپ دیگرآئمہ کی طرح مختون اورناف بریدہ متولدہوئے تھے۔

اسم گرامی،کنیت،القاب

          آپ کے والدماجدحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے خداوندمتعال کے معین کردہ نام ”موسی“ سے موسوم کیاعلامہ محمدرضالکھتے ہیں کہ موسی ،قبطی لفظ ہے اورمواورسی سے مرکب ہے  موکے معنی پانی اور”سی“ کے معنی درخت کے ہیں اس نام سے سب سے پہلے حضرت کلیم اللہ موسوم کئے گئے تھے۔

اوراس کی وجہ یہ تھی کہ خوف فرعون سے مادرموسی نے آپ کواس صندوق میں رکھ کر دریامیں بہایاتھاجو”حبیب نجار“ کابنایاہواتھا اوربعدمیں ”تابوت سکینہ“ قرارپایا، تووہ صندوق بہہ کرفرعون اورجناب آسیہ تک پانی کے ذریعہ سے ان درختوں سے ٹکراتاہواجوخاص باغ میں تھے پہنچاتھا لہذا پانی اوردرخت کے سبب سے ان کانام موسی قرارپایاتھا (جنات الخلود ص ۲۹) ۔

          آپ کی کنیت ابوالحسن،ابوابراہیم،ابوعلی ابوعبداللہ تھی اورآپ کے القاب کاظم،عبدصالح،نفس زکیہ،صابر،امین، باب الحوائج وغیرہ تھے ”شہرت عامہ“ کاظم کوہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بدسلوک کے ساتھ احسان کرتے اورستانے والے کومعاف فرماتے اورغصہ کوپی جاتے تھے، بڑے حلیم،بردباراوراپنے ظلم کرنے والے کومعاف کردیاکرتے تھے(مطالب السول ص ۲۷۶ ،شواہدالنبوت ص ۱۹۲ ،روضة الشہداء ص ۴۳۲ ،تاریخ خمیس جلد ۲ ص ۳۲) ۔

لقب باب الحوائج کی وجہ

          علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ کثرت عبادت کی وجہ سے عبدصالح اورخداسے حاجت طلب کرنے کے ذریعہ ہونے کی وجہ سے آپ کوباب الحوائج کہا جاتاہے،کوئی بھی حاجت ہوجب آپ کے واسطے سے طلب کی جاتی تھی توضرور پوری ہوتی تھی ملاحظہ ہو(مطالب السول ص ۲۷۸ ، صواعق محرقہ ص ۱۳۱) ۔

          فاضل معاصرعلامہ علی حیدررقمطرازہیں کہ حضرت کالقب باب قضاء الحوائج یعنی حاجتیں پوری ہونے کادروازہ بھی تھا حضرت کی زندگی میں توحاجتیں آپ کے توسل سے پوری ہوتی تھیں شہادت کے بعدبی یہ سلسلہ جاری رہااوراب بھی ہے ”اخبارپایزالہ آباد ۱۰/ اگست ۱۹۲۸ ءء میں زیرعنوان ”امام موسی کاظم کے روضہ پرایک اندھے کوبینائی مل گئی“ ایک خبرشائع ہوئی ہے جس کاترجمہ یہ ہے کہ حال ہی میں روضہ کاظمین شریف پرجوشہربغدادسے باہرہے ایک معجزہ ظاہرہواہے کہ ایک اندھااوربوڑھا”سید“ نہایت مفلسی کی حالت میں روضہ شریف کے اندرداخل ہوااورجیسے ہی اس نے امام موسی کاظم کے روضہ کی ضریح اقدس کواپنے ہاتھ سے مس کیاوہ فوراچلاتاہواباہرکی طرف دوڑا ”مجھے بینائی مل گئی“ میں دیکھنے لگاہوں، اوراس پرلوگوں کابڑاہجوم جمع ہوگیااوراکثرلوگ اس کے کپڑے تبرک کے طورپرچھین جھپٹ کرلے گئے اس کوتین دفعہ کپڑے پہنائے گئے اورہردفعہ وہ کپڑے ٹکڑے ہوکرتقسیم ہوگئے آخرروضہ شریف کے خدام نے اس خیال سے کہ کہیں اس بوڑھے سیدکے جسم کونقصان نہ پہنچے اس کواس کے گھرپہنچادیا ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next