چند دعائیں صحیفہ حضرت زھراء (ع) سے



 

 غم و اندوہ کے برطرف ہونے کیلئے دعا

امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے، میری مادر گرامی حضرت فاطمہ علیھا السلام ایک نماز پڑھتی تھیں جو انہیں حضرت جبرائیل نے تعلیم دی تھی دو رکعت نماز ہے جو اس طرح ہے، پہلی رکعت میں حمد اور سورہ انا انزلنا ایک مرتبہ اور دوسری رکعت میں ایک بار سورہ الحمد اور سورہ اخلاص کرتیں۔ پس جب سلام پھیر لیتیں تو تسبیحات حضرت زہرا پڑھتیں، اور پھر جانماز پر دو زانو بیٹھ کر اپنی حاجات کے لئے یوں دعا مانگتیں، پیغمبر اسلام(ص) پر درود بھیجنے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ بلند کرتیں۔

اے پروردگار: آئمہ معصومین کے (متبرک) ناموں کو وسیلہ قرار دے کر تیری طرف آئی ہوں، اور ان (پاکیزہ) ہستیوں کے صدقے میں جن کی گہرائیوں سے سوائے تیرے کوئی آگاہ نہیں متوسل ہوئی ہوں، اور اس کے حق کے ساتھ جس کا حق تیرے نزدیک عظیم ہے، اور تیرے پاکیزہ ناموں کے ساتھ، اور تیری کامل موجودات کے ساتھ کہ جن کے متعلق تو نے مجھے امر کیا کہ تجھے ان ناموں کے ساتھ پکاروں، متوسل ہوئی ہوں۔

اور میں تیرے اس بزرگ اور عظیم الشان نام کے ساتھ جس کے متعلق حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ وہ پرندوں کو آواز دیں اور پرندوں نے ان کو جواب دیا اور اس عظیم الشان نام کے ساتھ کہ جس کے ساتھ آتش نمرود کو حضرت ابراہیم پر ٹھنڈا ہونے کا حکم دیا تھا اور وہ ٹھنڈی ہوگئی، اور تیرے پسندیدہ ناموں کے ساتھ سوال کرتی ہوں اور تیری بارگاہ میں سب سے اچھے ناموں کے ساتھ، اور تیرے حضور میں سب سے عظیم الشان ناموں کے ساتھ، اور ان ناموں کے ساتھ جس سے دعاؤں کو جلدی قبول کرتا ہے، اور حاجت مند بہتر انداز میں اپنے مقصود کو حاصل کرتے ہیں، اور ہر اس چیز کے ذریعہ سے جس کا تو اہل ہے، تجھے پکارتی ہوں۔

اور میں تجھ سے توسل کرتی ہوں، اور تیری طرف متوجہ ہوں، اور تجھ سے مدد کی طلب گار ہوں، اور تجھ سے بخشش، احسان اور فضل کی طلب گار ہوں، اور تیری بارگاہ میں التجا کرتی ہوں، اور تیرے حضور میں خضوع و خشوع کرتی ہوں، اور اپنے افعال کا اقرار کرتی ہوں اور تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتی ہوں۔

تیرے رسولوں اور پیغمبروں پر نازل شدہ کتابوں کے طفیل سے سوال کرتی ہوں، کہ ان سب پر درود بھیج، جیسے تورات، انجیل اور اول سے آخر تک عظیم الشان کتاب قرآن مجید کیونکہ تیر ااسم اعظم ان میں ہے، اور میں ان کتابوں میں موجود تیرے عظیم الشان ناموں کے طفیل سے تیری قربت کی طلب گار ہوں۔

بارالھا میں سوال کرتی ہوں کہ محمد و آل محمد پر درود بھیج اور ان پر رحمتیں فرما، اور میرے کام میں وسعت کو ان کے امور کی وسعتوں کے ساتھ متصل فرما، اور ہر نیک کام میں انہیں مقدم فرما اور انہی سے کام کا آغاز فرما اور ان ایام میں آسمان کے دروازے میری دعاؤں کے لئے کھول دے اور اس دن اور رات میں میرے کام میں وسعت اور دنیا و آخرت میں میری حاجات کو پورا کرنے کیلئے اجازت صادر فرما۔

پس تحقیق، محتاجی اور بیچارگی نے مجھے روند ڈالا ہے، اور پریشان حالی مجھ پر مسلط ہو گئی ہے، نیاز مندی اور ضرورت نے تیری بارگاہ میں پناہ گزین بنا دیا ہے، ذلت و رسوائی میرے چہرے سے آشکار ہے، درماندگی مجھ پر غالب آگئی ہے گناہوں نے مجھے گھیر لیا ہے پس رافت و رحمت مجھ پر واجب ہو گئی ہے۔

یہ وہ وقت ہے جس میں تو نے اپنے اولیاء کی دعاؤں کو قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے، پس محمد و آل محمد پر درود بھیج، اور اپنی قدرت سے فقر اور بیچارگی کو ہم سے دور فرما، اور اپنی نگاہ رحمت سے مجھے مشرف فرما اور مجھے اپنی وسیع رحمتوں میں داخل فرما۔

میری طرف توجہ فرما، ایسی توجہ کہ اگر کسی اسیر پر پڑے تو اس کو آزاد کردے، اور اگر کسی گمراہ پر پڑے تو وہ ہدایت یافتہ ہوجائے، اور اگر کسی بھٹکے ہوئے پر پڑے تو وہ اپنی منزل کو پا جائے، اور جب کسی محتاج پر پڑے تو اسے بے نیاز کردے، اور اگر کسی ضعیف پر پڑے تو اسے قوی بنا دے، اور جب کسی خوفزدہ پر پڑے تو ا س کو محفوظ کردے پس اے عظمت وبزرگواری والے! مجھے میرے اور اپنے دشمنوں کے درمیان نہ چھوڑنا قرار نہ دینا۔

ا ے وہ ذات جس کی کیفیت، جگہ اور قدرت سے سوائے اس کے کوئی واقف نہیں، اے وہ ذات جس نے ہواؤں کو آسمان سے روکا اور زمین کو پانی پر پھیلا دیا، اور بہترین ناموں کو اپنے لئے منتخب کیا، پاک ہے وہ ذات جس نے خود کو ایسے نام سے موسوم کیا کہ جوبھی اس نام سے پکارے اس کی حاجات پوری ہوجاتی ہیں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 next