پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ ) کی شخصیت کے بارے میں عالمی دانشمند حضرات کیا کہتے ہیں؟

سيد حسين حيدر زيدي


اسلام تنہا ایسا دین ہے جس میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ گوناگوں تبدیلیوں کو خود میں جذب کر سکے اور خود کو ہر زمانہ کے حساب سے منطبق کر سکے۔ میں نے حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے دین کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ ان کا مذھب آئندہ یوروپ کے ملکوں میں قابل قبول ہوگا۔ جیسا کہ آج کے دور میں اس کے قبول کرنے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسلام کا ظہور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اھل بیت (علیہم السلام) کی زحمتوں کے نتیجے میں تاریخ بشری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بے شمار ھمہ گیر ترقی و ارتقاء نے بنی نوع بشر کو اپنے سایہ پناہ میں لے لیا ہے۔

اس آسمانی دین کا کم سے کم فائدہ یہ ہوا کہ لکھنے، پڑھنے اور اسلامی دنیا میں علوم کے عالمگیر ہونے کو بڑھاوا ملا اور اس کے ساتھ ہی یه اسپین ، جرمنی ، انگلستان جیسے ممالک اور یوروپی حکومتوں کی طرف منتقل ہوا اور اس کے بعد پوری دنیا میں فروغ حاصل ہوا، اس طرح سے اس آسمانی سنگ میل کے بعد روم و مصر و ایران جیسے تمدن و ثقافت کے پاس بھی اس کا کوئی متبادل و جواب نہیں تھا۔ اس حقیقت کے تاریخی دلائل غیر قابل انکار اور بے شمار ہیں: ان میں ایک دلیل ان اسلامی علماء و دانشوروں بلکہ غیر اسلامی و مغربی دانشمندوں کا مکرر اقرار و اعتراف ہے جس کے ایک مختصر نمونے کا ذکر ہم یہاں کریں گے:

مغربی معاشرہ کے نامور دانشمند و اسکالرز توہین و تذلیل و اہانت کے باوجود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو نہ صرف یہ کہ صف اول کے دینی رہنما و بزرگ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں بلکہ تمام صراحت اور صاف گوئی کے ساتھ اسلام کو اس کے بے شمار خصائص کے ساتھ، ایک عالمی اور جہانی دین ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اور شاید یہی سبب ہے کہ اس واقعیت نے توہین و اہانت کرنے والوں کے درد میں اضافہ کر دیا ہے اور اس حقیقت کے جواب میں انہیں تعصب و بے دینی و بد تمیزی کے سوا کوئی راہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

 

ٹالسٹواے

مشہور روسی مصنف و مربی و فلسفہ اخلاق، جس کی تعلیمات اور آئیڈیالوجی کو بڑے بڑے سیاست مداروں منجملہ گاندھی نے اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذات گرامی اور شخصیت تمام اکرام و احترام کی مستحق ہے اور ان کی شریعت عقل و حکمت کے موافق ہونے کے سبب ایک دن عالمگیر حیثیت اختیار کر لے گی(۱).

 

کارل مارکس

انیسویں صدی عیسوی کا یہ جرمنی الاصل فلسفی، سیاستمدار اور انقلابی لیڈر، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شخصیت کو عمیق طور سے درک کرنے کے بعد اپنی رای کا اس طرح سے اظہار کرتا ہے: محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے شخص تھے جو بت پرستوں کے درمیان آہنی اراد ےکے ساتھ کھڑے ہوئے  اور انہیں یکتا پرستی اور توحید کی دعوت دی اور ان کے دلوں میں جاویدانی روح و نفس کا بیج بویا۔ اس لیے انہیں نہ صرف یہ کہ مردان بزرگ کی صف میں رکھا جائے بلکہ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے فرستادہ خدا ہونے کا اعتراف کیا جائے اور  دل کی گہرائی سے کہا جائے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں (۲).

مہاتما گاندھی



1 2 3 4 5 next