پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور قرآن و حدیث

سيد حسين حيدر زيدي


یقینا قرآن کریم، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے وجود کو سمجھنے کے لئے بہترین مرجع ہے اور قرآن کریم کے معنی بیان کرنے کیلئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بہترین مدرک ہیں، آپ ہی سب سے پہلے قرآن کے مفسر ہیں۔

جو لوگ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو پیغمبر نہیں سمجھتے ہیں ان کا نظریہ ہے کہ قرآن خود آنحضرت کا کلام ہے جس کو ان کے اصحاب نے تالیف کیا ہے لیکن مسلمانوں کیلئے تمام فقہی و کلامی مکاتب میں قرآن خداوند عالم کا کلام رہاہے جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر وحی کے ذریعہ نازل ہوا اور آپ نے ایک ایک کلمہ کو اپنے چاہنے والوں تک پہنچایا ہے ،اس کے علاوہ قرآن کریم اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے درمیان ایک عمیق و لطیف رابطہ بھی برقرار ہے ۔قرآن کریم میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور آپ کے وظایف کی طرف مستقیم حوالہ دیا گیا ہے ، خصوصا اس بات پر اصرار ہے کہ آپ ایک انسان ہیں کوئی خدائی (غیر فطری) وجود نہیں ہے ، آپ خاتم الانبیاء ہیں، اور خداوند عالم کی طرف سے آپ کو بہت بلند وبالا طبیعت اہداء ہوئی ہے اور خداوند عالم نے آپ کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ مسلمان آپ کی پیروی کریں۔

یقینا قرآن کریم، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے وجود کو سمجھنے کے لئے بہترین مرجع ہے اور قرآن کریم کے معنی بیان کرنے کیلئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بہترین مدرک ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے قرآن کے مفسر ہیں۔

گذشتہ تمام صدیوں میں میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ انہوں نے قرآن کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بیان سے سمجھا ہے اور جب بھی کوئی قرآن کی تلاوت کرتا ہے یا قرآن کی تعلیمات کو اپنے اعمال یا اپنی زندگی میں ڈھالنا چاہتا ہے تو وہ پیغمبر اکرم کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس پوری تاریخ میں حکمائے اسلام نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ خداوند عالم نے قرآن کریم کے تمام معانی و مفاہیم، پیغمبرا کرم کو عطاء کئے ہیں، جن کو انسان بھی حاصل کرسکتا ہے اس لحاظ سے جنہوں نے بعد میں یہ کوشش کی کہ قرآن کے باطنی معانی سے کچھ سمجھ لیں انہوں نے حقیقت میں پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  سے اس کی معرفت حاصل کی ہے۔

قرآن کریم میں پیغمبر اکرم کی جان وروح کے متعلق کچھ آیتیں بیان ہوئی ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلے قرآن کریم وحی کے ذریعہ پیغمبر اکرم کے اوپر نازل ہوا اور بعد میں قرآن تحریری شکل میں وجود میں آیا، اگر قرآن کریم کا متن مسموع لغات سے قابل قیاس ہوتا تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جان ایک نسیم کی طرح ہے جو آواز کو اپنے ساتھ حمل کئے ہوئے ہے، اور وہ اس کو اجازت دیتی کہ انسان بھی اس کو سنتا، پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کی مشہور حدیث کے مطابق کہ آپ نے فرمایا: جب میں اس دنیا سے جائوں گا تمہارے پاس دو گرانبہا چیزیں چھوڑ کر جائوں گا ایک قرآن اور دوسرے عترت۔

اس کے علاوہ ایک روز عائشہ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سوال کیا: آپ کی رحلت کے بعد آپ کی یادوں کو کس طرح باقی رکھا جائے؟ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: قرآئت قرآن کے ساتھ۔

قرآن کریم اور پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے درمیان بہت لطیف رابطہ ہے اور اسی وجہ سے مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے وقت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (کے وجود) کی برکتوں کا احساس کرتے ہیں، بہر حال مسلمان ، قرآن کریم کو خداوند عالم کا کلام سمجھتے ہیں پیغمبر اکرم یا کسی اور کا کلام نہیں سمجھتے۔

 

سنت اور حدیث

پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)  کے کردار کا نام سنت ہے جو کہ خصوصی لحاظ سے آپ کی گفتار (یعنی حدیث) کو بھی شامل ہے ،اسلامی تہذیب و تمدن میں  فقہ سے لیکر ہنراسلامی اور اقتصاد تک قرآن کے بعد سب سے بڑا مرجع و مآخذ سنت ہے۔



1 2 next