اسلامی مذاہب میں اتحادکے اہم نکات- حصه دوم

محمد طاہر اقبالی


اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت” : مرجعیت علمی'' سے مراد وہ مشترک نقطہ ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہیں اور مسلمانوں کے اختلافی مسائل وہاں پر ختم ہوجاتے ہیں، خصوصا اعتقادی اور شرعی مسائل میں اہل بیت (علیہم السلام) قرآن وسنت سے حقائق کو واضح کردیتے ہیں(بی آزار شیرازی، ش ١٨٤، ص ١٤۔ تسخیری، ص ١٣۔ وہی حوالہ،ش ١٧٤، ص ٢٩۔ سبحانی، ص ٢٦۔ ایازی، ش ٣٧۔ ٣٨، ص ٣٣٨) ۔

خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے : اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور رسول کی طرف مراجعہ کرو (سورہ نسائ، آیت ٥٩) ۔ اور ہم نے تمہارے اوپر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے تاکہ تم ان کے اختلاف کو کتاب کے ذریعہ بیان کرو (سورہ نحل، آیت ٦٤) ۔

 

قرآن اور اہل بیت (علیہم السلام) کی علمی مرجعیت

یقینا مدرسہ اہل بیت (علیہم السلام)، تفسیر ، تاویل، قرآن کے معانی و مفاہیم کو بیان کرنے کے میدان میں فرق و مذاہب اسلامی کے تمام مدارس سے برجستہ اوربہتر ہے ۔اس برجستگی کی دلیل یہ ہے کہ اہل بیت ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اور وحی سے متصل رہے ہیں ۔

بحار الانوار اور کافی میں اہل بیت (علیہم السلام) کی مرجعیت کے متعلق بیان ہوا ہے : '' یہ قرآن کی تاویل و تفسیر کے عالم ہیں'' (کلینی، ١٣٨٨ ق، ح١، ص ٢١٣ و مجلسی، ١٣٦٠ش، ص ٨٩ ۔ ٩٩) ۔

١۔  اہل بیت (علیہم السلام) اہل ذکر ہیں:''فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون'' اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے سوال کرو (سورہ نحل، آیت ٤٣) ۔

تفسیر طبری میں جابر جعفی سے نقل ہوا ہے: جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو علی (علیہ السلام) نے فرمایا: '' نحن اھل الذکر'' (طبری، ١٤٢١ ق، ج١٧، ص ٥٩) ۔

حارث نے کہا ہے: ''سالت علیا عن ھذہ الایہ ''فاسئلوا اھل الذکر'' فقال : واللہ انا نحن اھل الذکر، نحن اھل الذکر، نحن اھل الذکر و نحن معدن التاویل و التنزیل'' (حسکانی، گذشتہ حوالہ، ج١، ص ٤٣٢) ۔

٢۔  اہل بیت (علیہم السلام) راسخون فی العلم ہیں: ''وَ ما یَعْلَمُ تَأْویلَہُ ِلاَّ اللَّہُ وَ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَ ما یَذَّکَّرُ ِلاَّ أُولُوا الْأَلْبابِ



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next