اسلامی اتحاد اور مسلم مفکرین

سيد حسين حيدر زيدي


روشن فکر مسلم علماء کی اسلامی اتحاد سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ وہ تمام مذاہب کو ایک مذہب میں حصر کردیں یا تمام مذاہب کے مشترکا ت کو لے لیں اور اختلافات کو چھوڑ دیں(ایسا اتحاد نہ ہی معقول اور منطقی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے)۔ بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ تمام مسلمان اپنے مشترک دشمن کے مقابلہ میں ایک صف میں کھڑے ہوجائیں۔

علامہ امینی:

 تمام مذہب کے عقائد و نظریات مختلف ہیں اوریہ عقاید ،اخوت و برادری کے رشتہ کو (جس کی قرآن کریم نے ”انما المومنون اخوة“ کے ذریعہ سے تصریح کی ہے) کبھی بھی ٹوٹنے نہیں دیتے،چاہے جتنے بھی علمی مباحثے، کلامی اور مذہبی مجادلے انجام دئیے جائیں ۔ سلف صالح ، اصحاب اور تابعین کی بھی یہی سیرت رہی ہے۔

 اسلامی دنیا کے تمام مولفین اور مصنفین اپنے تمام اصول اور فروع میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن پھر بھی ہم لوگوں میں ایک وجہ مشترک پائی جاتی ہے اور وہ خداور پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر ایمان ہے۔ ہم سب کے جسم میں ایک روح اور ایک عاطفہ پایا جاتا ہے اور وہ روح اسلام اور کلمہ اخلاص ہے۔

استاد مرتضی مطہری :

روشن فکر مسلم علماء کی اسلامی اتحاد سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ وہ تمام مذاہب کو ایک مذہب میں حصر کردیں یا تمام مذاہب کے مشترکا ت کو لے لیں اور اختلافات کو چھوڑ دیں(ایسا اتحاد نہ ہی معقول اور منطقی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے)۔ بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ تمام مسلمان اپنے مشترک دشمن کے مقابلہ میں ایک صف میں کھڑے ہوجائیں۔

آیت اللہ سید محمد باقر صدر :

میں نے اپنی پوری عمر شیعہ اور اہلسنت کے اتحادمیں گزاری ہے اورجو پیغام بھی ان کے اتحاد اور ان کو آغوش میں لینے کا سبب بنا ، میں نے اس کی حمایت کی ہے۔ میںجس قدر شیعوں کا بھائی اور فرزند ہوں اسی قدر اہل سنت کابھی بھائی اور فرزند ہوں۔

آپ نے پہلی مرتبہ امام موسی صدر کے ذریعہ اس میدان میں قدم رکھا ، آپ نے ۱۳۴۸ شمسی میں شیخ حسن خالد (لبنان میں اہل سنت کے مفتی) کو خط لکھا تھا اور اتحاد سے متعلق عملی تجاویز پیش کی تھیں، اس خط میں امام سید محمد باقر صدر نے ”شیعہ اور اہلسنت کے درمیان فقہی اتحاد اور اسلامی اعیاد کو ایک کرنے کے سلسلہ میں کہا: ” ان تجاویزکی تحقیق کی جاسکتی ہے کہ روئت ھلال میں نئے علمی طریقے اور چاند دیکھنے کے زاویوں کو افق پر معین کریں اور عید کے روز کو علمی دقت کے ساتھ معین کریں،تاکہ سب مسلمان ایک روز عید مناسکیں ․․․ اور اسی طرح اذان کی ایسی شکل کو پیش کیا جائے جس پر سب متفق ہوں“۔

اس خط کے ایک سال بعد ”مجمع بحوث اسلامی“ قاہرہ کی سالانہ کانفرنس میں اس سلسلہ سے متعلق ایک مدون قانون پیش کیا جس کی وجہ  سے آپ کو اس مجمع میں دائمی عضویت مل گئی ۔ اسی سال آپ نے”المصور“ مجلہ کے انٹرویو میں کہا: ”یہ موضوع (مذاہب کے درمیان اتحاد)، فقہی اتحاد حاصل کرنے کے بعد ممکن ہے اور صرف خالی گفتگو اور مذاہب کے رہبروں کے مذاکرہ سے حاصل نہیں ہوسکتا“۔



1 2 3 4 5 6 next