یمن ،احادیث وروایات کا مرکز

سيد حسين حيدر زيدي


دنیائے اسلام کے حدیثی مراکز میں سے مدرسہ حدیثی یمن ، اہل سنت کا ایک با سابقہ اور تاثیر گذار مرکز ہے جس نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ) کی احادیث کو نقل و منتشر کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا ہے ، اس لحاظ سے یہ مقالہ اس حدیثی مدرسہ کی ہجری کی پہلی دو صدیوں کی تحقیق کرے گا ۔

یمن کی تہذیبی اور جغرافیائی خصوصیات، یمن کے مدرسہ کی پیدائش کی کیفیت، یمن کے محدثین و روات، حدیث کے برجستہ آثار، اور مدرسہ یمن کی بارز خصوصیات یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو اس مقالہ میں بیان کئے گئے ہیں ۔

 

مقدمہ

اہل سنت کی تاریخ حدیث کی ایک شاخ (جس پر آخری چند سالوں میں بہت زیادہ کام ہوا ہے) حدیثی واقعات کا جغرافیائی مطالعہ ہے ۔ اس مطالعہ میں ایک جغرافیائی مرکز کی تحقیق کی جاتی ہے اور اس علاقہ کے حدیثی تحولات پر غور وفکر کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے مطالعات جن کو کسی مدرسہ یا حدیثی مرکز کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے وہ بڑے حدیثی مراکز جیسے مکہ، بصرہ،شام اور قیروان وغیرہ کے متعلق بحث کرتے ہیں ۔

لیکن ایک اہم اور قدیمی مرکزجس نے اہل سنت کے حدیثی تحولات کی تاریخ میں اپنا سکہ جمایا ہے وہ یمن کا مرکز ہے ۔ اس مرکز میں بہت سے شرایط ہونے کی وجہ سے جیسے محدثین اور راویوں کی ایک کثیر تعداد،برجستہ حدیثی آثار و مکتوبات ،مدارس وغیرہ نے اس چھوٹے سے علاقہ کو ایک بہت بڑے حدیثی مدرسہ میں تبدیل کردیا ہے جس کی وجہ سے دوسرے اسلامی علاقوں کے برجستہ محدثین و راوی ، احادیث کو اخذ اور حفظ کرنے کیلئے اس شہر کی طرف آتے تھے ۔یمن کی تہذیبی اور جغرافیائی خصوصیات، یمن کے مدرسہ کی پیدائش کی کیفیت، یمن کے محدثین و روات، حدیث کے برجستہ آثار، اور مدرسہ یمن کی بارز خصوصیات یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو اس مقالہ میں بیان کئے گئے ہیں ۔س لحاظ سے یہ مقالہ اس حدیثی مدرسہ کی ہجری کی پہلی دو صدیوں کی تحقیق کرے گا ۔

 

١۔  یمن کا مختصر تعارف

الف :  یمن نام رکھنے کی وجہ

یمن کے نام کی علت کے بارے میں علماء کے دمیان اختلاف ہے ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ ایک شخص کے نام سے لیا گیا ہے جو اس سرزمین پر زندگی بسر کرتا تھا اور وہ شخص ایک قول کی بناء پر حضرت ہود(علیہ السلام)کے فرزند'' قحطان بن عابر'' تھے ، یمن کے قبائل کا نسب بھی انہی کی طرف پلٹتا ہے(شیبانی ١٣٩١، ج١، ص ٣١) ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next