شہروں کے بسنے اور ان کے ناموں کی تبدیلی میں اسلامی تہذیب کا کردار

سيد امجد علي زيدي


اسلام فقط جزیرة العرب میں ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس نے جزیرة العرب کے باہر بھی سماج کی سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی زندگی کی تبدیلی میں عمدہ کردار ادا کیا، حقیقت میں اسلامی آئیڈیولوجی، نے تہذیب اور تمدن کو شکوفا کرنے کی راہیں ہموار کی اس طرح دیہاتوں او شہروں میں لوگوں کی زنگی کے مختلف پہلووں میں انقلاب برپا کردیا۔ کتنی جگہیں ایسی تھیں کہ جو اسلام کے ظہور اور پھیلاؤکے بعد تبدیل ہوگئیں گویا ان کو نئی زنگی مل گئی ہو، کتنے ایسے القاب ہیں کہ جن کو اسلامی تہذیب نے بہت سے مقامات کو عطا کئے جیسے زیارتگاہ، امامزادہ، شہید، پیر، قدمگاہ وغیرہ۔

یہ تمام چیزیں ان جگہوں کے نام رکھنے میں اسلام کی تاثیر کا پتہ دیتی ہیں، ہم نے دوسرے مقالہ میں ان مقامات کی طرف اشارہ کیا ہے جو ایران میں مشہد کے لقب سے ملقب ہیں(۱) اس مقالہ میں ہماری غرض یہ ہے کہ ہم اسلام کی تاثیر کو عمارتوں کی طرز، آبادیوں کو القاب دینے اور ان کے نام رکھنے میں جستجو کریں۔

مجموعی طور پر آبادیوں کی تہذیب میں سلام کی تاثیر کو چند مجموعوں میں تقسیم کرتے ہیں:

الف: اسلام کے جدید شہر جو اسلام ہی سے مخصوص نہیں تھے بلکہ عالمگیر تھے اور یہ عالمگیری شہروں ہی کے اندر تھی اور ان ہی سے وسعت پائی، اسلام کی ترقّی کی تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی وجہ سے بڑے بڑے شہر وجود میں آئے کہ جنھوں نے ہر حیثیت سے اسلام کے مرکزی شہروں کو سربلند کیا، ان کے علاوہ دوسرے چھوٹے بڑے شہر بھی اسلام کے قلمرو میں داخل ہوئے(۲) مجموعی طور پر وہ شہر جو اسلام کے زمانے میں بنائے گئے، دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

۱۔ وہ شہر کہ جن کی پیدائش کا سبب زیارتگاہ یا اُن میں اسلام کے بزرگ پیشواؤں کی قبور کا واقع ہونا تھا، جیسے مشہد، کربلا اور نجف اشرف ان جیسے شہروں میں زیارتگاہ یا روضہ کا وجود، شہر کا قلب اور اس کی پہچان کا ذریعہ اور اس کے پھیلنے کا سبب سمجھا جاتا ہے، ایسے شہروں میں مختلف زیارت گاہیں شہر کے نقشے میں اُبھرتی ہیں اور عمومی طور پر پورے شہر کو اپنی طرف جلب کرتی ہیں ایسی زیارتگاہیں عموماً شہر کے مرکز میں واقع ہوتی ہیں اور اس کے چاروں طرف شہر کا دوسرا حصہ ہوتا ہے جو تقریباً زیارتگاہ سے مساوی فاصلے پر ہوتا ہے(۳)

اس طرح شہر کے عمدتاً شیعوں کی طرف سے بنائے جاتے تھے اور یہ حکومت کے خلاف کام کرتے اور حکومت کو پریشانیوں اور مشکلات میں مبتلا کرتے تھے، اسی طرح کے شہروں میں کربلا کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے، یہ سزمین سن ۶۱/ ہجری تک ایک بے آب وگیاہ بیابان تھا لیکن امام حسین علیہ السلام  کی شہادت کے بعد تدریجاً یہاں پر شیعہ آباد ہونے لگے اور آج یہ شہر دینا کے مہم شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، ”اخبار طوال“ میں کربلا کے متعلق اس طرح بیان ہوا ہے: حر اور اس کا لشکر امام حسین علیہ السلام کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور آپ کی پیش قدمی سے مانع ہوا اور کہا: آپ یہیں پر اتریں کیونکہ یہ علاقہ نہر فرات سے نزدیک ہے، امام نے فرمایا: اس اس زمین کوکیا کہتے ہیں؟ جواب دیا: کربلا، آپ نے فرمایا: یہ سرزمین مصیبتوں کی سرزمین ہے میرے والد بزرگواربھی جنگ صفین کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے اور میںبھی ان کے ساتھ تھا انھوں نے پوچھا تھا کہ اس کا کیا نام ہے، جب نام بتایاگیا تو انھو نے فرمایا تھا کہ یہ سرزمین میرے بیٹے حسین کی منزل گاہ اور اس کے خون بہانے کی جگہ ہے، جب ان سے اس بات کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا: محمد مصطفی کے خاندان کا ایک گروہ یہاں پر وارد ہوگا، اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے حکم دیا یہیں پر خیمے نصب کئے جائیں، یہ محرم ۶۱/ ہجری کا بدھ کا دن اور پہلی محرم تھا اور آپ دس محرم کو شہید ہوئے(۴) اس شہر کے ایجاد کرنے میں آپ کے مرقد مطہر کا توسعہ سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔

۲۔ وہ شہر جو اسلامی دوران میں بنائے گئے لیکن ان کے وجود کا سبب اسلام کے بزرگ پیشواؤں کی قبور اور زیارتگاہ نہیں تھا البتہاسلام کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں وجود میں آئے، اسلام کے بعد سب سے پہلے جو شہر وجود میں آئے وہ ایسے شہر تھے جو اسلامی فوجی چھاؤنی اور مہاجرین کی پناہ گاہ کے لئے بنائے گئے تھے، ان میں بہت سے شہر پہلے تو چھوٹے تھے، بعد میں بڑے ہوتے چلے گئے اور دیکھتے دیکھتے انھوں نے بڑے شہروں کی جگہ لے لی، قاہرہ کو انھیں شہروں میںشمار کیا جاسکتا ہے ، یہ شہر پہلے تو دریائے نیل کے کنارے قسطاط نام سے چھاؤنی کے طور پر بنیا گیا تھا، یونانی اور لاتین میں چھاؤنی کو fassatnou (وہ جگہ جو خندق سے محاصرہ کی گئی ہو) کہتے ہیں(۵) آج قسطاط قاہرہ سے ۵/۲ کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے نیل کے داہنی کنارے واقع ہے اور یہ قاہرہ کے بڑے محلوں میں شمار ہوتا ہے، اس شہر کا بانی عمروبن عاص فاتح مصر ہے(۶)

دوسرا شہر بصرہ ہے جو عمربن خطّاب کے زمانے میں بنایاگیا اس کے تین سال بعد سن ۱۵ یا۱۷/ میں کوفہ سعد بن ابی وقاص کے ہاتھوں بسایا گیا(۷)، سن ۱۷ مطابق ۶۳۹ عیسوی میں بغیر کسی شک وتردید کے کوفہ کا وجود عربوں کی عراق کے اوپر فتح کا پتہ دیتا ہے اور شہروں کے بنانے کایہ سلسلہ مسلمانوں کا عراق کے اوپر پوری طرح مسلط ہونے کے بعد شروع ہوا، ساسانیوں کی بچی کھچی طاقت کو ایران کے بیابانوں کے طرف دھکیل کر جلولا اور مدائن کو فتح کیا اس طرح انھوں نے پورے ”سواد“ پر قبضہ کرلیا،اس کے بعد ان کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ فتح شدہ شہروں کے اطراف میں ایک جگہ دارالہجرہ کے نام سے بنائی جائے تاکہ وہاں مہاجرین پناہ گزین ہوسکیں اور وہ دشمن کے مقابلے کے لئے فوجی چھاؤنی بن سکے(۸) اسلام کے بعد وجود مےں آئے سات بڑے شہروں میں ”رملہ“ کا چوتھا مقام ہے، شہر ”رام الله“ اموی دوران خلافت کے دوسری صدی ہجری میں خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (۹۹۔۹۷ھ ق) کے زمانے میں تاسیس ہوا یہ شہر بیت المقدس سے دریا کی طرف جانے والے راستے پر واقع ہے، مسلمانوں کے نزدیک بیت المقدس کی اہمیت کے علیٰ رغم یہ جدید شہر تھوڑی ہی مدت میں ایک مہم شہر بن گیا اور اس کا شمار فلسطین کے بڑے شہروں میں شمار ہونے لگا، کہا جاتا ہے کہ” رام الله“ کا پرانا نام ”راملہ“ یا ”آرملہ“ تھا(۹) پانچواں شہر عراق کا واسط شہر اس کو حجاج نے سن ۸۳ یا ۸۴ میں احمد بن یحییٰ کے قول کے مطابق بنایا تھا، اس نے اس شہر میں ایک مسجد، محل اور سبز گنبد بنائی اور چونکہ یہ جگہ پہلے نے زار تھی لہٰذا اس کو ”واسط النصب“ کا نام دیا گیا، چھٹا شہر مدینة السلام ہے اس کی تاسیس ابو جعفر منصور دوانقی کی طرف منسوب ہے (ابوجعفر کا مدینہ) بغدا د کے مغرب میں سن ۱۴۵ھ ق میں بننا شروع ہوا اور ۱۴۶ ھ ق میں مکمّل ہوا اس کو مدینة السلام کا نام دیا گیا، ساتواں شہر ”سُرَّمَن رای“ ہے جس کو خلیفہ معتصم عباسی نے بنایا(۱۰) ان میں سے بہت سے شہر، پرانے شہروں کے پاس بطور قلعہ اور فوجی چھاؤنی کے لئے بنائے گئے تاکہ اسلامی مقاصد میں کام آسکیں۔

اسلام کی کی وسیع حکومت بہت سے جدید شہروں کے ایجاد کا بھی سبب بنی، ان میں سے بغداد کو خلفاء عباسی کی سیاست اور روحانیت کے مراکز کے بطور پیش کیا جاسکتا ہے، جیہانی ”اشکال العالم“ میں لکھتا ہے: بغداد اسلام کا نیا شہر ہے یہاں پر کوئی عمارت نہیں تھی ، ابوجعفر منصور دوانقی نے اس کو دجلہ کے کنارے اپنے ہوالی موالی اور خادموں کے لئے بنایا اس کے بعد اس میں عمارتیں بنائیںگئیں، اس کے بعد مہدی عباسی نے دجلہ کے مشرق میں اپنی فوجی چھاؤنی بنائی اور دارالخلافہ کو یہاں پر منتقل کیا(۱۱) دوسری صدی ہجری میں مراکش کے فاس کے شہر اور تیسری صدی ہجری میں فققاز کے گنجہ کے شہر کو آباد کرنے کی بھی نسبت مسلمانوں کی طرف دی جاتی ہے۔

ب: وہ آبادیوں کا مجموعہ جو ابتدا میں مسلمانوں کے ہاتھوں تو نہ بنایا گیا لیکن مرور ایام کے ساتھ دینی پیشواؤں کا مدفن ہونے کی وجہ سے پھیلتا چلا گیا مسلمانوں نے اس کی آبادی کو بڑھایا اور اکثر کا بھی نام بدل دیا، اس کا واضح نمونہ ایران کے مازندران صوبے میں واقع آستانہ اشرفیہ کا شہر اور مرکزی صوبے میں واقع شہر آستانہ قرار پاسکتے ہیں۔



1 2 3 4 next