پرمسرت بہار

سيد حسين حيدر زيدي


جمہوری اسلامی ایران کے نظام میں علمائے شیعہ اور اہل سنت کے نظریات کے احترام،ایجاد اتحاد، اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارگی اور محبت قائم کرنے کیلئے ۱۲ ربیع الاول سے ۱۷ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت کا اعلان ہواہے اور پوری دنیا کے مسلمان اس ہفتہ کا احترام کرتے ہیں۔

ماہ ربیع الاول ، ہجری قمری تاریخ کا تیسرا مہینہ اوراس کا شمار مشہور مہینوںمیں ہوتا ہے اوریہ تاریخ اسلام کے مقدرکو بنانے والا مہینہ ہے ،اس مہینہ میںبہت سے اہم واقعات اور حادثات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے انسان کی تقدیر کو بدل دیا ہے ، اس وجہ سے یہ مہینہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اس کو ایک خاص نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اگر چہ ربیع الاول میں دوسرے تمام مہینوں کی طرح سے بہت سے تلخ و شرین اور افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں ، لیکن ان کے باوجود شیعوں کے نزدیک بہترین واقعات کی وجہ سے اس مہینے کے ایام کو پرمسرت اوردلنواز جانا گیا ہے۔

لہذا ہم اس مقالہ میں صدر اسلام کے چند یادگار اورباعث سرور واقعات کو بطور خلاصہ عرض کریں گے :

۱۔  پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی ولادت با سعادت

۲۔  حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی حضرت خدیجہ(سلام اللہ علیہا)کے ساتھ شادی

۳۔  پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی ہجرت

 

۱۔  پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ)کی ولادت با سعادت

 خداوند عالم کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت ۱۷ ربیع الاول کو ہوئی آپ کے والدماجد کا نام عبداللہ بن عبدالمطلب اور والدہ کا نام آمنہ بنت وہب تھا، آپ کے چہرہ کے جمال نے دنیا خصوصا سعودی عرب کو منور کردیا۔

آپ کے والدماجد عبداللہ آپ کی ولادت سے پہلے قریش کے بزرگ افراد کے ساتھ بغرض تجارت شام کی طرف تشریف لے گئے تھے اور اورشام سے واپسی پر یثرب (مدینہ منورہ) میں مریض ہوئے اور وہیں پر آپ کی وفات ہوگئی اورآپ کو اپنے نوزادفرزند کا دیدار نصیب نہ ہوسکا۔



1 2 3 4 5 next