حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کی سیرت کے بعض نمایاں پہلو

سيد حسين حيدر زيدي


حضرت فاطمہ زہرا (علیہاالسلام)، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حضرت خدیجة الکبری (سلام اللہ علیہا) کی بیٹی ہیں اور زہراء ، صدیقہ، طاہرہ، مبارکہ، زکیہ، راضیہ، محدثہ اور بتول آپ کے القاب ہیں۔

اکثر شیعہ اور اہلسنت مورخین نے آپ کی ولادت با سعادت کی تاریخ کوبعثت کے پانچویں سال ،بیس جمادی الثانی کومکہ مکرمہ میں معتبر جاناہے ، بعض مورخین نے بعثت کے تیسرے سال اور بعض نے بعثت کے دوسرے سال آپ کی ولادت کی تاریخ بیان کی ہے ، ایک اہلسنت مورخ اور محدث کا خیال ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت بعثت کے پہلے سال ہوئی ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ تاریخ کی کسی شخصیت کی ولادت یاوفات کے روز کو واضح کرنا تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن شخصیت کو بیان کرنے کے اعتبار سے اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ، بلکہ جو چیز زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس نے بشریت اور تاریخ میں کیسا کردار ادا کیا ہے ۔

حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کی پرورش ، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی آغوش اور خانہ نبوت میں ہوئی ، یہ وہ گھرانہ ہے جس میں وحی اور آیات قرآنی  نازل ہوتی تھیں۔

جس وقت مکہ میں مسلمانوں کا سب سے پہلا گروہ خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت پر ایمان لایا اور اپنے ایمان پر باقی رہا ، اس سال پور ے عرب اور پوری دنیا میں یہ تنہا ایسا گھر تھا جس سے ” اللہ اکبر“ کی آواز بلند ہوئی ۔ اور حضرت زہرا (س) مکہ کی سب سے کمسن بچی تھیں جو اپنے اطراف میں ایسے جوش و خروش دیکھ رہی تھیں، آپ اپنے گھر میں اکیلی تھیں، اور بچپنے کی زندگی کو تنہائی میں گذار رہی تھیں ۔

شاید اس تنہائی کا راز یہ تھا کہ آپ بچپنے ہی سے اپنی ساری توجہ کو جسمانی ریاضت اور روحانی تربیت کی طرف مجذوب کردیں۔ حضرت زہرا (علیہا السلام)، حضرت امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے شادی کے بعد پوری دنیا میں نمونہ خاتون کی حیثیت سے افق عالم پر چمکیں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی دختر گرامی جس طرح ازدوا ج کے مراحل میں سب کے لئے نمونہ اور اسوہ عمل تھیں اسی طرح اپنے پروردگار کی اطاعت میں بھی نمونہ تھیں۔

جب آپ گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی تھیں تو عبادت میں مشغول ہوجاتی تھیں، نماز پڑھتیں،دعا کرتیں،خداکی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتیں اور دوسروں کے لئے دعائیں کرتی تھیں، امام صادق(علیہ السلام) اپنے جد امجد حضرت امام حسن بن علی (علیہ السلام) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: میری والدہ گرامی شب جمعہ کو صبح تک محراب عبادت میں کھڑی رہتی تھیں اور جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتیں تو باایمان مردوں اور عورتوں کے لئے دعا فرماتیں، لیکن اپنے لئے کچھ نہیں کہتی تھیں، ایک روز میں نے سوال کیا: اماں جان ! آپ دوسروں کی طرح اپنے لئے کیوں دعائے خیرنہیں کرتیں؟ آپ نے کہا: میرے بیٹے ! پڑوسیوں کا حق پہلے ہے ۔ وہ تسبیح جو حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کے نام سے مشہور ہے ، شیعہ اور اہل سنت کی مشہور ، معتبر کتابوں اور دوسری اسناد میں موجود ہے اورسب کے نزدیک مشہور ہے ۔

 

حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) کا کسب علم

حضرت فاطمہ (علیہاالسلام) نے شروع ہی سے وحی الہی کے سرچشمہ سے علم حاصل کیا ، جن اسرار و رموز کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) حضرت فاطمہ زہرا (س) کے لئے بیان فرماتے تھے حضرت علی علیہ السلام ان کو تحریر فرماتے اور حضرت فاطمہ (س) ان کو جمع فرماتیں جو مصحف فاطمہ کے نام سے ایک کتاب کی شکل میں جمع ہوگئی ۔

 



1 2 3 next