مذہب اشعری اور معتزلہ میں تبدیلیاں

سید حسین حیدر زیدی


 

ابوالحسن اشعری نے چوتھی ہجری کے شروع میں مذہب معتزلہ کے خلاف قیام کیا اور اپنے کلامی نظریات کو منتشر کرنا شروع کیا ،انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں مشاہدہ کیا کہ ان کے بہت سے شاگر ان کے گرد جمع ہوگئے ہیں اور وہ ان کے نظریات کو اہل حدیث کی ظاہرگرائی اور معتزلہ کی عقل گرائی کے مقابلہ میں پناہ گاہ کے عنوان سے تعریف کرتے ہیں ۔

ابوالحسن اشعری نے چوتھی ہجری کے شروع میں مذہب معتزلہ کے خلاف قیام کیا اور اپنے کلامی نظریات کو منتشر کرنا شروع کیا ،انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں مشاہدہ کیا کہ ان کے بہت سے شاگر ان کے گرد جمع ہوگئے ہیں اور وہ ان کے نظریات کو اہل حدیث کی ظاہرگرائی اور معتزلہ کی عقل گرائی کے مقابلہ میں پناہ گاہ کے عنوان سے تعریف کرتے ہیں ۔ اس وجہ سے کہا جاسکتا ہے : مکتب اشعری خود اس کے موسس کے سامنے تاسیس ہوگیا اور اسی روز سے اس مذہب کی مخالفتیں بھی شروع ہوگئیں ۔

دوسروں سے پہلے معتزلیوں نے ان کی مخالفت شروع کی کیونکہ یہ اپنے مذہب کے دیرینہ شاگرد سے ناراض تھے ۔ ان کے علاوہ اہل حدیث اور حنبلیوں نے بھی ان کی مخالفت کی اور کہا : یہ نیا آدمی کون ہے جو معتزلہ سے دوری اختیار کرتے ہوئے بھی اس بات کی جرائت نہیں کرتا کہ کم یا زیادہ دینی نصوص و ظواہر سے استناد کرے؟

دوسری طرف جب اشعری بصرہ اور بغداد میں دینی عقاید کی اصلاح کررہے تھے ، اسی وقت سمرقند (اسلامی سرزمین کے مشرق میں واقع ہے)میں ابومنصور ماتریدی (متوفی ۳۳۳) نے اشعری سے مشابہ نظریات کے ساتھ ظہور کیا، اور اس کے نزدیکی شاگردوں نے مذہب اشعری کو ایک ناقص اورناموفق اصلاح کے عنوان سے شمار کیا اور ان کے مذہب کو محافظ اور ابن الوقت سے متہم کیا اوروہ عقاید ماتریدی سے دفاع کرتے تھے کیونکہ ماتریدی کو اہل تسنن کا احیاء کرنے والا سمجھتے تھے ۔

۲۔  سیاسی تبدیلیاں اور مذہب اشعری کا سرکاری ہونا

سیاسی نقطہ نظر سے سلجوقیوں(تقریبا پانچویں صدی کے نصف میں) کو حکومت ملنے تک مکتب اشعری کی اچھی حالت نہیں تھی کیونکہ ان سے پہلے ایک صدی سے زیادہ (۳۲۱ ۔ ۴۴۷) آل بویہ نے حکومت کی ، آل بویہ کی حکومت کے دوران معتزلہ اچھی حالت میں تھے اور اشاعرہ کی حالت بہت زیادہ خراب تھی ، کیونکہ آل بویہ ایک طرف تو مذہب شیعہ کی پیروی کرتے تھے اور معتزلہ سے دفاع کرتے تھے اور دوسری طرف ان میں سے بعض اہل علم و فضل و ادب ، آزاد اندیشی سے دفاع کرتے تھے ۔ اس وجہ سے دربار آل بویہ میں مکتب شیعہ اور مکتب معتزلہ نے زیادہ رونق پائی ۔ ابن العمید اور اسی طرح صاحب بن عباد، آل بویہ کے دانشمند وزیر اشعریوں کے مخالف تھے ۔

سلجوقیوں کو حکومت ملنے کے بعد اشعریوں کی حالت بھی بدل گئی اور مذہب اشعری کو اہل سنت کے درمیان ایک ممتاز مقام مل گیا کیونکہ سلجوقی وزیر نظام الملک(متوفی ۴۸۵) نے حکم دیا کہ بغداد اور نیشاپور کے دونوں مدرسوں میں مذہب اشعری کے مطابق تعلیم دی جائے ۔اس کے بعد سے اشعری مذہب ، اہل سنت کا قانونی مذہب شمار ہونے لگا ، اشاعرہ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مخالف کلامی فرقوں سے جنگ کرنا شروع کریا ۔

ان کی مخالفت کی وجہ کلامی نظریات کے علاوہ سیاسی علت بھی تھی کیونکہ بعض جگہوں پر جہاں ان کے مخالف بعض حکومتوں کی حمایت کررہے تھے وہیں وہ ان کی مدافع حکومتوں سے جنگ بھی کررہے تھے ۔

ہانری کورین فرانسوی نے غزالی کی مخالفت کے سلسلہ میں باطنیان اور فلاسفہ سے کہا ہے :



1 2 3 4 5 6 7 next