تفرقہ سے پرہیزاور اتحاد کی ضرورت

سید حسین حیدر زیدی


 

اوس و خزرج کے دو قبیلہ میں سو سال سے زیادہ اختلاف رہا اور ان قبیلوں میں جنگ و خونریزی جاری رہی ، یہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کو قتل کردیتے تھے اور ایک دوسرے کی جان اور مال پر حملہ کرتے رہتے تھے ۔ مدینہ ہجرت کے بعدپیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی  بڑی کامیابیوں میں سے ایک کامیابی یہ تھی کہ آپ نے اسلام کے ذریعہ ان دونوں قبیلوں کے درمیان صلح و صفائی قائم کردی اور اس اتحاد کے ذریعہ مدینہ میں ایک بہترین طاقت وجود میں آگئی ۔

الف :  وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا وَ اذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ اٴَعْداء ً فَاٴَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَاٴَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْواناً وَ کُنْتُمْ عَلی شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَاٴَنْقَذَکُمْ مِنْہا کَذلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمْ آیاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (سورہ آل عمران، آیت ۱۰۳)

اور اللہ کی ر سّی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور تم جہّنم کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں نکال لیا اور اللہ اسی طرح اپنی آیتیں بیان کرتا ہے کہ شاید تم ہدایت یافتہ بن جاؤ ۔

ب  :  إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَاٴَصْلِحُوا بَیْنَ اٴَخَوَیْکُمْ وَ اتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (سورہ حجرات، آیت ۱۱۰) ۔

مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے ۔

آیات کے پیغام

۱۔  تفرقہ سے پرہیز اور اتحاد قائم کرنا الہی وظیفہ ہے ۔

۲۔  اتحاد کی وجہ سے بھائی چارگی پیدا ہوتی ہے ” فاصبحتم بنعمتہ اخوانا “۔

۳۔  اتحاد خداوند عالم کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے ۔



1 2 3 4 5 next