رسول اکرم کا طریقہ حکومت – پهلا حصه

سید حسین حیدر زیدی


موجودہ صدی کے اہم مسائل میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکومت کا سیاسی اور اداری نظام کا مسئلہ موضوع بحث رہا ہے ، ۔بعض حضرات کا یہ نظریہ ہے کہ بنیادی طور پر رسول اکرم (ص) کی حکومت کاکوئی  مخصوص اداری اور سیاسی نظام تھا ہی نہیں، اس نظریہ کے مختلف پہلوؤ ں  (خصوصا کلامی نکتہ نظر ) سے جوابات دیے گئے ہیں ، البتہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)  کے سیاسی اور اداری نظام کے عینی شواہد پیش کئے گئے ہوں، مقالہ نگار ان لوگوں میں سے ہے، جو رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ترقی یافتہ اور مکمل اداری نظام کے موجود ہونے پر یقین رکھتا ہے ۔ اس یقین اور عقیدہ کو ثابت کرنے کیلیے  پیغمبر اکرم (ص) کے اداری نظام کے طریقہ کار کو ملحوظ رکھا ہے اور آنحضرت (ص) کی سیاسی تاریخ کے صفحات میں غور و خوض اور کدوکاوش کے ذ ریعہ مضبوط اور مستحکم اداری نظام کے نمونہ پیش کئے ہیں ۔  یہ تحریر مختصر طور پر اداری نظام کے ایک مہم ترین رکن، اسلام کی نظر میںرکنیت کی تلاش کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔افرادی قوت کے ذرائع ۔

 ہر اداری نظام کے مختلف ارکان ہوتے ہیں ان ہی میں سے ایک رکن عضویت کی تلاش ہے علم مدیریت سے آشنا حضرات اس رکن کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:  (انسانوں میں کدو کاوش کا کام اور شائستہ اشخاص کی پہچان اور ان کو ادارے میں ذمہ داری سنبھالنے کی تشویق اور ترغیب دلانا)(۱)

 سرورکائنات (ص) کی حکومت میں عضو کی تلاش سے ہماری مراد لازمی طور پر ہوبہو مندرجہ بالاتعریف کے مطابق نہیں ہے، اس لیے کہ ممکن ہے اس زمانے کی جو اطلاعات ہم تک پہونچی ہیں ، ان میں اس قسم کا فعل و انفعال اور تاثر ہمارے مشاہدے میں نہ آسکے ، البتہ ہم اسکے وجود سے بھی انکار نہیں کر تے اور چہ بسا اس دور میں مذکورہ مفاہیم پر عمل در آمد کرنے کی صلاحیت ہی نہ پائی جاتی ہو لہذا س بنیاد پر ان  انسانی ذرائع سے آشنا کرانا  ہماری مراد ہے جن سے رسول اکرم (ص) اپنی حکومت کی ضرورت کو پورا کرتے تھے ۔

اس منبع اور ذراوئع کی شناخت ہمارا تعاون اور مدد کرے گی تاکہ ہم  رکن کو تلاش کرنے اور انسانی منبع و مآخذ کے لیے ایک معیار کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہو سکیں اور اسلامی حکومت کے اداروں کے مدیر اور سرپرست حضرات ہر زمانے اور ہر نسل میں ان ہی معیار کے مطابق عضو کی تلاش کریں ۔

ان حالات میں رسول اکرم (ص) کے یہاں افرادی قوت کے کے ذراوئع و ماخذ یہ تھے:

۱۔ عرب اور عجم  کے نسلی ذرائع۔

۲۔مقامات جیسے مکہ،مدینہ، اور یمن۔

۳۔ قبیلہ جیسے قریش

۴۔اہمیت اور فوقیت کامنشاء جیسے مہاجرین، انصار، اور تابعین

۵۔ مقامی ہونا۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next