رسول اکرم کا طریقہ حکومت – دوسرا حصه

سيد حسین حیدر زیدی


 

۴۔  اقدار کا منشا

الف۔مہاجرین

مہاجرین سے مراد وہ فدا کار لوگ ہیں جنہوں نے صدر اسلام میں پیغمبر اکرم کے ساتھ یا آنحضرت کے بغیر مکہ سے مدینہ یا شعب ابوطالب(علیه السلام) یا حبشہ کی طرف ہجرت کی اور قرآن مجید میں خود ان کی اور ان کے عمل کی مدح ہوئی بیان هوئی ہے ۔ہجرت کی اہمیت اور قدر و قیمت کی لئے یہی کافی ہے کہ امیرا لمومنین (علیه السلام) جب معاویہ یا دوسرے لوگوں کی طرف خط لکھتے ہیں تو ان متعدد خطوط میں ہجرت کا اپنی حقیقی فضیلت کے عنوان سے تذکرہ کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر فرماتے ہیں : (سبقت الی الایمان والہجرة) (۴۴)یا ارشاد فرماتے ہیں :(لیس المہاجر کالطلیق) (۴۵) ۔

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حکومتی عہدہ دار بلکہ اصحاب اور تربیت یافتہ لوگوں میں زیادہ تعداد مہاجرین کی تھی، جنگ بدر میں ابن ہشام کی بیان کردہ تعداد کے مطابق ۸۷ ،اشخاص مہاجر تھے ۔(۴۶) جنگ بدر سے پہلے ،حملہ کی اطلاع اور معلومات کے فرائض مہاجرین ہی انجام دیتے تھے ۔چونکہ انصار نے پیغمبر اسلام  کی حفاظت کا معاہدہ فقط مدینہ کے اندر کے لئے کیا تھا مدینہ سے باہر کے لئے نہیں ،(۴۷)پیغمبر اکرم کی جانب سے اکثر ذمہ داریاں مکی یا قریشی یا بنی ہاشم یا ذی القربی ٰ کے عنوان سے جن لوگوں کو سپرد کی گئی تھی انہوں نے ہجرت بھی کی تھی ،البتہ مولفة القلوب جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے یا بعض لوگ جیسے رسول خدا کے چچا عباس، جو ہجرت کرنے سے معذور تھے ۔لہذا ہجرت کو قرآن کے لحاظ سے بھی اور رسول اللہ کی نظر میں بھی ایک اہمیت اور یقینی فوقیت کا درجہ حاصل ہے ۔یعنی ارکان کا انتخاب کرنے میں مہاجرین کو فوقیت حاصل ہے ۔اب رہا یہ سوال کہ اس وقت مہاجر کا مصداق کون ہے تو اس سلسلہ میں مفسرین اور مجتہدین کے درمیان اختلاف ہے اور دو قول ہیں :پہلا قول:فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہو گئی ،دوسرا قول: جب تک کفر باقی ہے ہجرت بھی باقی ہے یعنی جب تک کفر رہے گا ہجرت بھی جاری رہے گی ۔(۴۸)

پہلے قول کی دلیل رسول اسلام کی یہ حدیث ہے ،آپ نے ارشاد فرمایا :(لا ہجرة بعد الفتح) اور یہ کہ فتح مکہ کے بعد ،مکہ دارالکفر سے دارالایمان میں بدل گیا ہے ۔اب مکہ سے مدینہ آنے کا مطلب ہجرت نہیں ہے ۔(۴۹)اور دوسرے قول کی دلیل یہ ہے کہ ہجرت سے مراد دارا لکفر سے دار الایمان کی طرف ہجرت کرنا ہے فقط مکہ سے مدینہ جانا مقصد نہیں ہے اور صاحب جواہر کے دعوے کے مطابق اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے(۵۰) ۔

ہم کہتے ہیں کہ ہجرت حقیقت اور مجاز کی طرح نہیں ہے کہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کو حقیقی ہجرت اور باقی کو مجازی سمجھیں جیسا کہ صاحب جواہر نے اسی قسم کا تصور کیا ہے بلکہ ہجرت کے ایک کلی اور جامع معنیٰ ہیں جس کا مطلب برائیوں سے دور ہو کر اچھائیوں کی طرف جانا ہے اور اس کے مصداق          بھی موجود ہیں ۔اس کا واضح مصداق وہی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہے لیکن فقط وہی مصداق نہٰں ہے جیسا کہ روایت میں بھی آیا ہے :(المہاجر من ھجر نفسہ)(۵۱) اور (تعرب بعد الہجرة)یعنی ہجرت کے بعد عرب ہونے کو ایک گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور شاید دوسرے الفاظ میں یہ مرتد ہونا ہو اور اس کا مصداق ہو جن مصداقوں کا صاحب تذکرہ اور محقق کرکی یا دوسرے حضرات نے تذکرہ کیا ہے اور شہید نے بھی کتاب روضہ میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ (۵۲) اور ہم نے بھی ان میں سے ایک مصداق کی جانب “شہر میں رہنے والوں کی طرف رجحان “کے معیار کے ذیل میں اشارہ کیا ہے ۔

لہذا گناہ و جہالت سے بہر کیف دورہوکر کمالات و دینداری کی طرف آنا ،مسامحہ اور مجاز کے بغیر ہجرت شمار ہو سکتا ہے ۔کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کو بھی ہجرت جانتے ہیں ۔کیا یہاں پر بھی دارالکفر سے دارالایمان کی طرف ہجرت ہے یا دار الکفر سے دار الکفر کی طرف ہجرت ہے؟لہذا رسول خدا کے زمانے سے ہی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کے علاوہ بھی ہجرت کا مصداق موجود تھا ۔جیسا کہ شعب ابو طالب کا بھی یہی مطلب ہے ۔

بہر حال کلی طور پر ہجرت ایک فضیلت ہے جسے بزرگ حضرات دوسروں کے سامنے پیش کرتے تھے ۔امام سجاد (علیه السلام) شام میں دیئے گئے اپنے مشہور خطبہ میں اپنے باپ دادا کے افتخار اور فضیلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے ا رشاد فرماتے ہیں :(و ھاجر الہجرتین )(۵۳)

نماز جماعت میں بھی وہ لوگ مقدم ہیں جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہے ۔کیا نماز جماعت فقط صدر اسلام سے مخصوص ہے جو  پہلے ہجرت کرنے والوں کا مقدم ہو نا اسی زمانے کا معیار ہو جاتا ۔نماز جماعت ہمیشہ کے لئے ہے لہذا نتیجہ میں پہلے ہجرت کرنے والوں کا مقدم ہونا بھی ہمیشہ کے لئے ہے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next