ترجمه دعائے جوشن صغیر



بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

یہ دعا معتبر کتابوں میں جوشن کبیرسے زیادہ مفصل شرح کے ساتھ نقل کی گئی ہے ۔کفعمیۺ نے بلد الامین کے حاشیہ پر فرمایا ہے کہ یہ دعا انتہائی رفیع الشان اورعظیم المنزلت ہے۔جب بنی عباس  کے بادشاہ موسیٰ ہادی نے امام موسیٰ کاظم(ع)کو قتل کرنے کے ارادہ سے طلب کیا توآپ نے اس دعا کی تلاوت کی اور پیغمبر اسلام کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارہے تھے کہ تم مطمئن رہو تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا۔یہ دعا سید بن طاوٴس ۺکی مہج الدعوات میں بھی نقل کی گئی ہے اگر چہ دونوں کے نسخے میں قدرے اختلاف ہے ۔ہم بلد الامین کفعمیۺ کے مطابق اس دعا کو نقل کر رہے ہیں ۔ 

خدا یا میرے کتنے ہی دشمن ہیں جنھوں نے عداوت کی تلوار کو کھینچ لیا ہے اور چھری کی دھار کو تیز کرلیا ہے ۔تبر کی نوک نکال لی ہے اور زہر قاتل تیا رکر لیا ہے ۔اپنے تیروں کا رخ میری طرف سیدھا کر دیا ہے اور ان کی نگہبانی کی آنکھ سوتی نہیں ہے ۔اور ان کا منشا دلی یہ ہے کہ مجھے ہر برائی میں مبتلا کر دیں اور ہر تلخ گھونٹ پلا دیں لیکن جب تو نے دیکھا کہ میں سختیوں کو بر داشت کرنے میں کمزرو ہوں اور ارادہٴ جنگ رکھنے والوں کے انتقام سے عاجز ہوں اور دشمنوں کے نرغہ میں اکیلا ہوں ۔اور ان کے بارے میں وہ تیاری نہیں کر سکتا جو انھوں نے میرے بارے میں کر لی ہے تو تونے اپنی طاقت سے میری تائید کی اور اپنی امداد سے میری ہمت کو مضبوط بنا دیا۔دشمنوں کی دھار کو کند کر دیا اور ان کو سازوسامان کے باوجود رسوا کر دیا میرے پاوٴں کو ان سے بلند کر دیا اور جن مکاریوں کا رخ انھوں نے میری طرف کر دیا تھا انھیں ،انھیں کی طرف یوں پلٹا دیا کہ وہ نہ اپنی پیاس بجھا سکے اور نہ اپنے غیظ و غضب کی گرمی کو سرد بنا سکے غصہ سے اپنی انگلیوں کو کاٹتے رہے اور اس عالم میں منھ پھیر کر چل دیئے کہ ان کے لشکر مد ہوش رہ گئے ۔ لہٰذا تیرا شکر ہے اے پروردگار جو ایسا قادر ہے کہ مغلوب نہیں ہوتا ہے اور ایسا حلیم ہے کہ جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد و آل محمد  پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دےدے ۔خدایا کتنے ہی باغی ہیں جنھوں نے مکاری سے مجھ پر ظلم کیا اور اپنے شکار کے جال میرے لئے پھیلا دیئے اور مسلسل میرے حالات کی نگرانی کرتے رہے اور میرے طرف رخ کرکے اس طرح سمٹ کر بیٹھ گئے جیسے درندہ اپنے شکارکے لئے بیٹھتا ہے اور موقع کا انتظار کرتا رہتا ہے ۔پھر اس کے بعد بھی وہ خوشامدی کی مسرت کا اظہار کررہے تھے اور کشادہ پیشانی کا مظاہرہ کر ہے تھے لیکن جب تونے دیکھا یہ اندر سے مکاری کر رہے ہیں اور اپنے شریک مذہب کے لئے بھی برے جذبات چھپائے ہوئے ہیں اور ظلم کے لئے طاقت جمع کر رہے ہیں تو تونے انھیں منھ کے بل جھکا دیا اور اس کی نبیادوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔،ان کو انھیں کی کمین گاہ میں پچھاڑ دیا اور انھیں کے کھودے ہوئے گڑھے میں گرادیا ۔جہان رخساروں پر پیروں کی خاک جم گئی اور انھیںایسی بیماری اور فقیری میں مبتلا کر دیا کہ ان کو انھیں کے پتھر کا نشانہ بنادیا اور انھیں کے رسی کا پھندہ گلے میں ڈال دیا ۔انھیں تیروں سے مارا اور ناک کے بل گرادیا ۔ان کے مکر کو انھیں کی گردن میں ڈال دیا اور انھیں ندامت میں گرفتار اور حسرت میں مبتلا کر دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی نخوت کے باوجود کمزور ہو گئے اور پھیل جانے کے بعد بھی سکڑ گئے۔ذلت کے ساتھ اسی رسی میں گرفتار ہوئے جس میں مجھے گرفتار دیکھنا چاہتے تھے ۔اور اگر تیری رحمت نہ ہوتی تو قریب تھا کہ میں بھی انھیں مصائب میں مبتلا ہو جاتا ۔اب تیرا شکر ہے اے پروردگار کہ توا یسا صاحب قدرت ہے جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور ایسا بردبار ہے کہ جلدی نہیں کرتا ہے۔خدایا محمد و آل محمد  پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گذاروںاور احسانات کو یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا کتنے ہی حاسد ہیں جن کا حسد انھیں کے گلو گیر ہوگیا اور کتنے ہی دشمن ہیں جنھوں نے جو اپنے ہی غیظ و غضب مین اپنی زبان کی تیزی سے مجھے تکلیف پہنچائی اور اپنے گوشہٴ چشم سے میرے طرف غلط اشارے کئے ۔مجھے تیروں کا نشانہ بنایا اور میرے گلے میں برائیوں کاہارڈال دیا ۔ایسے وقت میں اے پروردگار میں نے تجھے پناہ کے لئے پکارا اس اعتماد کے ساتھ تو فوراً سن لے گا اور میں تیرے اس دفاع پر بھروسہ کئے ہوئے تھا جو برابر دیکھتا رہا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ جو تیرے سایہٴ عاطفت میں آجائے گا وہ مغلوب نہیں ہوسکتا ہے اور جسے تیری مدد کی پناہ گاہ مل جائے گی اسے حوادث کھڑ کھڑا نہیں سکتے ہیں ۔تونے اپنی قدرت کے ذریعہ مجھے دشمن کے شر سے بچالیا ۔لہٰذا اے مالک تیری حمد ہے کہ تو وہ صاحب قدرت ہے جو مغولب نہیں ہوتا ہے اور وہ حلیم ہے جو عجلت نہیں کرتا ہے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرمااور مجھے اپنی نعمتوں کے شاکرین اور اپنی رحمتوں کے ذاکرین میں شمار فرما ۔خدایا کتنی ہی برائیوں کے بادل تھے جنھیں تونے صاف کر دیا اور کتنے ہی نعمتوں کے آسمان تھے جنھیں تونے برسا دیا کتنی ہی کرامتوں کی نہریں تھیں جنھیں جاری کردیا اور کتنے ہی حوادث چشمے تھے جن کا منھ بند کر دیا اور کتنے ہی جاری رہنے والے امور مقدر کر دیئے جنھیں تو طلب کرے تو تیرے ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہیں اور تو بلائے تو انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ لہٰذا تیرا شکر ہے اے صاحب قدرت پروردگار جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور صاحب علم مالک جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد و آل محمد  پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں کے شاکرین اور اپنے احسانات کے ذاکرین میں قرار دیدے ۔خدایا کتنے ہی حسنِ ظن تھے جنھیں تونے سچ کر دکھایا ہے اور کتنے ہی غربت کے توڑ تھے جنھیں تونے جوڑ دیا ہے۔خطرناک غربت کو بدل دیا ہے اور ہلاکت خیز خطروں سے بچالیا ہے اور مشقتوں سے مطمئن بنادیا ہے۔ تیرے عمل کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوسکتی ہے ۔اور باقی سب سے سوال کیا جائے گا۔ تیری عطا سے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے اور اسی سے جب تجھ سے مانگا گیا تو تونے دیدیا اور جب نہیں مانگا گیا تونے اس کو عطاکردیا۔ تیرے فضل وکرم کے دروازہ پر آواز دی گئی تو تونے بخل نہیں کیا ۔تونے کبھی انعام ،احسان،کرم اور فضل کے علاوہ کچھ نہیں کیا اور مجھ نالائق نے اس کے علاوہ اور کچھ نہ کیا کہ تیرے محرمات کی پاسداری نہ کی۔معصیتوں پر جراٴت پیدا کر لی ۔حدود سے تجاوز کیا، عذاب سے غفلت برتی اور اپنے اور تیرے مشترک دشمن کی اطاعت کر تا رہا مگر اس کے بعد بھی اے میرے پروردگار اور مددگار میری ناشکری نے بھی تجھے احسانات کی تکمیل سے نہیں روکا اور نہ یہ احسان مجھے گناہوں کے ارتکاب سے روک سکا۔خدایا تیرے سامنے وہ بندہٴ ذلیل کھڑا ہے جو تیری توحید کا بھی معترف ہے اور تیرے حقوق کی ادائیگی میں تقصیر کا بھی اقرار کررہاہے اور خود اس بات کا گواہ ہے کہ تیری نعمتیں اس پر مکمل ہیں اور تیری عادتِ احسان مسلسل باقی ہے ۔لہٰذا اے میرے مالک و پروردگار مجھے اپنے فضل سے وہ سب کچھ دیدے جو میں تیر ی رحمت کی راہ میں چاہتا ہوں اور جس کو زینہ بنا کر میں تیری مرضی تک پہنچ جاوٴں اور تیرے عذاب سے محفوظ ہو جاوٴں اور اپنے عزت و کرم اور اپنے پیغمبر محمد  کے حق کے طفیل میں ساری حمد تیرے ہی لئے ہے اے وہ خدائے قادر جو مغلوب نہیں ہوتاہے اور وہ مالک حلیم جو عجلت نہیں کرتا ہے محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمت کا شکر کرنے والوں میں اور اپنے احسانات کو یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا تیرے کتنے ہی بندے ہیں جو صبح و شام موت کے کرب اور جاں کنی کے گھرے میں مبتلا ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ جس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل لرز جاتے ہیں ۔اور میں ان تمام باتوں کی طرف سے مکمل عافیت میں ہوں۔لہٰذا تیرا شکر ہے اے خدائے قادر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور اے مالک حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور احسانات کے یادرکھنے والوںمیں قرار دیدے ۔خدایا تیرے کتنے ہی بندے ہیں جو بیماریوں اور درد میں مبتلا ہو کرنا لہ و فریاد کررہے ہیں۔جو غم میں کروٹیں بدل رہے ہیں۔اور کوئی چھٹکارہ نہیں پارہے ہیں ۔نہ کھانا اچھا لگتاہے اور نہ پانی اور میں تیرے کرم سے بدن کی صحت اور زندگی کی سلامتی میں ہوں۔لہٰذا تیرا شکر ہے۔اے مالک قدیر کہ جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور خدائے حلیم جو عجلت نہیں کرتا ہے ۔محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے نعمتوں کے شکرگذاروں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قراردیدے ۔خدایا کتنے ہی بندے ہیں جو صبح و شام خوفزدہ ،مرعوب،لرزاں،مبتلائے دہشت،آوارہ وطن،تنگیوں اور گوشوں میں زندگی گذار رہے ہیں جہاں زمین وسعتوں سمیت تنگ ہوگئی ہے اور نہ کوئی تدبیر ہے ،نہ پناہ گاہ اور نہ ہی منزل نجات ہے اور میں ان تمام مصیبتوں سے امن و عافیت اور سکون و اطمینان میں ہوںلہٰذا تیرا شکر ہے اے خدائے عزیز جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور مالک حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا کتنے ہی بندے ہیں جن کی صبح و شام زنجیروں اور لوہے کے طوق و سلاسل میں دشمنوں کے ہاتھوں گذررہی ہے کسی کو رحم بھی نہیں آتا ہے اور اہل و عیال سے دور بھی ہیں اور وطن و اہل وطن سے جدا بھی ہوئے ہیں ۔ہر آن یہ انتظار ہے کہ کس طرح قتل کیا جائے گا اور کیسے جسم کے ٹکڑے کر دیئے جائیں گے لیکن میں ان تمام باتوں کی طرف سے عافیت میں ہوں لہٰذا تیرا شکر ہے اے خدائے قدیر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور اے مالک حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے محمد و آل محمد  پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور اپنے احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا تیرے کتنے ہی بندے ہیں جو صبح و شام جنگ وجدال کی تکلیفوں کو جھیل رہے ہیں ۔دشمنوں نے چاروں طرف سے تلواروں ،نیزوں اور آلات جنگ سے گھیر لیا ہے اور آہنی لباس میں بھی پریشان حال ہیں کہ انتہائی کوشش کے بعد بھی کوئی بچنے کا طریقہ اور بھاگنے کا راستہ نہیں ہے زخموں سے چور ہیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے اپنے ہی خون میں تڑپ رہے ہیں ۔آرزو ہے کہ ایک گھونٹ پانی مل جائے یا ایک نظر اپنے اہل و عیال کو دیکھ لیں مگر یہ بھی ان کے اختیار میں نہیں ۔اور میں ان تمام باتوں کی طرف سے عافیت میں ہوں۔لہٰذا تیری حمد ہے اے پرودرگار قادر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور اے خدائے علیم جو عجلت نہیں کرتا ہے محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں کے شکرگذاروں میں اوراحسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا کتنے ہی بندے ہیں کہ جن کی صبح و شام سمندروں کی تاریکیوں ،ہواوٴں کے تیز جھکڑوں اور ہولناک موجوں کے درمیان گذررہی ہے کہ ہر آن یہ امید رہتی ہے کہ کب غرق اور ہلاک ہوجائیں گے اور بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے یا پھر بجلی کے گرنے کامکان  گرنے ،آگ کے لگنے ۔لقمہ کے گلو گیر ہوجانے ،زمین کے دھنس جائے،صورت کے بگڑ جانے اور سنگسار ہوجانے کے خطرات میں مبتلا ہیں اور میں ان سب کی طرف سے عافیت میں ہوں ۔لہٰذا تیری حمد ہے اے خدائے قدیر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور اے مالک حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے۔ خدا یا کتنے ہی بندے ہیں جن کی صبح و شام اس مسافرت میں ہوتی ہے جس میں اہل و عیال سے دور یا صحراوٴں میں حیران جانورں و درندوں کے درمیان پریشان یکہ و تنہا رہتے ہیں کہ جہاں نہ بچنے کا کوئی حیلہ ہے اور نہ راستہ یا سردی و گرمی ،بھوک اور عریانی جیسے مصائب میں مبتلا ہیں جن سے میں بالکل خالی اور عافیت میں ہوں۔لہٰذا تیر شکر ہے اے پروردگار قدیر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور اے خدائے حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی نعمتوں کے شکر گذاروں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے ۔خدایا کتنے ہی بندے ہیں جن کی صبح و شام فقیری ،ناداری،برہنگی میں گذرتی ہے۔ جہاں تنگی معاش سے لرزتے رہتے ہیںاور ہر ایک کی طرف سے نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔بھوک پیاس میںاس انتظارمیں رہتے ہیں کہ کوئی ان پر احسان کر دے یا ایسے بندہ بھی ہیں کہ تیرے نزدیک مجھ سے زیادہ وجیہ ہیں اور مجھ سے زیادہ عبادت گذار ہیں لیکن ان کی گردنوں میں طوق ہیں اوران پر تنگدستی ،شدت بندگی،زحمت غلامی اور ٹیکس کا بوجھ لدا ہوا ہے ۔یا ایسی بلا میں مبتلا ہیں جن کا سامنا تیرے احسان کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔مگر میں تیرے کرم سے صاحب نعمت ،صاحب عافیت ،محترم اور خادموں کا مخدوم ہوں لہٰذا اے پروردگار تیرا شکر ہے کہ تو وہ قدیر ہے جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور وہ حلیم ہے جو عجلت نہیں کرتا ہے ۔محمد وا ٓل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی نعمتوں کے شکر گذار وں اور احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے۔خدایا کتنے ہی بندے ہیں جو صبح و شام بیماری اور درد میں مبتلا رہتے ہیں بستر بیماری پر لباس بیماری میں داہنے بائیں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ۔نہ کھانے کا مزہ ملتا ہے نہ پینے کا اپنے نفس کو حسرت سے دیکھتے ہیںلیکن اسے فائدہ یا نقصان کچھ نہیں پہنچا سکتے ہیں اور میں تیرے کرم سے ان تمام باتوں سے محفوط ہوں لہٰذا تیرے علاوہ کوئی خدانہیں ہے ۔تو قادرو بے نیاز ہے جو مغلوب نہیں ہوتا ہے اور خدائے حلیم ہے جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد وا ٓل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے عبادت گذاورں ،اپنی نعمت کے شاکروںاور اپنے احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے اور ہم پر رحمت نازل فرما اے سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے۔اے میرے مولا و آقا کتنے ہی بندوں کی صبح و شام اس عالم میں ہوتی ہے کہ موت کا دن قریب آگیا ہے۔ ملک الموت نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے بیمار موت کی سختیوں کو جھیل رہا ہے ۔کبھی داہنے دیکھتا ہے کبھی بائیں۔دوست احباب اعزہ سب پر حسرت سے نگاہ کرتا ہے مگر نہ بات کرنے کی اجازت ہے اور نہ خطاب کرنے کی۔اپنے ہی نفس کو حسرت سے دیکھتا ہے اور کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتاہے۔اور میں تیرے فضل وکرم سے ان تمام باتوں سے محفوظ ہوں۔تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ۔تو خدائے بے نیاز و قدیر ہے جو کسی سے مغلوب نہیں ہوتا ہے اور ایسا حلیم ہے کہ جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور ہم کو اپنے عبادت گذاروں،اپنی نعمت کے شاکروں اور اپنے احسانات کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے اور اپنی رحمت سے مہربانی فرما۔اے بہترین رحمت نازل کرنے والے خدا یاکتنے ہی بندہ ہیں جن کی صبح و شام قید خانہ کی تنگیوں، رنج و غم اور لوہے کی زنجیروں میں گذرتی ہے۔جہاں قید خانہ کے ذمہ دار اور نگراں انھیں کروٹیں بدلوارہے ہیں اور یہ نہیں معلوم ہے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے اور کس طرح انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔وہ زندگی کی تکلیفوں اور حیات کی تنگیوں میں یوں جی رہے ہیں کہ اپنے نفس کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں اور کوئی فائدہ یا نقصان نہیںپہنچا سکتے ہیں حالانکہ میں تیرے فضل و کرم سے ان تمام باتوں سے عافیت میں ہوں ،تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔ اے قدیر وبے نیاز جو کسی سے مغلوب نہیں ہوتا ہے اور مالک حلیم جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔حمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے عبادت گذاروںاور اپنی نعمتوں کے شاکرین اور اپنے احسانات کو یاد رکھنے والوں میںقرار دیدے اوراپنی رحمت سے مہربانی فرمااے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔میرے مالک میر ے پروردگار کتنے ہی بندے ہیں کہ جن کی صبح و شام اس احالت میں ہوتی ہے کہ ان پر حکم قضا جاری ہو چکا ہے اور بلاوٴں نے انھیں گھیر لیا ہے احباب مخلصین سے جدا ہوئے ہیں اور کفار کے ہاتھوں میں اسیری، حقارت اور ذلت کی زندگی گذاررہے ہیں اور دشمن انھیں داہنے بائیں کروٹیں بدلوارہے ہیں ۔تاریکی ٴ زنداں میں قید کر دیئے گئے ہیں اور زنجیروں میں جکڑ دیئے گئے ہیں ۔نہ دنیا کی روشنی دکھائی پڑتی ہے اور نہ راحت و آرام ۔اپنے ہی نفس کو حسرت سے دیکھتے ہیں اور فائدہ یا نقصان نہیں پنچا سکتے ہیں لیکن میں تیرے فضل وکرم سے ان تمام باتوں سے محفوظ ہوں۔لہٰذا تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ۔تو وہ خدائے قدیر ہے جو کسی سے مغلوب نہیں ہوتا ہے اور وہ حلیم و بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا ہے ۔محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور اپنے عبادت گذاروں اور اپنی نعمت کے شاکروں اور اپنے احسانات کے یادر کھنے والوں میں قرار دیدے ۔اور مجھے پر اپنی رحمت سے مہربانی فرما اے سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے ۔خدا یا تیری عزت وجلال کی قسم میں تیری نعمتوں کا مطالبہ بھی کروں گا اور اصرار بھی کروں گا۔تیری طرف ہاتھ بھی بڑھاوٴں گاحالانکہ یہ ہاتھ مجرم ہیں مگر کیا کروں ،کس سے پناہ مانگوں ،کس کے سایہ میں جاوٴں۔میرے پاس تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔تو مجھے کیسے پلٹادے گا جب کہ تجھ پر ہی میرا اعتماد اور بھروسہ ہے میں تجھ سے اس اسم گرامی کے واسطہ سے سوال بھی کررہاہوں جسے آسمانوں پر رکھ دیا گیا ہے تو ٹھہر گئے اور زمین پر رکھ دیا گیا تو قرارآگیا اور پہاڑوں پر رکھ دیا تو استحکام پیدا ہوگیا۔ رات پر رکھا تو تاریک ہوگئی اور دن پر رکھا تو روشن ہوگیا ۔محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور میری تمام حاجتوں کو پورا کردے۔ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو معاف کردے ۔رزق میں وسعت عطا فرما کہ جس کے ذریعہ مجھے دنیا و آخرت کے شرف تک پہنچا دے۔اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔خدایا میں تجھ سے طالب امداد ہوں تو محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرما اور میری امداد فرما۔میں طالب پناہ ہوں مجھے پناہ دیدے ۔مجھے اپنی اطاعت کے ذریعہ بندوں کی اطاعت سے بے نیاز بنادے اور اپنی بارگاہ میں سوال کے ذریعہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے بچالے مجھے فقیری کی ذلت سے بے نیازی کی عزت تک اور معصیت کی ذلت سے اطاعت کی عزت تک پہنچادے ۔کہ تونے اپنے جود وکرم سے بہت سی مخلوقات سے افضل قرار دیا ہے کہ جس کا میں قطعاً مستحق نہیں تھا۔خدا یا ان تمام باتوں پر تیری حمد ہے۔ محمد وآل محمد  پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی رحمت کے شکر گذاروں اور رحمتوں کے یاد رکھنے والوں میں قرار دیدے۔میرا ذلیل چہرہ تیرے عزیز و جلیل چہرہ کے سامنے اور میرا بوسیدہ وفانی چہرہ تیرے دائم و باقی چہرے کے سامنے ہے ۔میرا فقیر چہرہ تیرے غنی وکبیر چہرہ کے سامنے سجدہ گذار ہے۔اس سجدہ میں میرا چہرہ ،میرے کان ،میری آنکھیں ،میرے گوشت پوست ،میرا خون ،میری ہڈیاں اور میرا سارا وجود شامل ہے جو رب العالمین کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے۔خدایا میرے جہل پر اپنے علم سے اور میرے فقر پر اپنی بے نیازی سے ،میری ذلت پر اپنی عزت سے ،میری کمزوری پراپنی قوت سے،میرے ضعف پر اپنے امن و امان اور میرے گناہوں اور میری خطاوٴں پر اپنے عفو و کرم سے نگاہ مرحمت فرما ۔اے خدا ئے رحمان و رحیم خدایا ،میں فلاں شخص کے شر کو تیرے ذریعہ دفع کرناچاہتا ہوں اور تیری پناہ میں آنا چاہتاہوں لہٰذا میرے لئے ویسے ہی کافی ہو جا جیسے اپنے انبیاء ،اولیاء اور نیک بندوں کے لئے ان کے دور کے فرعون اور اپنے سرکش دشمنوں اور بد ترین مخلوقات کے شر کے مقاابلہ میں کافی ہو گیا ہے اپنی رحمت کے سہارے اے بہترین مہربانی کرنے والے یقینا تو ہر شئی پر قادر ہے اور میرے لئے میرا خدا ہی کافی ہے جو بہترین کفیل اور ذمہ دار ہے ۔

دعائے سیفی صغیر المعروف بہ دائے قاموس

شیخ بزرگوار ثقة الاسلام نوری طاب ثراہ نے صحیفہ ثانیہٴ علویہ میں اس دعا کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ارباب طلسمات و تسخیر کے کلمات میں ا س دعا کی عجیب و غریب شرح ہے اور اس کے عجیب وغریب آثار کا ذکر کیا گیا ہے مگر چونکہ مجھے ان لوگوں کے بیان پر اعتماد نہیں ہے لہٰذا میں نے ان آثار کا ذکر نہیں کیا ہے البتہ علماء علام کی تاٴسی میں دعا کو نقل کیا جا رہا ہے۔

بنام خدائے رحمان رحیم

پروردگار مجھے اپنے درایائے احدیت کی گہرائیوں میں داخل کردے اور اپنے احدیت کے طوفان میں غرق کر دے ۔مجھے اپنی یکتائی کی طاقت و سطوت کے ذریعہ قوت عنایت فرما۔تاکہ میں تیری فضائے رحمت تک نکل آوٴں اس طرح کہ میرے چہرے پر تیری رحمانیت کے آثار اور تقرب کی روشنی چمک رہی ہو اور مجھ میں تیری ہیبت سے خوف پیدا ہوجائے ۔میں تیری عنایت سے صاحب عزت اور تیرے کرم سے صاحب کرامت ہو جاوٴں تیری تعلیم اور تیری پاکیزگی کی بنا پر ۔مجھے عزت اور قبولیت کا لباس عنایت فرما اور میرے لئے اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستے آسان کردے۔میرے سرپر کرامت اور وقار کا تاج رکھ دے اور میرے اور میرے چاہنے والوں کے درمیان دنیا اور آخرت میں الفت پیدا کردے ۔اپنے اسمائے الٰہی کے نور سے مجھے ہیبت و سطوت عنایت فرماجس کی بنا پر قلوب اور ارواح میرے لئے مطیع ہوجائیں اور نفوس اور اجسام میرے سامنے خاضع ہو جائیں ۔اے پروردگار جس کے سامنے جابروں کی گردنیں جھک گئی ہیں اور جس کی بارگاہ میں بڑے بڑے بادشاہ سرنگوں ہوگئے ہیں جس سے ہٹ کر کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور نہ تیرے علاوہ کوئی مدد کرنے والا ہے اور نہ تیرے علاوہ کسی پر بھروسہ ہو سکتا ہے ۔خدایا مجھ سے حاسدوں کے مکر کو اور دشمنوں کے شر کو دور کردے۔مجھ پر رحم فرما اور مجھے سر ا پردہٴ عرش کے نیچے جگہ دے۔اے بہترین کرم کرنے والے ۔میرے ظاہر کی تائید فرما اپنی مرضی کو حاصل کرنے کے لئے اور میرے باطن کو نورانی فرمادے تاکہ میں تیری بارگاہ کے راستوں کی اطلاع حاصل کر سکوں ۔خدایا میں تیری بارگاہ سے ناامید کس طرح جا سکتا ہوں جب کہ میں بڑے اعتماد کے ساتھ واردوہوا ہوں اور تو مجھے اپنی عطا سے کس طرح مایوس کر دے گا جب کہ تونے خود دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور اب میں تیر ی طرف آرہا ہوں تیری پناہ لینے کے لئے ۔میرے دشمنوں کے درمیان دوری پیدا کردے جس طرح میرے دشمنوں کے درمیان اختلاف پیدا کیا ہے ۔ان کی نگاہوں کو خیرہ کر دے اپنے نو ر قدس اور اپنے جلال بزرگی کی بنا پر ۔اس لئے کہ تو وہ پروردگار ہے جو عظیم عطاکرنے والا ہے ۔اپنے ہر مناجات کرنے والے کے لئے اپنی رحمت کی مہربانیوں کے ذریعہ اے حی اے قیوم ،اے صاحب جلا ل و اکرام ۔اللہ ہمارے آقا اور پیغمبر حضرت محمد اور ان کی آل طیبین و طاہرین پر رحمت نازل فرمائے۔

دعائے توسل

علامہ مجلسی ۺ نے فرمایا ہے کہ بعض معتبر کتابوں میں محمد بن بابویہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے دعاء توسل کو ائمہ علیہم السلام سے روایت کیاہے اور کہا ہے کہ میں نے اس کو کسی معاملہ میں نہیں پڑھا مگر یہ کہ اس کی قبولیت کا اثر بہت جلدی پایا اور وہ دعایہ ہے ۔



1 next