ترجمه دعائے جوشن کبیر



بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

یہ دعا بلد الا مین اور مصباح کفعمی ۺ میں نقل کی گئی ہے اور اس کی روایت امام زین العابدین علیہ السلام سے ان کے پدر بزگوار کے حوالے سے پیغمبر اسلام  سے نقل کی گئی ہے کہ اس دعا کو جبرئیل امین کسی جنگ کے موقع پر پیغمبر اسلام  کی خدمت میں لائے تھے جب آپ کے جسم پر ایک وزنی زرہ تھی جس سے آپ خستہ حال ہو رہے تھے تو جبرئیل نے عرض کیا کہ پیغمبر! پروردگار آپ کو سلام کہلواتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس جوشن کو اتاردیں اور اس دعا کو پڑھیں جو آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے امن وامان کا وسیلہ ہے ۔اس کے بعد ان حضرت نے اس دعا کے بے شمار فضائل نقل کئے ہیں جن کے نقل کا یہ موقع نہیں ہے ۔ان میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اس دعا کو اپنے کفن پر لکھ لے تو پروردگار فرماتا ہے کہ مجھے اس بندے پر عذاب کرتے ہوئے حیاء آتی ہے اور جو شخص بھی اس دعا کو خلوص کے ساتھ ماہ رمضان کی پہلی رات میں پڑھ لے پروردگار اسے شب قدر کی توفیق عنایت کرتاہے اور اس کے لئے ستر ہزار فرشتے خلق کرتا ہے جو اس کی طرف سے تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں اور اسے ثواب ملتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ روایت میں یہ بھی ہے اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں اسے تین مرتبہ پڑھ لے تو پروردگار اس کے جسم پر جہنم حرام کر دیتا ہے اور جنت اس کے لئے لازم قرار دے دیتا ہے اور دو ملک معین کر دیتا ہے جو اسے زندگی بھر گناہوں سے بچاتے رہیں اور امن وامان میں رکھیں ۔آخر روایت میں ہے کہ امام حسین(ع)نے فرمایا کہ مجھ سے میرے پدر بزرگوار نے اس دعا کو حفظ کرنے کی وصیت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ اسے کفن پر لکھاجائے اور اپنے اہل وعیال کو اس کی تعلیم دی جائے اور اس کے پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے ۔اس دعا میں پروردگار کے ہزار نام ہیں جن میں اسم اعظم بھی ہے۔

موٴلف:ان دونوں روایتوں سے دوباتوں کا استفادہ ہوتا ہے (۱)اس دعاکا کفن پر لکھنا مستحب ہے جیسا کہ علامہٴ بحرالعلوم نے اپنی کتاب درہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

(۱)خدایا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلہ سے طلب کرتا ہوں اے اللہ اے مہربان اے دائمی مہربانی کرنے والے اے کریم اے ہمیشہ رہنے والے اے صاحب ِعظمت اے خدائے ازلی اے علیم ودانا اے حلیم وبردبار اے صاحب حکمت اے پاکیزہ صفات جس کے علاوہ کوئی خدانہیں فریاد ہے ۔فریاد ہمیں آتش جہنم سے آزاد کردے اے پروردگار (۲)اے آقاوٴں کے آقا اے دعاوٴں کے قبول کرنے والے اے درجات کو بلند کرنے والے اے نیکیوں کے مالک اے خطاوٴں کے بخشنے والے ۔اے مطلوبات کے عطا کرنے والے ۔اے توبہ کے قبول کرنے والے اے آوازوںکے سننے والے۔ اے پوشیدہ امور کے جاننے والے ۔اے بلاوٴں کے دفع کرنے والے ۔(۳)اے بہترین بخشنے والے ۔اے بہترین آغاز کرنے والے ۔اے بہترین مدد کرنے والے ۔اے بہترین فیصلہ کرنے والے۔اے بہترین زرق دینے والے ۔اے بہترین وارث۔اے بہترین تعریف کرنے والے ۔اے بہترین یاد کرنے والے ۔اے بہترین نازل کرنے والے ۔اے بہترین احسان کرنے والے ۔(۴)اے وہ جس کے قبضے ہیں عزت و جمال ہے ۔اے وہ جسکے ہاتھوں میں قدرت وکمال ہے۔ اے وہ جس کے لئے ملک وجلال ہے ۔اے وہ جو بزرگ و بلند تر ہے ۔اے وہ جو بوجھل بادلوں کا موجد ہے۔ اے وہ جس کی طاقت مضبوط تر ہے ۔اے وہ جو بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔اے وہ جو بہت سخت عذاب کرنے والا ہے۔ اے وہ جس کے پاس بہترین ثواب ہے اور اے وہ جس کے پاس علم کتاب ہے ۔(۵)خدایا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ۔اے مہربان اے احسان کرنے والے ۔اے جزا دینے والے ۔اے دلیل روشن ۔اے صاحبِ سلطنت۔اے عین رضا۔اے صاحبِ مغفرت ۔اے پاکیزہ صفات ۔اے مددگار۔ اے صاحبِ احسان وبیان۔(۶)اے وہ جس کی عظمت کے سامنے ہر شئی سر جھکائے ہوئے ہے ۔اے وہ جس کی قدرت کے لئے  ہر شئی سرپا تسلیم ہے اے وہ جس کی عزت کے لئے ہر شئی ذلیل ہے ۔اے وہ جس کی ہیبت کے سامنے ہر شئی خاضع ہے ۔اے وہ جس کے خوف سے ہر شئی محو اطاعت ہے اے وہ جس کے خوف سے پہاڑ شق ہوجاتے ہیں۔اے وہ جس کے امر سے آسمانوں کا قیام ہے ۔اے وہ جس کے اذن سے زمینوں کا قرار ہے ۔اے وہ جس کی حمد سے رعد کی تسبیح ہے ۔اے وہ جو اپنے اہل مملکت پر کسی طرح کا ظلم نہیں کرتا ہے ۔(۷)اے خطاوٴں کے معاف کرنے والے ۔اے بلاوٴں کے دور کرنے والے ،اے امیدوں کی آخری منزل ۔اے عظیم عطیہ عطاکرنے والے اے ہدایا دینے والے ۔اے مخلوقات کے روزی دینے والے ۔اے موت کا فیصلہ کرنے والے ۔اے فریادوں کے سننے والے ۔اے مخلوقات کے دوبارہ اٹھانے والے ۔اے قیدیوں کے آزاد کرنے والے ۔(۸)اے حمد و ثنا کے مالک ۔اے بزرگی اور بلندی کے مالک ۔اے صاحبِ بزرگی و بلندی ۔اے عہدو وفا کے مالک ۔اے عفو اور رضا کے صاحب اختیار ۔اے احسان و عطایا والے ۔اے صاحب فضل وکرم اور فیصلہ کرنے والے ۔اے عزت و بقا کے مالک ۔اے جو د وکرم کے پروردگار ۔اے نعمتوںاور رحمتوں کے مالک۔(۹)خدایا میں تیرے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اے روکنے والے ۔اے دفع کرنے والے ۔اے درجات کے بلند کرنے والے ۔اے ایجاد کرنے والے۔ اے فائدہ دینے والے ،اے فریادوں کے سننے والے ،اے جمع کرنے والے ۔اے معاف کرنے والے ۔اے صاحب ِوسعت اور اے وسعت دینے والے ۔(۱۰)اے ہر مصنوع کے صانع اے ہر مخلوق کے خالق ۔اے ہر مرزوق کے رازق۔اے ہر مملوک کے مالک اور ہر رنجیدہ کے رنج کو دور کرنے والے ۔اے ہر مہموم کے ہم وغم کو دور کرنے والے ۔اے ہر قابل رحم پر رحم  کرنے والے ۔اے ہر لاوارث کے مددگار ۔اے ہر معیوب کی عیب پوشی کرنے والے ۔اور ہر ٹھکرئے ہوئے کی پناہ گاہ ۔(۱۱)اے سختیون میں میرے سہارے ۔اے مصیبتوں میں میری امید ۔اے وحشت میںمونس ۔اے غربت کے ساتھی۔اے نعمتون میں میرے مالک اے رنج و غم کے فریاد رس ۔اے مہربانی کے رہنما ۔اے فقر وفاقہ کے وسیلہٴ بے نیازی۔اے اضطراب میں میری پناہ گاہ ۔اے رنج و غم میں میرے مددگار ۔(۱۲)اے ہر غیب کے جاننے والے اے ہر گناہ کے بخشنے والے ۔اے ہر عیب کے پردہ پوش ۔اے ہر رنج کے دور کرنے والے ۔اے دلوں کو پلٹ دینے والے ۔اے دلوں کے علاج کرنے والے ۔اے دلوں کو روشن کرنے والے ۔اے دلوں کے مونس ۔اے ہم وغم کے دفع کرنے والے ۔اے رنج وغم میں سکون بخشنے والے۔ (۱۳) خدایا میں تجھ سے تیرے ہی ناموں کے وسیلہ سے دعاکرتا ہوں ۔اے جلیل ۔اے جمیل اے ذمہ دار ،اے کفالت کرنے والے ۔اے رہنما ،اے ساتھی اے حکومت بخشنے والے اے عطیہ دینے والے ،اے لغزشوں سے بچانے والے ،اے طاقت دینے والے ۔(۱۴)اے متحیر افرا دکے رہنما ۔اے فریادیوں کے فریاد رس۔اے نالہ و شیون کرنے والوں کے مددگار ۔اے پناہ کے طلبگاروں کے پناہ بخش۔اے خوفزدہ لوگوں کے امان دینے والے ۔اے صاحبان ایمان کے مددگار ۔اے مسکینوں پر رحم کرنے والے ۔اے گنہگاروں کو پنادینے والے ۔اے خطاکاروں کے بخشنے والے ۔اے بیکسوں کی دعاوٴں کے قبول کرنے والے ۔(۱۵)اے صاحبِ جود و احسان۔اے صاحبِ فضل وکرم۔اے مالک امن وامان۔اے صاحبِ قدس و پاکیزگی۔ اے صاحبِ حکمت و بیان۔اے صاحبِ رحمت و رضوان۔اے صاحبِ دلیل و برہان ۔اے صاحبِ عظمت و سلطنت ۔اے صاحبِ رحمت و اعانت۔اے صاحبِ عفو ومغفرت۔(۱۶)اے ہر شئی کے پروردگار ۔اے ہر شئی کے معبود ۔اے ہر شئی کے خلق کرنے والے ۔اے ہر شئی کے ایجاد کرنے والے ۔اے ہر شئی کے پہلے رہنے والے۔اے ہر شئی کے بعد رہ جانے والے ۔اے ہر شئی سے بلند تر اے ہر شئی کے جاننے والے ۔اے ہر شئی پر قدرت رکھنے والے۔اے ہر شئی کی فنا کے بعد باقی رہ جانے والے ۔(۱۷)خدایا میں تیرے ناموں کے وسیلہ سے دعا کرتاہوں اے امان دینے والے ،اے بیان کر نے والے ،اے آسان کردینے والے ،اے طاقت دینے والے ،اے زینت دینے والے ،اے اعلان کرنے والے ،اے تقسیم کرنے والے ۔(۱۸)اے وہ خدا جو اپنے ملک میں مستحکم ہے۔اے وہ خدا جو اپنی سلطنت کے اعتبار سے قدیم ہے۔اے وہ خدا جو اپنی جلالت میں عظیم ہے۔اے وہ خدا جو اپنے بندون پر مہربان ہے۔اے وہ خدا جو ہر شئی کا جاننے والے ہے۔اے وہ خدا جو گنہگاروں کو برداشت کرنے والا ہے۔اے وہ خدا جو امیدواروں پر کرم کرنے والا ہے۔اے وہ خدا جو اپنی صنعت میں صاحبِ حکمت ہے۔اے وہ مالک جو اپنی حکمت میں لطیف ہے۔اے وہ خدا جو اپنے لطف میں قدیم ہے ۔(۱۹)اے وہ خدا جس سے صرف فضل وکرم کی امید کی جاتی ہے اور اس سے صرف معافی کا سوال کیا جاتا ہے اور نیکیوں کو دیکھا جاتا ہے اور اس کی عدالت سے ڈراجاتا ہے ۔اور صرف اس کے ملک کو دوام ہے اور اس کے علاوہ کسی کی سلطنت نہیں ہے ۔اس کی رحمت ہر شئی کو محیط ہے اور اس کی مہربانی اس کے غضب سے آگے آگے چلتی ہے ۔اس کا علم ہر شئی کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اور اس کے جیسا کوئی نہیں ہے۔(۲۰)اے رنج کو دورکرنے والے ،غم دفع کرنے والے ،گناہ بخشنے والے ،توبہ کو قبول کرنے والے ،مخلوقات کو پیدا کرنے والے ۔وعدہ کے سچے ۔عہد کے پورا کرنے والے ،رازوں کو جانے والے ۔دانہ شگافتہ کرنے والے اور مخلوقات کو روزی دینے والے ۔(۲۱)خدایا میں تجھ سے تیرے ناموں کے واسطے سے سوال کررہاہوں اے بلند مرتبہ اے وفا شعار ،اے بے نیاز ، اے بھرے خزانوں کے مالک ،اے سز اوار کرم ،اے پسندیدہ صفات ،اے پاکیزہ اوصاف ،اے ابتداکرنے والے ،اے صاحبِ قوت ،اے صاحبِ ولایت۔(۲۲)اے وہ جس نے نیکیوں کا اظہار کیا اور برائیوں پر پردہ ڈال دیا ۔اے وہ جس نے جرائم پر مواخذہ نہیں کیااور پردہٴ گناہ چاک نہیں کیا۔اے عظیم معافی والے۔اے بہترین در گذر والے۔اے وسیع ترین مغفرت والے،اے دونوں ہاتھوں سے مہربانی کرنے والے ،اے رحمت راز کے ساتھی ۔اے فریاد کی آخری منزل۔(۲۳)اے کامل نعمتوں والے۔اے وسیع رحمتوں کے مالک۔اے سبقت کرنے والے احسانات کے مالک ۔اے بلیغ حکمت والے۔اے کامل قدرت والے۔اے قاطع دلیل والے۔اے واضح کرامت والے۔اے دائمی عزت والے ،مستحکم قوت والے،اے محافظ عظمت والے۔(۲۴)اے آسمانوں کو ایجاد کرنے والے ،اے تاریکیوں کے مقرر کرنے والے ۔آنسووٴں پر رحم کرنے والے ۔اے لغزشوں کے معاف کرنے والے ،اے عیوب کی پردہ پوشی کرنے والے،اے مردوںکو زندہ کرنے والے ۔اے آیتوں کے نازل کرنے والے ۔اے نیکیوں میں اضافہ کرنے والے ۔اے شدید عذاب کرنے والے ۔(۲۵)خدا یا میں تجھ سے تیرے ناموں کے طفیل میں سوال کررہاہوں۔اے تصویر بنانے والے۔اے تقدیر ساز۔اے تدبیر کرنے والے۔اے پاک کرنے والے ۔اے روشن کرنے والے ۔آسان کرنے والے ۔اے بشارت دینے والے ۔ڈرانے والے ۔آگے بڑھانے والے۔اے پیچھے ہٹانے والے۔(۲۶)اے بیت الحرام کے مالک اے محترم مہینہ کے مالک۔اے محترم شہر کے مالک۔اے رکن ومقا م کے پروردگار ۔اے مشعر الحرام کے مالک ۔اے مسجد الحرام کے مالک۔اے حل و حرم کے مالک۔اے نور ظلمت کے مالک۔اے تحیة و سلام کے مالک۔اے مخلوقات کی قدرت کے مالک۔(۲۷)اے بہترین فیصلہ کرنے والے بہترین انصاف کرنے والے ۔سب سے زیادہ سچ بولنے والے ۔سب سے زیادہ پاکیزہ صفات بہترین پیدا کرنے والے ۔تیز ترین حساب کرنے والے ۔سب سے زیادہ سننے والے ۔سب سے بہتر نگاہ رکھنے والے۔سب سے زیادہ بخشنے والے۔سب سے بلند تر کریم ۔(۲۸)اے بے سہاروں کے سہارے،بے آسراوٴں کے آسرا۔اے بے ذخیروں کے ذخیرہ ۔بے پناہوں کے محافظ۔بیکسوں کے فریاد رس،جس کا کوئی فخر نہیں ہے اس کے لئے باعث فخر۔جس کی کوئی عزت نہیں ہے اس کی عزت ۔جس کا کوئی مددگار اور جس کا کوئی مونس نہیں ہے اس کے انیس ۔جس کے لئے کوئی امان نہیں ہے اس کے لئے مرکز امن و امان۔(۲۹)خدایا میں تجھ سے تیرے ہی ناموں کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں،اے محافظ،اے قائم و دائم،اے مہربانی کرنے والے ،اے سلامتی والے،حکومت کرنے والے ،جاننے والے تقسیم کرنے والے ۔اے رزق میں کمی اور زیادتی کرنے والے۔(۳۰)اے حفاظتوں کے طلبگاروں کے محافظ،اے طالبان رحم پر رحم کرنے والے ۔اے طالبان مغفرت کے بخشنے والے۔اے طالبان امداد کے مددگار ۔اے طالبان حفاظت کے محافظ۔اے طالبان کرامت کو کرامت بخشنے والے ۔  اے طالبان ہدایت کے مرشد۔اے طالبان فریاد رسی کے فریاد رس۔ اے طالبان اعانت  کے معین اور اے طالبان امداد کی فریاد کو پہنچنے والے ۔(۳۱)اے وہ صاحبِ عزت جسے ذلیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔اے لطیف جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔وہ نگراں جو سوتا نہیں ہے۔وہ دائم جس کے لئے فنا نہیں ہے۔وہ زندہ جس کے لئے موت نہیں ہے۔وہ قوی جو کمزور نہیں ہو سکتاہے۔(۳۲)خدا یا میں تجھ سے تیرے ناموں کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں اے یکتا،اے اکیلے ،اے گواہ،اے بزرگ و بر تر،اے صاحبِ حمد،اے رہنما،اے مردوں کو زندہ کرنے والے،اے کائنات کے وارث اے نفع و نقصان کے مالک۔(۳۳)اے ہر صاحبِ عظمت سے عظیم تر اور ہر مہربان سے زیادہ مہربانی کرنے والے ،ہر رحیم سے زیادہ رحیم اور ہر عالم سے زیادہ علیم و دانا۔ہر صاحبِ حکمت سے زیادہ حکیم اور ہر قعدیم سے زیادہ قدیم ۔ہر بزرگ سے زیادہ بزرگ اور ہر لطیف سے زیادہ مہربان ۔ہر جلیل سے زیادہ جلیل القدر اور ہر عزیز سے زیادہ صاحبِ عزت۔(۳۴)اے درگذر کرنے والے کریم ،اے عظیم احسان کرنے والے ۔اے کثیر خیروالے ۔اے ہمیشہ سے فضل کرنے والے ۔اے دائمی لطف کرنے والے ۔اے لطیف صنعت والے۔اے رنج و غم کے دور کرنے والے اے مصیبتوں کے دور کرنے والے ۔اے ملک کے مالک اور اے حق کا فیصلہ کرنے والے۔(۳۵)اے وہ پروردگار جو اپنے عہد کا پورا کرنے والا اور اپنے وفا کی طاقت رکھنے والا ہے ۔اپنے قوت میں بلند تر ہے اور اپنی بلندی کے باوجود قریب تر ہے ۔اپنی قربت میں مہربان ہے اور اپنے مہربانی میں صاحبِ شرف ہے۔اپنی شرف میں صاحبِ عزت ہے اور پنے عزت میں صاحبِ عظمت ہے۔اپنی عظمت میں بزرگ ہے اور اپنی بزرگی میں صاحبِ حمد وثنا ہے۔(۳۶)خدا یا میں تجھ سے تیرے ناموں کے صدقہ میں سوال کر رہاہوں،اے کافی ،اے شفا دینے والے ،اے وفا کرنے والے ۔اے عافیت دینے والے ،اے ہدایت کرنے والے ،اے دعوت دینے والے ، اے فیصلہ کرنے والے ،اے راضی ہونے والے ،اے بلند و برتر ،اے ہمیشہ رہنے والے ۔(۳۷)اے وہ جس کے لئے ہر شئی خاضع ہے اور ہر شئی خاشع ہے۔ہر شئی اس کے لئے ہے ۔ہر شئی کا رجوع اسی کی طرف ہے ۔اور ہر شئی کا وجود اس سے خوفزدہ ہے۔اور ہر شئی اس کے ارادہ سے قائم ہے اور ہر شئی کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔ ہر شئی اس کی حمد کی تسبیح کر رہی ہے اور ہر شئی اس کی ذات اقدس کے علاوہ ہلاک ہونے والی ہے۔(۳۸)اے وہ پروردگار جس کے علاوہ کوئی مفر نہیں ہے ۔اس کے ماسوا کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں اور اس کے علاوہ کوئی مرکز نجات نہیں ہے۔اس کے سوا کسی کی طرف رغبت نہیں کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کوئی طاقت کا سہارا نہیں ہے۔اس کے ماسوا کسی کی مدد نہیں طلب کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاتا ہے ۔اس کے سوا کسی سے امید نہیں کی جاتی ہے اور اسکے ماسوا کوئی قابل پر ستش نہیں ہے ۔(۳۹)اے خوف و رغبت دونوں کی بہترین منزل ۔اے بہترین مطلوب اور بہترین مسوٴل ،بہترین مقصود اور بہترین قابل ذکر ،بہترین قابل تشکر اور بہترین محبوب ۔بہترین مرکز دعا اور بہترین وسیلہ ٴ انس۔(۴۰)خدا یا میں تیرے ہی نام کے سہارے سوال کرتاہوں ۔اے بخشنے والے ،اے پردہ پوش ،اے صاحبِ قدرت ،اے صاحب ِغلبہ ،اے موجد،اے توڑنے والے ،اے جوڑنے والے ،اے یاد رکھنے والے ،اے نظر رکھنے والے ،اے مدد کرنے والے ۔(۴۱)اے وہ جس نے پیدا کیا اور درست بنایا ۔اے وہ جس نے تقدیر معین کی اور ہدایت بھی دی۔اے وہ جو بلاوٴں کو دور کرتا ہے اور راز کی باتوں کو سنتا ہے ۔اے وہ جو ڈوبنے والے کو بچاتا ہے اور ہلاک ہونے والوں کو نجات دیتا ہے اور مریضوں کو شفا دیتا ہے ۔اے وہ جس نے ہنسایا بھی ہے اور رلایا بھی ہے ،جس نے موت بھی دی ہے اور حیات بھی دی ہے ۔جس نے نرمادہ ہر جوڑے کو پیدا کیاہے ۔(۴۲)اے وہ جس کا راستہ خشکی میں بھی ہے اور سمندر میں بھی۔ جس کی نشانیاں تمام کائنات میں ہیں اور ہر نشانی میں اس کی ایک دلیل ہے۔موت پر اس کاا قتدار ہے اور قبروںمیں اس کا سامان عبرت ہے ۔قیامت میں اس کی حکومت ہے اور حساب میں اس کی ہیبت ہے۔میزان عدالت پر اس کا فیصلہ ہے اور جنت میں اس کا ثواب ہے اور جہنم میں اس کا عذاب ہے۔(۴۳)اے وہ جس کی طرف بھاگنے والے بھاگتے ہیں اور گنہگار پناہ لیتے ہیں ۔توبہ کرنے والے ادھر توبہ کرتے ہیںاور دنیا سے کنارہ کشی کرنے والے رغبت کرتے ہیں ۔متحیر افراد پناہ تلاش کرتے ہیں اور چاہنے والے اس سے انس حاصل کرتے ہیں اور چاہنے والے اس کی محبت پر فخر کرتے ہیں ۔اے وہ جس کی معافی کی طمع تمام خطا کاروں کے دل میں ہے اور اس کے پاس سامان سکون تمام یقین والوں کے لئے ہے اور اس پر بھروسہ تمام توکل کرنے والے کرتے ہیں۔(۴۴)خدایا میں تیرے نام کے سہارے تجھ سے سوال کرتا ہوں اے حبیب اے طبیب اے قریب اے نگرانی کرنے والے حساب رکھنے والے ،صاحبِ ہیبت ،ثواب دینے والے ،دعا قبول کرنے والے ،خبر رکھنے والے اور دیکھنے والے۔(۴۵)اے ہر قریب سے زیادہ قریب تر،ہر محبوب سے زیادہ محبوب تر ،ہر دیکھنے والے سے زیادہ بصیر۔ اے ہر خبیر سے زیادہ خبیر ۔ہر شریف سے زیادہ اشرف اور ہر بلند سے زیادہ بلند تر ۔ہر قوی سے زیادہ قوی تر ۔ہر غنی سے زیادہ بے نیاز ۔اے ہر کریم سے زیادہ کریم اور ہر مہربان سے زیادہ مہربانی کرنے والے ۔(۴۶)اے وہ غالب جو مغلوب نہیں ۔اے وہ صانع جو خود کسی کی مصنوع نہیں ۔وہ خالق جو کسی کی مخلوق نہیں ۔وہ مالک جو کسی کی مملوک نہیں ۔وہ قاہر جو کسی سے مغلوب نہیں ۔وہ بلند جسے کسی نے بلند نہیں بنایا۔وہ محافظ جو کسی تحفظ کا محتاج نہیں۔وہ ناصر جو کسی مددکا طلبگار نہیں۔وہ حاضر جو کبھی غائب نہیں ہوتا اور وہ قریب جو کبھی دور نہیں ہوتا ہے ۔(۴۷)اے نوروں کے نور اے نور کے روشنی بخش ،اے نور کے مالک ،اے نور کی تدبیر کرنے والے،اے نور کی تقدیر معین کرنے والے ۔اے ہرنور کے نور ،اے ہر نور کے پہلے کے نور اور ہر نور کے بعد کے نور ۔اے ہر نور سے بالاتر نور اور وہ نور جس کا مثل کوئی نورنہیں۔(۴۸)اے وہ جس کی عطا شریف ،اس کا فعل لطیف، اس کا لطف قائم و دائم ،اس کا احسان ہمیشہ ،اس کا قول حق،اس کاعدہ سچا ،اس کی معافی اس کا فضل و کرم ،اس کا عذاب اس کا عدل ،اس کا ذکر شریں اور اس کا فضل ہر ایک کو شامل ہے۔(۴۹)خدا یا میں تجھ سے تیرے نام کے سہارے سوال کررہاہوں۔اے آسان کرنے والے ۔سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والے تبدیل کرنے والے ،قابو میں رکھنے والے ،نازل کرنے والے ،عطا کرنے والے ،افضل کرنے والے ،بہت عطا کرنے والے ،مہلت دینے والے اور اچھا کرنے والے ۔(۵۰)اے وہ جو دیکھتا ہے اور دکھائی نہیں دیتا ہے ۔پیدا کرتا ہے اور مخلوق نہیں ہے۔ہدایت دیتا ہے اور محتاج نہیں ہے ۔زندگی دیتا ہے اور کسی سے لینے کا محتاج نہیں ہے۔وہ سب سے سوال کرسکتا ہے اس سے باز پرس کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔وہ سب کو کھلاتا ہے اور اسے نہیں کھلایا جاتا ہے ۔وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور خود کسی کی پناہ میں نہیں ہے ۔وہ سارے فیصلے کرتا ہے اور اس پر کسی کا فیصلہ نافذ نہیں ہے۔وہ ہر ایک پر حکومت کرتا ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔(۵۱)اے بہترین حساب کرنے والے ۔اے بہترین علاج کرنے والے ،اے بہترین نگرانی کرنے والے ،اے بہترین قربت رکھنے والے ،اے بہترین قبول کرنے والے ،اے بہترین محبوب ،اے بہترین کفیل،اے بہترین ذمہ دار ،اے بہترین مولا اور اے بہترین مددگار ۔(۵۲)اے صاحبان معرفت کے وجہ سرور ۔چاہنے والوں کے مرکز امید۔مریدوںکے انیس ۔توبہ کرنے والوں کے دوست ۔فاقہ کشوں کے رازق ۔گناہگاروں کی امید۔عبادت گذاروں کی خنکیٴ چشم۔ستم رسیدہ لوگوں کے رنج کو دور کرنے والے ۔مغموم افراد کو مطمئن بنانے والے اور اولین وآخرین کے پروردگار۔(۵۳)خدایا میں تجھ سے تیرے ہی نام کے سہارے طلب کررہاہوں ۔اے پروردگار ،معبود ،سردار،آقا، مددگار، محافظ،راہنما،مددگار،محبوب اور معالج۔(۵۴)اے انبیاء و ابرار کے پروردگار صدیقین اور نیک کرداروں کے مالک۔جنت وجہنم کے مالک اور صغار وکبار کے پروردگار۔دانوں اور بھول کے مالک اور نہروں اور درختوںکے پروردگار صحراوٴں اور بیابانوں کے مالک اور میدانوں اور سمندروں کے پروردگار۔لیل و نہار کے مالک اور علانیہ اور خفیہ سب کے اختیار ۔(۵۵)اے وہ جس کا امر ہر شئی میں نافذ اس کا علم ہر شئی کے ساتھ ہے۔اس کی قدرت ہر چیز تک پہنچی ہوئی ہے۔بندے اس کی نعمتوں کا شما ر نہیں کر سکتے ہیں۔مخلوقات اس کی منزل تک پہنچ نہیں سکتی ہے۔خیالات اس کے جلال کو پانہیں سکتے ہیں۔اوہام اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔عظمت اور کبریائی اس کی رداء ہے۔اس کے علاوہ کسی کا کوئی ملک نہیں ہے اور اس کی عطا کے علاوہ کسی کی کوئی عطا نہیں ہے۔(۵۶)اے وہ جس کے لئے بہترین مثالیں ہیں۔اے وہ جس کے لئے بلند ترین صفات ہیں۔اے وہ جس کے لئے دنیا و آخرت ہے۔اے وہ جس کے لے جنت النعیم ہے۔اے وہ جس کے لئے بلند ترین نشانیاں ہیں۔اے وہ جس کے لئے حسین ترین نام ہیں۔اے وہ جسے فیصلہ کرنے کا حق ہے۔اے وہ جس کے قبضے میں ہوا اور فضا ہے۔اے وہ جس کے اختیار میں آسمان و زمین ہے۔اے وہ جو بلند ترین آسمانوں کا مالک ہے۔(۵۷)خدایا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلے سے سوال کرتاہوں اے معاف کرنے والے ،بخشنے والے ،صبر کرنے والے اورقدر دانی کرنے والے۔اے مہربان ،اے رحمت کرنے والے،اے جس سے مانگا جاتا ہے۔اے محبت کرنے والے ۔اے پاکیزہ صفات اور اے مقدس ذات والے۔(۵۸)اے وہ جس کی عظمت آسمانوں میں ہے اور اس کی نشانیاں زمین میں ہیں۔ہر شئی میں اس کے دلائل ہیںاور سمندروں میں اس کے عجائبات ہیں اور پہاڑوں میں اس کے خزانے ہیں۔اے وہ جو تخلیق کو ایجاد کرتا ہے اور پھر دوبارہ واپس بھی لاتا ہے۔اے وہ جس کی طرف تمام امور کی بازگشت ہے۔اے وہ جس نے ہر شئی پرا پنے لطف کا اظہار کیا ہے اور ہر شئی کی خلقت کو حسین ترین بنایا ہے اور اس کی قدرت تمام مخلوقات پر تصرف کر رہی ہے۔(۵۹)اے اس کے دوست جس کا کوئی دوست نہیں ہے۔اے اس کے طبیب جس کا کوئی معالج نہیں ہے ۔جس کی کوئی نہ سنے اس کی سننے والا اور جس پر کوئی مہربانی نہ کرے اس پر مہربان ہے۔ہر بے سہاراکا ساتھی ہے اور ہر بے آسرا کا فریاد رس ہے۔ہربے رہنما کا راہنما ہے اور ہر بے انیس کا انیس ومونس ہے جس پر کوئی رحم نہ کرے اس پر رحم کرنے والا ہے اور جس کا کوئی ساتھی نہ ہو اس کا ساتھی ہے ۔(۶۰)اے طلب امداد کرنے والے کے لئے کافی اور طلب ہدایت کرنے والے کے ہادی ،طلب حفاظت کرنے والے کے محافظ اور طلب رعایت کرنے والے کے نگران ۔طلب شفا کرنے والے کے شافی اور طلب قضاوت کرنے والے کے قاضی ۔طلب استغناء کرنے والے کے بے نیاز بنانے والے اور طلب کمال کرنے والے کو سب کچھ عطا کرنے والے ۔طاقت کے طلبگاروں کو طاقت دینے والے اور وہ ولایت کے خواہانوں کے ولی و سر پرست۔(۶۱)خدایا میں تجھ سے تیرے نام ہی کے وسیلہ سے سوال کررہاہوں۔اے خالق ،اے رازق،اے ناطق،اے صادق،اے دانہ کو شگافتہ کرنے والے ،مخلوقات کو الگ کرنے والے توڑنے والے اور جوڑنے ،سب پر سبقت رکھنے والے اور بلند و بالا ہستی والے۔(۶۲) اے دن اور رات کو گردش دینے والے ،اے ظلمت ونور کے مقدر کرنے والے ۔اے دھوپ چھاوٴں کے پیدا کرنے والے ،اے آفتاب و ماہتاب کی تسخیر کرنے والے ۔اے میرے خیرو شر کا فیصلہ کرنے والے ۔اے موت و حیات کے خالق۔اے خلق و امر کے صاحبِ اختیار ۔اے جس کی نہ کوئی شریک زندگی ہے اور نہ فرزند ۔اے جس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کمزروی کا سہارا ۔(۶۳)اے وہ کہ جو مریدوں کی مراد اور خاموش رہنے والوں کے ضمیر کا علم رکھتا ہے۔اے وہ جو کمزروں کی آہوں کو سنتا ہے اور خوفزدہ لوگوں کے گریہ کو دیکھتا رہتا ہے ۔اے وہ جو سائلوں کی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے اور توبہ کرنے والوں کے عذر کو قبول کرتا ہے۔اے وہ جو مفسدین کے اعمال کو صالح نہیں قرار دیتا ہے اور نیک کرداروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔اے وہ جو عارفوں کے دل سے دور نہیں ہوتا ہے اور تمام کریموں سے بڑاکرم ہے۔(۶۴)اے ہمیشہ رہنے والے ،اے ہر دعاکے سننے والے اے وسیع عطاکرنے والے ۔اے ہر خطا وٴں کے بخشنے والے ،اے آسمانوں کے موجد ،اے بہترین عطاوٴں والے۔اے بہترین ثناء کے مالک،اے قدیم ترین بلندی والے،اے بہت زیادہ وفا کرنے والے اور بہترین جزا دینے والے ۔(۶۵)اے خدا میں تیرے ہی نام کے وسیلہ سے سوال کررہا ہوں ،اے پردہ پوش اے بخشنے والے اے غالب ،اے صاحب اقتدار ،اے صبر کرنے والے ،اے نیکی کرنے والے ،اے صاحب اختیار، اے آغاز کرنے والے،اے راحت دینے والے،اے آرام بخشنے والے۔(۶۶)اے وہ جس نے بنایا اور درست بنایا،اے وہ جس نے روزی دی اور تربیت کی،اے وہ جس نے کھلا یا اور پلایا ۔اے وہ جس نے عزت اور مالداری عنایت کی ۔اے وہ جس نے توفیق اور ہدایت دی۔اے وہ جس نے انس اور پناہ عنایت کی۔اے وہ جس نے موت و حیا ت عطا کی۔(۶۷)اے وہ جو اپنے کلمات سے حق کو ثابت کردیتا ہے اور اپنے بندوں کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔اے وہ جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی شفاعت کا م نہیں آسکتی ہے۔اے وہ جو بہک جانے والوں کو خوب پہچانتا ہے اور اے وہ جس کے حکم کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے ۔اے وہ جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور ہر شئی اس کے حکم کے سامنے سراپاتسلیم ہے۔اے وہ جس کے ہاتھوں میں آسمان لپٹے ہوئے ہیں اور ہواوٴں کو رحمت کی بشارت دے کر روانہ کر تا ہے ۔   (۶۸)اے وہ جس نے زمین کو گہوارہ بنا یا ہے ۔اے وہ جس نے پہاڑوں کو میخ قرار دیا ہے ۔اے وہ جس نے آفتاب کو چراغ بنایا ہے اور ماہتاب کو نور قرار دیا ہے ۔اے وہ جس نے رات کو پوشش کا ذریعہ بنایا ہے اور ان کو وسیلہٴ روزی قرار دیا ہے ۔اے وہ جس نے نیند کو آرام دہ قرار دیا ہے اور آسمان کو شامیانہ بنا دیا ہے اور ہر چیز کو جوڑ ا قرار دیا ہے اور جہنم کو بے دینوں کی تاک میں رکھ دیا ہے ۔(۶۹) خدا یا میں تجھ سے تیرے ہی نام کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں اے سننے والے ،اے سفارش قبول کرنے والے ،اے بلند مرتبہ ،اے محافظ ،اے جلدی حساب کرنے والے ،اے موجد ،اے بزرگ ،اے قادر ،اے باخبراور اے پناہ دینے والے ۔(۷۰)اے ہر زندہ سے قبل صاحبِ حیات اور اے ہر زندہ کے بعد زندہ رہنے والے ،اے وہ زندہ جس کا کوئی مثل نہیں ہے ۔اے وہ زندہ جس کی حیات میں کوئی شریک نہیں ہے۔اے وہ زندہ جوکسی کا ترکہ نہیں ہے۔اور اے وہ زندہ جو ہر مردہ کو زندگی دیتا ہے ۔اے وہ زندہ ،اے قائم رہنے والے جس پر نہ کسی نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور نہ کسی اونگھ کو۔(۷۱)اے وہ جو فریاد فراموش ہونے والا نہیں ہے اے وہ جس کا نور بجھنے والا نہیں ہے ۔ اے وہ جس کی نعمتوں کا شمار نہیں۔اے وہ جس کے ملک کو زوال نہیں ہے۔اے وہ جس کی ثنا کا احصاء نہیں ہو سکتا ہے ۔اور اے وہ جس کے جلال کی کوئی کیفیت معین نہیں ہے۔ اے وہ جس کے کمال کا ادراک نہیں ہو سکتا ہے اور اس کے فیصلہ کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے ۔اے وہ جس کے صفات ناقابل تبدیلی ہیں۔اور اس کے اوصاف ناقابل تغیر ہیں۔(۷۲) اے عالمین کے پروردگار،اے روزجزاکے مالک اے طلبگاروں کی آخری منزل ،اے پناہ کے طلبگاروں کے سہارے ،اے بھاگنے والوں کو پکڑ لینے والے۔اے صابروں سے محبت کرنے والے،اے توبہ کرنے والوں کو دوست رکھنے والے،اے پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرنے والے نیک کرداروں کے چاہنے والے اور ہدایت یافتہ افراد کو بخوبی جاننے والے۔(۷۳)خدایا میں تجھ سے تیرے ہی نام کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں۔اے شفیق،اے رفیق،اے حفیظ،اے احاطہ کرنے والے ،اے وقت معین کرنے والے ،اے فریاد رس ،اے عزت و ذلت کے مالک اے آغازو انجام کے صاحب اختیار ۔(۷۴)اے وہ جو اکیلاہے اور اس کی کوئی ضد نہیں ہے،تنہا ہے اور اس کا کوئی مثل نہیں ہے۔وہ صمد ہے اور اس میں کوئی عیب نہیں ہے وہ دیکھتا ہے اور اس کی کوئی کیفیت نہیں ہے۔وہ فیصلہ کرنے والا ہے اور اس کے فیصلے میں کوئی ظلم نہیں ہے۔وہ مالک بلا وزیر ہے اور عزیز بلا ذلت ہے ۔و ہ غنی بلا فقر ہے اور بادشاہ بلاعزل ہے ۔وہ ایسا موصوف ہے جس کی کوئی شبیہ نہیں ہے۔(۷۵)اے وہ پروردگار جس کا ذکر ذاکرین کے لئے شرف اور اس کا شکر شاکرین کے لئے وسیلہٴ کامرانی ہے ۔اس کی حمد حمد کرنے والے کی عزت ہے اور اس کی اطاعت اطاعت گذاروں کی نجات ہے۔اس کا دروازہ طلبگاروں کے لئے کھلا ہوا ہے اور اس کا راستہ اس کی طرف جانے والوں کے لئے واضح ہے۔اس کی نشانیاں ناظرین کے لئے برہان ہیں اور اس کی کتاب متقین کے لئے وسیلہٴ یاد دہانی ہے۔اس کا رزق اطاعت گذاروں اور گناہگاروں سب کے لئے عام ہے اوراس کی رحمت نیک کرداروں سے قریب ترہے ۔(۷۶)اے وہ پروردگار جس کانام مبارک اورا س کی عظمت بلند ہے۔اس کے علاوہ کوئی خدانہیں ہے۔اس کی ثنا جلیل ہے ۔اس کے نام پاکیزہ ہیں اور اس کی بقاء دائمی ہے۔عظمت اس کی نشانی ہے اور کبریائی اس کی ردا ہے ۔اے وہ جس کی بخششوں کا احصاء نہیں ہے اور جس کی نعمتوں کا شما ر نہیں ہے۔(۷۷)خدایا میں تجھ سے تیرے ہی ناموں کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوںاے مددگار،اے دیانتدار،اے واضح کرنے والے،اے صاحب قوت ،اے صاحب منزلت ،اے رشید ،اے حمید،اے مجید،اے شدید،اے شہید۔(۷۸)اے عرش مجید والے، اے حرف صحیح والے،اے عمل رشید والے،اے حملہ شدید والے،اے عدہ و وعید والے،اے وہ جو ولی بھی ہے اور حمید بھی ہے،اے وہ جو ہر ارادہ کا مکمل کرنے والاہے۔اے وہ جو قریب ہے بعید نہیںہے۔اے وہ جو ہر شئی کا گواہ ہے اور اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔(۷۹)اے وہ جس کا نہ شریک ہے نہ وزیر ،نہ شبیہ ہے نہ مثل و نظیر۔اے آفتاب و ماہتاب درخشاں کے خالق ۔اے فقیر و تنگ دست کو غنی بنا نے والے۔اے طفل صغیر کی روزی دینے والے اے پیر پر رحم کرنے والے ،اے استخوان شکستہ کے جوڑنے والے ،اے خوفزدہ طالبِ پناہ کے محافظ۔اے وہ جو اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ہر شئی پر قدرت رکھنے والاہے۔(۸۰)اے صاحب جود و نعمت اے صاحب فضل وکرم اے خالق لوح و قلم ۔اے ہر جاندار کے پیدا کرنے والے ۔اے صاحب عذاب و عتاب ،اے عرب و عجم کے الہام کرنے والے ،اے رنج و غم کے دور کرنے والے ۔ا ے مخفی رازوں اور ارادوں کے جاننے والے ۔اے خانہ کعبہ اور حرم کے مالک اور اے اشیاء کے عدم سے وجود میں لانے والے۔(۸۱)خدا یا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلہ سے دعا کرہا ہوں ۔اے کام کرنے والے مقدر ساز ،قبو ل کرنے والے کامل ،الگ کرنے والے اور ملانے والے ،انصاف کرنے والے ،غالب ،طالب اور عطا کرنے والے۔(۸۲)اے وہ جس نے اپنے کرم سے نعمتیں دیں۔اپنے جو د سے نوازا ،اپنے لطف سے کرم کیا ،اپنی قدرت کی بنا پر صاحب عزت ہے۔اپنی حکمت سے تقدیر سازی کی ہے اور اپنی تدبیر سے فیصلہ کیا ہے۔اے وہ جس نے اپنے علم سے تدبیر کی ہے اور حلم سے معاف کیا ہے ۔اے وہ جو ہر بلندی کے باوجود قریب ہے اور قریب ہونے کے باوجود بلند ہے۔(۸۳)اے وہ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے جو چاہے وہ کرنے والا ہے۔ جس کو چاہے ہدایت دینے والا ہے جس کو چاہے گمراہی میں چھوڑ دینے والا ہے۔جس پر چاہے عذاب کرنے والا ہے۔اور جس کو چاہے بخش دینے والا ہے ۔جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دتیا ہے۔اور ارحام میں جیسی چاہے تصویر بناتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر لیتا ہے۔(۸۴)اے وہ جس نے نہ شریک زندگی بنائی نہ اولاد ۔ہر شئی کی ایک مقدار معین کردی اور اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بنایا۔ملائکہ کو اپنا نمائندہ قرار دیا ۔آسمان میں بروج قائم کئے۔ زمین کو مستقر قرار دیا۔پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ہر شئی کی ایک انتہا معین کی۔ہر شئی پر اپنے علم سے محیط رہا۔اور ہر شئی کا حساب اپنے ہاتھ میں لکھا ۔(۸۵)خدا یا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں ۔اے اول ،اے آخر،اے اے ظاہر،اے باطن،اے نیک،اے حق،اے یکتا،اے تنہا،اے بے نیازاور ہمیشہ رہنے والے۔(۸۶) اے بہترین معروف جسے پہچانا گیا اور ہر بلند ترین معبود جس کی عبادت کی گئی ،جلیل ترین مشکور جس کا شکر ادا کیا گیااور عزیز ترین مذکور جس کا ذکر کیاگیا۔اعلیٰ محمود جس کی حمد کی گئی اور قدیم ترین موجود جسے طلب کیا گیا۔بلند ترین موصوف جس کی توصیف کی گئی اور بزرگ ترین مقصود جس کا ارادہ کیا گیا۔کریم ترین مسوٴل جس سے سوال کیا گیا اور شریف ترین محبوب جس سے لوگ باخبر ہوئے۔(۸۷)اے رونے والو ں کے محبوب ،اے توکل والوں کے آقا۔اے گمراہوں کے ہادی۔اے مومنین کے ولی۔اے ذکر کرنے والوں کے انیس۔اے پریشان حال کی پناہ گاہ ۔اے صادقین کے نجات دینے والے۔اے قادرین پر بھی قدرت رکھنے والے ۔اے صاحبان علم سے بہتر جاننے والے اور تمام مخلوقات کے معبود۔(۸۸) اے وہ جس کی بلندی نے سب کو دبا دیااور اس کے ملک نے سب پر قدرت حاصل کرلی۔وہ اندرتک کی خبر رکھتا ہے اور اپنے عبادت گذاروں کی قدر دانی کرتا ہے۔اس کا گناہ کیا جائے تو معاف کر دیتا ہے ۔اور فکریں اس کا احاطہ نہیں کر سکتی ہیں۔نگاہیں اسے دیکھ نہیں سکتی ہیںاور کوئی نشان دم اس پر مخفی نہیں ہے۔ہر بشر کا رازق ہے اور ہر تقدیرکاتقدیر ساز۔(۸۹)خدا یا میں تیرے نام کے سہارے تجھ سے سوال کرتاہوں ۔اے محافظ ،اے موجد،اے خالق،اے بلندو برتر،اے راحت رساں،اے آغاز کرنے والے،رنج و غم کے دور کرنے والے ،اے ضمانت دینے والے ،اے امر و نہی کرنے والے۔(۹۰)اے وہ جس کے علاوہ کوئی غیب کا عالم نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی برائی کا رفع کرنے والے نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں ہے۔ا س کے علاوہ کوئی نعمت کا تمام کرنے والا نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی دلوں کا پلٹنے والا نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی امور کی تدبیر کونے والا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پانی برسانے والے نہیں ہے۔اس کے علاوہ کوئی رزق میں وسعت دینے والا نہیں ہے ۔اور اس کے علاوہ کوئی مردوں کو زندہ کرنے والا نہیں ہے۔(۹۱)اے کمزوروں کے مددگار اے غریبوں کے ساتھی۔اے دوستوں کے ناصر۔اے دشمنوں کے دبانے والے۔اے آسمان کے بلند کرنے والے ۔اے مخلصوں کے انیس۔اے متقیوں کے دوست اے فقیروں کے خزانے ۔اے اغنیاء کے معبوداور تمام کریموں سے زیادہ کریم ۔(۹۲)اے ہر شئی سے کفایت کرنے والے ۔ہر شئی کی نگرانی کرنے والے۔اے وہ جس کی کوئی شبیہ نہیں ہے۔کوئی اس کے ملک میں اضافہ کرنے والا نہیں ہے۔اس پر کوئی شئی مخفی نہیں ہے۔اس کے خزانہ میں کمی ہونے والی نہیں ہے۔اس کے جیسا کوئی نہیں ہے۔اس کے علم سے کوئی شئی بعید نہیں ہے۔وہ ہرشئی سے باخبر ہے اور اس کی رحمت ہر شئی پر وسعت رکھنے والی ہے۔(۹۳)خدایا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلے سے دعا کرتاہوں ۔اے کرامت دینے والے ،اے کھلانے والے ،اے نعمت دینے والے ،اے عطا کرنے والے ،اے غنی بنا نے والے،اے مالدار بنانے والے ،اے فنا کرنے والے ،اے زندگی دینے والے ،اے راضی کرنے والے ،اے نجات دینے والے ،(۹۴)اے ہر شئی سے اول و آخر ،اے ہر شئی کے معبود و مالک،اے ہر شئی کے پروردگار اور صانع،اے ہر شئی کے موجد اورخالق ۔اے ہر شئی میں وسعت دینے والے اور سمٹنے والے ۔اے ہر شئی کی ابتداء اور انتہا کے مالک ۔اے ہر شئی کے خالق اور وارث۔(۹۵)اے بہترین یاد کرنے والے اور جسے یاد کیا جائے ۔بہترین قدر دانی کرنے والے اور جسے پکارا جائے۔بہترین تعریف کرنے والے اور جس کی حمد کی جائے ۔بہترین شاہد اور بہترین مشہود ۔بہترین بلانے والے اور جسے پکارا جائے ۔بہترین قبول کرنے والے اور جس کی بات قبول کی جائے ۔بہترین انیس اور مونس ،بہترین ساتھی اور ہم نشنین ۔بہترین مطلوب و مقصود ۔بہترین حبیب اور بہترین محبوب۔(۹۶)اے دعاکر نے والوں کی دعا قبول کرنے والے۔ اے اطاعت گذاروں کے دوست۔اے چاہنے والوں سے قریب رہنے والے طالب حفاظت کی نگرانی کرنے والے ۔اے امیدواروں پر کرم کرنے والے۔اے گناہگاروں کو برداشت کرنے والے ۔اے عظمت کے باوجود مہربانی کرنے والے ۔اے حکمتوں کے ساتھ عظمتوں والے ۔اے وہ جس کا احسان قدیم ہے اور جو مقصود سے باخبر ہے۔(۹۷)خدایا میں تجھ سے تیرے نام کے وسیلہ سے سوال کررہاہوں ۔اے اسباب فراہم کرنے والے ،رغبت دلانے والے دلوں کو پلٹ دینے والے ۔آخر تک نظر رکھنے والے۔امور کی ترتیب دینے والے ۔خوف دلانے والے یادلا نے والے ۔قابو میں رکھنے والے۔تغیر وتبدل پیدا کرنے والے (۹۸)اے وہ جس کا علم سابق ہے اور اس کا وعدہ صادق ہے۔اس کا لطف ظاہر ہے اور ا س کاامر غالب ہے۔ اس کی کتاب محکم ہے اور اس کا فیصلہ بہر حال ہونے والا ہے ۔اس کا قرآن مجید ہے اور اس کاملک قدیم ہے۔اس کا فضل عام ہے اور اس کاعرش عظیم ہے۔ (۹۹)اے وہ جس کی ایک آواز کا سننا دوسروں سے غافل نہیں بناتاہے۔اور ایک عمل دوسرے سے روکتا نہیں ہے ۔اسے کوئی قول دوسرے قول سے غافل نہیں کرتا ہے۔اور کوئی سوال دوسرے سوال سے مشتبہ نہیں بناتا ہے۔اس کے لئے کوئی شئی دوسرے حاجب نہیں ہے اور اسے فریادیوں کی فریاد تنگ دل نہیں بناتی ہے ۔وہ تمام مریدوں کی آخری مراد ہے اور تما اہل معفرت کے خیالات کی آخری حد ہے ۔وہ تمام طلبگاروں کی آخری منزل ہے اور اس پر کائنات کا کوئی ذرہ مخفی نہیں ہے۔(۱۰۰)اے وہ حلیم جو سزا میں عجلت نہیں کرتا ہے وہ جواد جو بخل نہیں کرتا ہے وہ صادق جو خلاف وعدہ نہیں کرتا ہے ۔وہ عطا کرنے والا جو خستہ حال نہیں ہوتا ہے۔وہ قاہر جو مغلوب نہیں ہوتا ہے۔وہ صاحب عظمت جس کی عظمت کی توصیف نہیں ہو سکتی ہے ۔وہ عادل جس کے عدل میں ظلم کا امکان نہیں ہے ۔وہ غنی جو فقیر نہیں ہو سکتا ہے ۔وہ کبیر جو چھوٹا نہیں ہو سکتا ہے ۔اور وہ محافظ جو کبھی غافل نہیں ہوسکتا ہے تو پاک وبے نیاز تیرے علاوہ کوئی خدانہیں ہے۔فریاد ہے فریاد ۔مالک ! ہمیں آتش جہنم سے آزاد کردے۔