حضرت رسول اکرم (ص) کا یہودی علماء سے مناظرہ



پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت سے پہلے یہودیوں کی مذہبی محفلوں میں آپ کی علامتوں کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا یہاں تک کہ یہودی علماء توریت کی آیتوں کی بنیاد پر آنحضرت کے بارے میں پیشین گوئیاں کرتے تھے اور بڑے ہی اعتماد کے ساتھ اس طرح کے پیغمبر کے آنے کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے۔

اور یہ تمام علامتیں اور نشانیاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اور آپ کے کاموں سے مطابقت کر گئیں یہودیوں کے بزرگ مذہبی افراد اس فکر میں رہتے تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدد کر کے انھیں اپنی طرف کھینچ لیں اور نتیجہ میں ان کے اطراف کی مذہبی قدرت کو حاصل کر لیں لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی توبڑی تیزی سے اسلام پھیلا اور یہودیوں کی طاقت سے زیادہ پیغمبر کو قدرت وطاقت حاصل ہوئی اور اسلام کے منتقل ہونے کی وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی بھی صورت میں اس بات پر راضی نہیں تھے کہ یہودیوں کے پرچم تلے اپنی زندگی گزاریں یہی بات یہودیوں کی محفلوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کا سبب بنی۔

یہودیوں نے طرح طرح سے اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا جیسا کہ سورہٴ بقرہ اور سورہ ٴ نساء کی آیتوں میں ان کاا سلام سے بغض و عناد بیان ہوا ہے مثلاًان کے کاموں میں سے ایک کام یہ تھا کہ وہ ”اوس“ و”خزرج“کے درمیان ۱۲۰ سالہ پرانے اختلاف(۱)[1] کوپھر سے ابھاریں اور مسلمانوں کی متحد صفوں کو انتشار کا شکار بنائیں لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کی ہوشیاری نے ان کے اس عزم وارادہ کوخاک میں ملادیا اور اسی طرح ان کی بہت سی دوسری سازشوں کو بھی پورا نہیں ہونے دیا۔

ایک راستہ جس کے ذریعہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے تھے وہ مناظرہ یا آزادانہ بحث[2] بھی تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی اس پیش کش کو ہنسی خوشی قبول کر لیا وہ آئے اور پیغمبر سے مجادلہ اور پیچیدہ سوال کر کے انھیں لا جواب بنا دینا چاہتے تھے لیکن اس آزاد بحث سے خود انھیں ہی نقصان اٹھا نا پڑا، اور لوگوں کو پیغمبر  صلی الله علیه و آله وسلم کے علمی مقام اور غیبی اطلاعات کی آگاہی حاصل

ہوئی جس کی وجہ سے بعض یہودی اور بت پرست اسلام کے گرویدہ ہوگئے۔

لیکن وہ لوگ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بحث سے قانع ہونے کے باوجود بڑی دلیری کے ساتھ کہنے لگے کہ ہم تمہاری باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہیں:  ” قُلُوبُنَا غُلْفٌ“[3]  ہمارے دلوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔

یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مناظرے اور مجادلے بہت ہیں جن کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بڑی ہی ہمت کے ساتھ انجام دیا اور ان کی قضاوت و فیصلے نے پوری دنیا کو دعوت فکر دی۔

بطور نمونہ ان میں سے صرف دو یہ مناظرے ملاحظہ فرمائیں:

پہلا نمونہ

جب عبد اللہ بن سلام ایمان لے آیا:

یہودیوں کے بزرگ علماء میں سے ایک مشہور و معروف عالم دین جس کا نام ”عبد اللہ بن سلام“ اور یہودی قبیلہٴ بنی قینقاع سے تعلق رکھتا تھا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجرت کے پہلے سال ایک روز عبد اللہ بن سلام[4] آپ کی نشست میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ اپنے موعظہ میں اس طرح کی چیزیں بیان کر رہے ہیں۔

”اے لوگو! آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرو اوران تک کھانا پہنچاوٴ،اپنے رشتہ داروں سے مل جل کر رہو،آدھی رات کو جب ساری دنیا سو جایا کرے تو اٹھ کر نماز شب پڑھو اور خداوند متعال سے راز ونیاز کرو تاکہ سلامتی کے ساتھ خدا وند متعال کی بہشت میں داخل ہو سکو“۔



1 2 3 4 next