تقیہ کے وسیلہ میں ایک بحث



 عقل اور تقیہ 

 تقیہ در اصل ایک عقلی امر ہے ، جس کی بنا مہم اور اہم کے عقلی قاعدہ پرہے، کیونکہ تمام انسان، قطع نظر دینداراور غیر دیندار، کی یہ سیرت رہی ہے کہ جب بھی اپنی جان ، مال و آبرو کو، خطرے میں محسوس کرتے ہےں ، اور دیکھتے ہےںکہ اگر اپنے مذہب کے بر خلاف قول اور فعل کو اظہار کریں گے جو کہ خطرے پہنچانے والے کے موافق ہے تو محفوظ رہیں گے، یعنی تقیہ کے ذریعہ ہم ان خطرات سے بچ جائیں گے تو ان موارد پر تمام لوگ تقیہ اختیار کرتے ہیں ، اور دشمن کے خطرے کو اس طرح ٹال دیتے ہیں ، اس وقت بھی تمام انسانی معاشرہ میں یہ سیرت رائج اور مستقر ہے ، جیسا کہ اگر کسی مقام پر کوئی جان اور مال یا آبرو سے اہم امر خطرے میں ہو تو اس کو مقدم کرتے ہیں اور اپنی جان ، مال اور آبرو سے ہاتھ دھو لیتے ہیں ۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اہم اور مہم کے مصادیق میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہو ، لیکن یہ اختلاف جبکہ تمام عقلائے عالم تقیہ کے کلی حکم میں اتفاق نظر رکھتے ہیں،منافات نہیں رکھتا ،البتہ ایسے مصادیق بھی پائے جاتے ہیں جہاں تمام عقلاء اتفاق نظر رکھتے ہیں، جیسے عمومی امنیت کی حفاظت کرنا ، یہ وہ مصلحت ہے جہاں تمام عقلائے بشر اس کی اہمیت کے خصوصی طور سے قائل ہیں ، اور اسکی حفاظت کے لئے اپنی جان اور مال کو بھی قربان کرنا صحیح سمجھتے ہیں ۔

 قرآن اور تقیہ

بعض آیات نے واضح طور پر تقیہ کو ایک شرعی قاعدہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے :

۱۔ < لَا یَتَّخِذِ الْمُوْٴمِنُوْنَ الْکَافِرِینَ اَوْلِیٰاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُوْٴمِنِینَ،وَمَنْ یَّفعَلْ ذَالِکَ فَلَیسَ مِنَ الِلہ فِیْ شَیٍٴ اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنہُمْ تُقَاْةً >(۳)

ترجمہ :۔مومنین ؛مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا سر پرست ہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا  تو اس سے خدا سے کچھ سرو کار نہیں، مگر ( اس قسم کی تدبیروں سے ) کسی طرح ان (کے شر) سے بچنا چاہو ، تو( خیر ) ۔  

عالم اہل سنت علامہ مراغی اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں : علمائے اسلام نے اس آیت سے جواز تقیہ کا استنباط کیا ہے ، یعنی انسان ایسی بات کہے یا ایسا کام انجام دے جو حق کی بر خلاف ہو ، اس ضرر سے بچنے کے لئے جو دشمن کی جانب سے اس کی جان ، مال ، آبرو یا شرف کو پہنچنے والا ہے۔(۴)

۲۔< مَنْ کَفَرَ بِاللہ مِنْ بَعدِ اِیمَاِنہ اِلَّا مَنْ اُکرِہَ وَ قَلْبُہُ مُطَمَئِنٌّ بِالاِیمَانِ وَلٰکِنْ مَنْ شَرَحَ باِلکُفرِ صَدْراً فَعَلَیہِمْ غَضَبٌ مِنَ اللِہ وَلَہُمْ عَذَاْبٌ عَظِیمٌ > (۵)

ترجمہ :۔سوا اس شخص کے جو کلمہ ٴ کفر پر مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ، اور جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے بلکہ خوب سینہ کشادہ ( جی کھول کر )کفر کرے تو ان پر خدا کا عذاب ہے ، اور ان کے لئے بڑا سخت عذاب ہے ۔ 

مذکورہ آیت کا مفہوم قانون تقیہ کے علاوہ کسی اور قاعدہ سے منطبق نہیں ہوتا ۔

اسلامی تمام محدثین اور مفسرین ( شیعہ و سنی ) نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت جناب عمار یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جب وہ، ان کے ماں باپ ( سمیہ اور یاسر)اور دوسرے اصحاب کو، کفار و مشرکین کی جانب سے آزار و اذیت دی گئی اور عمار اور سمیہ شہید ہوگئے تو عمار نے وہ کلمہ کہہ دئے جسے مشرکین چاہتے تھے ، لہٰذا آپ نے ان کی اذیت سے نجات حاصل کی   اور اپنی جان اس طرح بچا لی ، لیکن اپنے عمل کے بارے میں بہت پشیمان ہوئے لہٰذا روتے ہوئے رسول کے پاس پہونچے اور سارا واقعہ بیان کیا ، رسول اسلام نے انھیں دلاسا دیتے ہوئے فرمایا :اگر وہ دوبارہ پھرتم سے ایسی بات کہلوانا چاہیں تو کہہ دینا ، اس وقت یہ نازل ہوئی ۔(۶)



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next