سند حدیث ثقلین پر ایک بحث



۱۔ عنقریب (موت کے لئے) بلایا گیا ھوں میں نے اس پر لبیک کھی ھے اور تمھارے درمیان دو گر نقدر چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کتاب خدا جو آسمان سے لیکر زمین تک ایک آو یز ان ریسمان ھے اور میری عترت۔ خدا وندے علیم و خبیر نے مجھ کو اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ پس دھیان رکھو کہ تم لوگ اس دوامر میں میری کس طرح سے جماعت کرتے ہو۔ ([1])

 ۲۔در حقیقت تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ دو چیزیں قیمتی ھیں کہ جس میں سے ایک کا رتبہ دوسرے سے بلند ھے۔

اور غدیر خم کے موقع پر رسول خدا(ص) نے اس فقرے کا اضافہ کیا ھے۔ (پسدھیان رکھو کہ ان دو چیزوں میں تم لوگ کس طرح سے میری مدد کرتے ہو یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے) اس کے بعد فرمایا (خدا میرا مولا ھے میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں ) اس بعد حضرت علی عليه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا جس کا میں مولا ھوں علی اس کے مولا ھیں۔ ([2])

۳۔ غدیر خم میں بھی رسول نے فرمایا: اپنے اھلبیت کے بارے میں تمھیں یاد دھانی کراتا ھوں (کہ ان کے حق کا لحاظ کرنا اور ان کی پیروی کرنا) اور تین دفعہ اس جملہ کو دھرایا۔ ([3])

۴۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے (جس دن آپ کی وفات ہوئی اسی دن آخری خطبہ میں) فرمایا: یقینا تمھارے درمیان دو چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے مستمک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ۱۔ کتاب خدا۔۲۔ میری عترت۔ خدائے رحیم وعلیم نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے ان دونوں کی طرح اس کے بعد دونوں ھاتھ کی انگشت شھادت کو اکھٹا کرکے فرمایا: یوں (اور انگشت شھادت اور انگشت وسطیٰ کو ملا کر فرمایا:)

ان دونوں سے اپنا واسطہ جوڑ لو اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ور نہ گمراہ ہوجاوٴ گے۔ ([4])

۵۔ حتمی طور پر اپنے بعد تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگران سے مستمک رہو گے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے کتاب خدا جو کہ تمھارے سامنے ھے دن و رات اس کو پڑھو اور قرآن میں وہ سب کچھ ھے جو تم چاھتے ہو اور پسند کرتے ہو۔

ایک دوسرے کے رقیب نہ بنو ایک اور دوسرے سے حسد نہ کرو دشمنی نہ کرو آپس میں برادرانہ رویہ اختیار کرو کیونکہ خدا نے تمھیں اس بات کا حکم دیا ھے۔ آگاہ ہو جاٴو (ان نصیحتوں کے بعد) تمھیں اپنی آلعليهم السلام کے لئے وصیت و شفارش کررھا ھوں ۔ ([5])

۶۔لھٰذا ن (قرآن و عترت) سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ ھلاکت ھے ان کو کوئی چیز نہ سکھاوٴ کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں ([6])

۷۔میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ (گمراہ ہوکر) مروگے اپنے آپ کو علوم و معارف الٰھی میں ان سے بے نیاز نہ سمجھو کیونکہ تمھیں موت آنے والی ھے۔ یقینا ان کی مثال کشتی نوح کی مانند ھے جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا ھلاک ہوا۔ ان کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ ([7])کی سی ھے جو کوئی اس میں داخل ہوا خدا نے اس کو معاف کر دیا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ میری عترت میری امت کے لئے امان ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 next