آیہٴ اکمال کی وضاحت



 

 

حضرت علی علیہ السلام کی امامت و ولایت پر دلالت کرنے والی آیات میں سے اور حدیث ”غدیر“ سے امامت و ولایت کے معنی کی تائید کرنے والی مشھور آیت ”آیہ اکمال“ ھے، جس میں خداوندعالم فرماتا ھے:

<۔۔۔الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا۔۔۔>[1]

”آج میں نے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے اس دین اسلام کو پسند کیا۔“

اس آیت کے ذیل میں فریقین سے متعدد روایات بیان ھوئی ھیں کہ یہ آیہ شریفہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی شان میں نازل ھوئی ھے۔ چنانچہ اب ھم ان روایات کی چھان بین شروع کرتے ھیں۔

احادیث کی چھان بین

اھل سنت کی معتبر کتابوں کی ورق گردانی سے ایسی صحیح السند روایات ملتی ھیں جو آیت کے شان نزول کو حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص مانتی ھیں۔ اب ھم ان روایات کی تحقیق کرتے ھیں:

۱۔ ابو نعیم اصفھانی کی روایت

ابو نعیم، محمد بن احمد بن علی بن مخلّد سے، وہ محمد بن عثمان بن ابی شیبہ سے، وہ یحییٰ حمانی سے، وہ قیس بن ربیع سے، وہ ابی ھارون عبدی سے اور وہ ابو سعید خدری سے روایت کرتے ھیں کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے روز غدیر خم لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام کی طرف دعوت دی اور حکم دیا کہ اس درخت کے نیچے سے خار و خاشاک (یعنی جھاڑی وغیرہ) صاف کردیں، اور یہ جمعرات کے دن کا واقعہ ھے ، آنحضرت   نے علی علیہ السلام کو بلایا اور ان کے دونوں بازو کو پکڑ کر بلند فرمایا، یھاں تک کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی سفیدی بغل نمودار ھوگئیں۔۔۔ ابھی لوگ متفرق نھیں ھوئے تھے یہ آیہ شریفہ نازل ھوئی: <۔۔۔الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا۔۔۔>، اسی موقع پر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

” اللہ اکبر دین کامل کرنے، نعمتیں تمام ھونے، میری رسالت اور میرے بعد علی (علیہ السلام) کی ولایت پر پرودگار کی راضی ھونے پر۔ اور اس موقع پر فرمایا: جس کا میں مولا ھوں اس کے یہ علی بھی مولا ھیں۔ پالنے والے! جو شخص ان کی ولایت کو قبول کرے، تو بھی اس کو دوست رکھ اور جو ان سے دشمنی کرے تو بھی اس کو دشمن رکھ ، جو ان کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو ان کو ذلیل کرنا چاھے تو بھی اس کو ذلیل و خوار فرما۔۔۔۔“[2]

سند کی چھان بین

ز محمد بن احمد بن علی بن مخلّد معروف بہ ابن محرم؛ موصوف ابن جریر طبری کے بڑے شاگردوں میں اور ان کے ھم عقیدہ ھیں، جن کو دار قطنی اور ابوبکر برقانی نے معتبر مانا ھے، اور ذھبی نے ان کو ”امام“  کا لقب دیا ھے[3] اور اگر بعض لوگوں کی طرف سے ان کی تضعیف ھوئی ھے تو اس کی وجہ اھل بیت علیھم السلام کے فضائل و مناقب بیان کرنا ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 next