پیغمبر اکرم(ص)کے سامنے (خلافت کے سلسله میں) تین راستے



قارئین کرام! ھم نے یہ عرض کیا تھا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)خلافت اور جانشینی کے مسئلہ میں اپنی امت کے درمیان ھونے والے اختلاف اور فتنہ سے آگاہ تھے، اب سوال یہ اٹھتا ھے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اس فتنہ سے مقابلہ کے لئے کیا کیا تدبیریں سوچی تھیں؟ کیا آپ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا اور اس کے لئے کوئی راہ حل پیش کی، یا نھیں؟

ھم اس سوال کے جواب میں عرض کرتے ھیں کہ یھاں پر درج ذیل تین احتمال کا تصور کیا جاسکتا ھے:

الف۔  غیر ذمہ دارانہ طریقہ:  یعنی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنی ذمہ داری کا ذرا بھی احساس نہ کیا۔

ب۔ ذمہ دارانہ طریقہ ، لیکن شوریٰ کے حوالہ کرنا: یعنی آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اختلاف اور جھگڑے کو دور کرنے کے لئے شوریٰ کی طرف دعوت دی تاکہ شوریٰ کی نظر کے مطابق عمل کیا جائے۔

ج۔  ذمہ دارانہ طریقہ لیکن معین کرنا:  یعنی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فتنہ اور اختلاف کو دور کرنے کے لئے اپنا جانشین معین کیا۔

پھلے طریقہ کار کے طرف دار

سب سے پھلے جس نے اس طریقہ کار کو شایع کیا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے کسی کے لئے وصیت نھیں فرمائی، جناب عائشہ تھیں، چنانچہ وہ کہتی ھیں:

 ”پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)جن کا سر میری آغوش میں تھا، اس دنیا سے چلے گئے اور کسی کے لئے وصیت نھیں کی۔“[1]

ابوبکر بھی آپ کی وفات کے وقت کہتے ھیں:

”میں چاہتا تھا کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے سوال کروں کہ خلافت کا مستحق کون ھے؟ تاکہ اس سلسلہ میں اختلاف نہ ھو۔“[2]

ایک دوسرے مقام پر موصوف کہتے ھیں:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next