تمام اصحاب پر حضرت علی علیہ السلام کی برتری



 

امام کی امامت کے لئے متکلمین کے نزدیک ایک شرط یہ ھے کہ امام اپنے زمانہ میں سب سے افضل ھو، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:

< اٴَفَمَنْ یَہْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَہِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُہْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ>[1]

”اور جو حق کی ہدایت کرتا ھے وہ واقعاً قابل اتباع ھے؟ یا جو ہدایت کرنے کے قابل نھیں ھے!! مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے، تو آخر تمھیں کیا ھوگیا ھے اور تم کیسے فیصلے کر رھے ھو“!!

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

”جو شخص دس لوگوں پر کسی شخص کو معین کرے اور یہ جانتا ھو کہ ان دس لوگوں میں اس سے افضل کوئی دوسرا موجود ھے تو اس نے خدا و رسول اور مومنین کے ساتھ دھوکہ کیا ھے۔“[2]

احمد بن حنبل نے اپنی سند کے ساتھ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے روایت کی ھے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:

 ”جو شخص کسی کو ایک جماعت پر معین کرے جب کے وہ یہ جانتا ھو کہ ان کے درمیان اس سے بہتر کوئی موجود ھے تو اس نے خدا و رسول اور مومنین کے ساتھ خیانت کی ھے۔“[3]

خلیل بن احمد سے کھا گیا: تم کیوں علی (علیہ السلام) کی مدح نھیں کرتے؟

اس نے کھا: میں اس ذات کے بارے میں کیا کھوں جس کے دوستوں نے بھی خوف کی وجہ سے اس کے فضائل کو چھپایا، اور دشمنوں نے ان کی دشمنی کی وجہ سے ان کے فضائل کو چھپایا، جبکہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ھر طرف نظر آتے ھیں[4]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next