جشن غدیر منعقد کرنا



 

مخصوص تاریخوں اور خاص حالات میں مسلمانوں کے درمیان انجام پانے والے اعمال میں سے ایک کام مخصوص دنوں میں جشن و محفل منعقد کرنا ھے۔ اور یہ کام اس روز کی اھمیت اور عظمت کی وجہ سے ھوتا ھے، چاھے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی بعثت کا دن ھو یا کسی امام کی ولادت کا دن یا کوئی اور مخصوص مناسبت۔

مسلمان ان مقدس دنوں میں معصومین علیھم السلام سے معنوی اور روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی محافل منعقد کرتے ھیں اور ان کے ذریعہ عظیم برکتیں حاصل کرتے ھیں، لیکن افسوس کہ ھمیشہ سے وھابی لوگ ان برکتوں سے محروم رھنے کے علاوہ دوسروں کو بھی اس طرح کی محفل منعقد کرنے سے روکتے ھیں، اور اس طریقہ سے دشمنان اسلام کے مقاصد کو پورا کرتے ھیں، کیونکہ دشمن کبھی بھی یہ نھیں چاہتا کہ مسلمان اپنے مقدسات سے دوبارہ عہد و پیمان کرتے رھیں۔ لہٰذا موضوع کی اھمیت کے پیش نظر اس سلسلہ میں تحقیق کرتے ھیں۔

وھابیوں کے فتوے

۱۔ ابن تیمیہ کا کھنا ھے:

”۔۔۔دنوں کی دوسری قسم وہ دن ھیں جن میں بعض واقعات رونما ھوئے ھیں جیسے ۱۸/ ذی الحجہ، اور جیسا کہ بعض لوگ اس دن عید مناتے ھیں، جبکہ کی کوئی اصل اور بنیاد نھیں ھے، کیونکہ اصحاب اور اھل بیت وغیرہ نے اس دن کو عید قرار نھیں دیا ھے، کیونکہ عید اس شرعی حکم کو کھا جاتا ھے جس کی پیروی کا حکم ھوا ھو، نہ یہ کہ بدعت ایجاد کی جائے۔ یہ کام عیسائیوں کی طرح ھے جنھوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق بعض واقعات کے دن عید منانا شروع کردیا۔“[1]

۲۔ شیخ عبد العزیز بن باز کا کھنا ھے:

”یہ جائز نھیں ھے کہ پیغمبر یا کسی غیر کے لئے کوئی محفل منعقد کی جائے۔ اور یہ کام دین میں پیدا ھونے والی بدعتوں میں سے ھے، کیونکہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اور خلفائے راشدین نیز دیگر اصحاب و تابعین نے ایسا کوئی کام انجام نھیں دیا ھے۔“[2]

۳۔ وھابیت فتوی کمیٹی کے دائمی ممبر وں کا کھنا ھے:

”یہ جائز نھیں ھے کہ انبیاء و صالحین کے سوگ میں یا ان کے روز پیدائش پر ان کی یاد کو زندہ کرنے کے لئے محفل و مجلس منعقد کی جائے اور اسی طرح علَم اٹھانا یا ان کی قبروں پر شمع جلانا (بھی جائز نھیں ھے)۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں دین میں ایجاد کی گئی بدعتیں اور شرک ھیں، پیغمبر اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، گزشتہ انبیاء اور صالحین نے اس طرح کا کوئی کام انجام نھیں دیا ھے۔ اسی طرح شروع کی تین صدیوں میں کہ جو اسلام کی بہترین صدیاں کھلاتی ھیں ان میں کسی صحابی یا مسلمانوں کے امام نے یہ عمل انجام نھیں دیا ھے۔“[3]

۴۔ ابن فوزان کا کھنا ھے:

”اس زمانہ میں بہت سی بدعتیں پیدا ھوگئی ھیں؛ جیسے ماہ ربیع الاول میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی ولادت کی مناسب پر محفل وغیرہ منعقد کرنا۔“[4]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next