حدیث غدیر پر اکثر صحابہ کے اعتراض کا راز



 

جب اھل سنت اور شیعوں کے درمیان حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی بلا فصل ولایت کی حقانیت سے طولانی بحثیں ھوتی ھیں اور اھل سنت، حضرت امیر علیہ السلام کی خلافت و امامت کے دلائل منجملہ حدیث غدیر کو ملاحظہ کرتے ھیں اور اس کی سند کی صحت اور استحکام کو دیکھتے ھیں تو ان کی طرف سے آخری سوال یا اعتراض یہ ھوتا ھے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شان اور آپ کی امامت کے بارے میں اتنی زیادہ آیات و روایات کے باوجود صحابہ کرام نے ان پر کیوں توجہ نھیں کی؟ اور حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف چلے گئے اور ان کو خلافت کے لئے منتخب کرلیا؟ کیا حضرت علی علیہ السلام سے لوگوں کا اعراض (یعنی بے توجھی) ان مذکورہ روایات کے ضعیف ھونے کی نشانی نھیں ھے؟

شیخ سلیم البشری ، مرحوم سید شرف الدین عاملی سے طولانی بحث کرنے اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی بلا فصل امامت و ولایت سے متعلق احادیث کی تصدیق کرنے کے بعد کہتے ھیں:

 ”میں کیا کھوں! اگر ان دلیلوں کو د یکھتا ھوں تو سند اور دلالت کے لحاظ سے مکمل طور پر صحیح پاتا ھوں، لیکن دوسری طرف دیکھتا ھوں کہ اکثر صحابہ نے حضرت علی علیہ السلام سے اعراض کیا ھے، جس کے معنی یہ ھیں کہ انھوں نے ان روایتوں پر عمل نھیں کیا ھے، میں ایسے حالات میں کہ اتنی بڑی تعداد ایک طرف ھے، کیا کروں؟۔“[1]

لہٰذا اس موقع پر مناسب ھے کہ اس سوال اور اعتراض کی چھان بین کریں اور مسئلہ کو اچھی طرح واضح کریں تاکہ حق و حقیقت روشن ھوجائے۔

پھلا سبب: صحابہ کے درمیان دو نظریوں کا وجود

جو شخص پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے زمانہ یا ان کے بعد حیات صحابہ کے سلسلہ میں کتابوں کی ورق گردانی کرے تو اس کو یہ معلوم ھوجائے گا کہ صحابہ کرام کے درمیان فکری لحاظ سے دو نظرئے پائے جاتے تھے:

الف۔ نص کے مقابل اجتھاد کا نظریہ

اس نظریہ پر اعتقاد رکھنے والے اس بات کا عقیدہ رکھتے تھے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی تمام خبروں اور احکام پر ایمان لانا اور ان کو بدون چون و چرا قبول کرنا ضروری نھیں ھے؛ بلکہ دینی تحریروں (نصوص) میں مصلحت کے پیش نظر اجتھاد کرتے ھوئے دخل و تصرف کیا جاسکتا ھے۔ یہ نظریہ مکتب خلفاء کا بنیادی مسئلہ ھے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اس نظریہ کی وجہ سے بہت سے مصائب برداشت کئے ھیں۔

ب۔ اس نظریہ کے مقابلہ میں ایک دوسرا نظریہ بھی ھے جس کا اعتقاد ھے کہ دین و شریعت کے تمام احکام کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے ا ور ان کو چون و چرا کے بغیر قبول کیا جائے۔ یہ نظریہ وھی اھل بیت علیھم السلام کا راستہ یا دوسرے لفظوں میں اھل بیت علیھم السلام کا مکتب ھے۔

اجتھادی طریقہ کے طرفداران

چونکہ ”نص کے مقابل اجتھاد“، مصلحتوں کی رعایت کی خاطر انسان کی اپنی مرضی اور خواہشات نفس کے مطابق ھوتا ھے، لہٰذا بعض اصحاب نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے زمانہ سے ھی یہ کام کرنا شروع کردیا، اور عملی طور پر آنحضرت  سے مقابلہ شروع کیا، جن میں سر فھرست حضرت عمر بن خطاب کا نام آتا ھے۔ موصوف نے صلح حدیبیہ کے موقع پر شدیداً پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی مخالفت کی[2] اور اذان میں دخل و تصرف کیا ”حیّ علیٰ خیر العمل“[3] کو نکال دیا اور اس کی جگہ صبح کی اذان میں ”الصلاة خیر من النوم“



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 next