غدیر اور اسلامی وحدت



 

 

 

تالیف:  علی اصغر رضوانی  

 

ترجمہ:   اقبال حیدر حیدری 

 

عصر حاضر میں بعض لوگ غدیر اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت کی گفتگو (چونکہ اس کو بہت زمانہ گزر چکا ھے) کو بے فائدہ بلکہ نقصان دہ سمجھتے ھیں، کیونکہ یہ گفتگو ایک اےسے تاریخی واقعہ سے متعلق ھے جس کو صدیاں گزر چکی ھیں،لہٰذا یہ گفتگو کرنا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا جانشین کون تھا اور کون ھے؟ حضرت علی بن ابی طالب علیھم السلام یا ابوبکر؟ آج اس کا کوئی فائدہ نھیں ھے، بلکہ بعض اوقات اس سلسلہ میں گفتگو کے نتائج میں فتنہ و فساد برپا ھو، اس کے علاوہ کوئی فائدہ نھیں ھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے: اس زمانہ میںجبکہ اسلامی فرقوں کے درمیان وحدت کی اشد ضرورت ھے، تو پھر اس طرح کی اختلافی گفتگو کیوں کی جاتی ھے؟۔۔۔۔

ھم خداوندعالم کے لطف و کرم سے عصر حاضر میں ”امامت“ کی گفتگو کے آثار و فوائد کو چند مطالب کے تحت بیان کرنا چاہتے ھیں:

۱۔  وحدت کی حقیقت

چونکہ اعتراض کرنے والے لفظ ”وحدت“ پر بہت زیادہ اھمیت دیتے ھیں، لہٰذا پھلے اس لفظ کی حقیقت کو واضح کرنا ضروری ھے۔

عام طور پر ھمارے یھاں مھم عنوان اور دو اصطلاحیں پائی جاتی ھیں کہ دونوں پر غور و فکر کرنا ضروری ھے اور ان کو ایک دوسرے پر قربان نھیں کرنا چاہئے؛ ان میں سے ایک ”وحدت، اور امت اسلامیہ کے اتحاد“ کو محفوظ رکھنا ، اور دوسرے ”اصل اسلام“ کو محفوظ رکھنا ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 next