غدیر کے سلسله میں اعتراضات کی تحقیق



 

تالیف:  علی اصغر رضوانی  

 

ترجمہ:   اقبال حیدر حیدری 

 

چونکہ حدیث غدیر حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت و امامت پر بہت ھی مضبوط اور مستحکم دلیل ھے ، لیکن اھل سنت نے اس حدیث پر سند یا دلالت (معنی و مفھوم) پر اعتراض کرنے کی (بے جا) کوشش کی ھے، لہٰذا ھم یھاں پر ان اعتراض کو بیان کرکے ان کے جوابات پیش کرتے ھیں:

۱۔ حدیث غدیر ثقہ طریقہ سے نقل نھیں ھوئی ھے!!

ابن حزم کا کھنا ھے:

 ”لیکن حدیث ”من کنت مولا ہ فعلیّ مولاہ“ ، موثق طریقہ سے نقل نھیں ھوئی ھے لہٰذا صحیح نھیں ھے۔“[1]

جواب:

اول: جیسا کہ ھم نے پھلے عرض کیا ھے کہ بہت سے علمائے اھل سنت نے اس حدیث غدیر کے صحیح ھونے کا اقرار کیا ھے، (دوبارہ اس حصہ کا مطالعہ کرلیں)

دوم: ابن حزم ، وہ شخص ھے جس کے گمراہ ھونے پر اس کے عم عصر تمام فقھاء نے اتفاق کیا ھے، اور یھی نھیں بلکہ عوام الناس کو اس کے قریب ھونے سے منع کیا ھے[2]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 next