غدیر کے سلسله میں وھابیوں کے ا عتراضات کی تحقیق



 

 

تالیف:  علی اصغر رضوانی  

 

ترجمہ:   اقبال حیدر حیدری 

 

آیات، روایات اور مسلمانوں کی سیرت سے جشن و محفل کے جائز بلکہ رجحان و مستحب ھونے کی دلیلوں کے باوجود بھی وھابی لوگ مسلمانوں کے اس عمل کا مقابلہ کرتے ھیں اور بے جا اعتراضات کی بنا پر اس مقدس عمل میں مانع ھونے کی کوشش کرتے ھیں۔ اب ھم یھاں پر پھلے ان کے اعتراضات بیان کرتے ھیں اور پھر ان کے جوابات پیش کرتے ھیں:

پھلا اعتراض:کسی کی یاد منانے کے لئے کوئی پروگرام کرنا غیر خدا کی عبادت ھے[1]

جواب:یہ بات اپنی جگہ ثابت ھوچکی ھے کہ عبادت کا عنصر مقوم (یعنی جس پر عبادت کا اطلاق کیا جاتا ھے) اس کی الوھیت یا ربوبیت کا اعتقاد ھے جس کی تعظیم کی جائے۔ لہٰذا اگر کسی کی تعظیم و تکریم اس عنصر سے خالی ھو تو اس کو اصطلاح میں عبادت نھیں کھا جاتا۔

دوسرا اعتراض:اس طرح کے پروگرام میں ایسے کام ھوتے ھیں جو غالباً حرام ھیں؛ جیسے عورتوں اور مردوں کا ایک ساتھ جمع ھونا یا موسیقی کے ساتھ نظم و قصیدہ پڑھنا [2]جواب: گناہ کسی بھی زمانہ یا کسی بھی جگہ ھو حرام ھے؛ چاھے کسی پروگرام میں ھو یا اس کے علاوہ، لیکن ھم ایک ممدوح اور پسندیدہ عمل کو اس وجہ سے حرام نھیں کرسکتے کہ اس میں کبھی کبھی کوئی گناہ انجام پاتا ھے، بلکہ ھمیں حرام اور گناہ کی روک تھام کرنی چاہئے[3]

تیسرا اعتراض:پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا:



1 2 3 4 5 next