اسلام اور مغرب کی نظر میں دہشت گردی - پهلا حصه

سید حسین حیدر زیدی


بعض اسلامی فقہاء اور متفکرین کا نظریہ ہے کہ ”محاربہ“ اور ”فساد فی الارض“ ایسے الفاظ ہیں جو لفظ دہشت گردی کے مترادف ہیں اور یہ کامل طور سے ایک دوسرے پر منطبق ہیں ۔

آج کے زمانہ میں ”دہشت گردی“ کا شمار ان اہم مباحث میں ہوتا ہے جن کے متعلق سیاست مداراور سیاسی متفکرین بہت زیادہ بحثیں کرتے ہیں اور اس موضوع کی اہمیت کی وجہ سے متعدد مکتوب اور غیر مکتوب آثار مدون ہوئے ہیں ۔ لیکن اس بات میں شک نہیں کرنا چاہئے کہ گیاہ ستمبر کے حوادث کے بعد سے اسلام پر بہت زیادہ حملے ہونے شروع ہوگئے ہیں اور اس کے متعلق مغرب میں لوگوں کو تعلیم بھی دی جاتی ہے ، اسلام کے خلاف مغرب کے یہ حملات اس قدر نمایاں ہیں کہ جس کا کوئی بھی انسان انکار نہیں کرسکتا ، دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے بہانہ سے اسلام کے احکام اور تعلیمات پر مغرب والوں نے بہت شدت کے ساتھ حملے کئے اورمسلمانوں کو دہشت گرد کے عنوان سے پہچنوانے لگے اور اس کے ذریعہ وہ اپنی حاکمیت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے ۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام ، پہلے ہی دن سے دہشت گردی کامقابلہ کررہا ہے ، جس وقت دنیا میں بربریت کا بول بالاتھا ، اس وقت اسلام نے انسان کی جان ، مال اورعزت و آبرو کی حفاظت کا اعلان کیا ۔

دوسری طرف ابھی تک بین الاقوامی معاشرہ ”دہشت گردی “ کی تعریف نہیں کرپایا ، یہاں تک کہ مشترک ممالک کے ساتھ متعدد مذاکرات ہونے کے بعد بھی وہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے قدرت طلب ممالک کو بہانے فراہم ہورہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی اپنی بنائی ہوئی تعریف کی بنیاد پر اپنے ممالک کے اہداف و مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اپنے دشمنوں سے ”دہشت گردی“ کے نام پر جنگ کررہے ہیں ۔

اس وجہ سے ضرورت ہے کہ دہشت گردی سے متعلق اسلام کے نظریہ کو بیان کرنے سے پہلے اس لفظ کی تعاریف کو بیان کیا جائے اس حصہ کی مشکلات کوآسان کیا جائے ۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ اس لفظ کی اصل مغرب کی ادبیات سے متعلق ہے اس لئے اس مسئلہ میں مغرب کے نظریات کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے، اس کے بعد اسلام کے نظریات کو بیان کیا جائے اور دہشت گردی کی تعریف میں موجود مشترک نکات کی طرف توجہ کرتے ہوئے اسلام کے احکام سے دہشت گردی کے خلاف نظریات کو بیان کیا جائے ۔

اس تحقیق میں اس مسئلہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام دہشت گردی کا دین نہیں ہے بلکہ اسلام نے دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لئے اساسی راہ حل بھی بیان کئے ہیں ، اسی طرح اس تحقیق میں اس بات کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ دہشت گردی کی تعاریف کے مشترک ہونے کی وجہ سے اسلام کے نظریہ کو ان کے متعلق بیان کیا جائے لیکن اس تحقیق کی محدودیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اسلام کی بیان کردہ جدید تعریف کے ذریعہ دہشت گردی کے مصادیق کو بھی بیان کریں اس وجہ سے ایک دوسری تحقیق کی ضرورت ہے جس میںاسلام کی بلند تعلیمات اور احکام کو بیان کیا جائے اور اس کے ذریعہ سے دہشت گردی کی ایک جامع تعریف حاصل کی جائے جو آج کی تعریف سے باکل الگ ہے اور اس کی بانسبت کامل تر ہے ۔

دہشت گردی“ کی تعریف

 الف :  لغت میں ”دہشت گردی

دہشت گردی کا شمار ان الفاظ میں ہوتا ہے جن کی اصل مغربی لغت میں پائی جاتی ہے لہذا اس وجہ سے اہل لغت کی قدیم کتابوں میں یہ لفظ نہیں ملتا ، لیکن  معاصرکے بعض لغت دانوں نے اس لفظ کو اپنی لغات میں بیان کیا ہے ، منجملہ لغت نامہ دہخدا نے ”دہشت گردی“ کی تعریف میں لکھا ہے : ”ٹرور“ Terreur سے ماخوذ ہے جس کے معنی فارسی میں اسلحہ کے ذریعہ سیاسی قتل کے رائج ہوگئے ہیں اورآج عربی لفظ ”اھراق“ کو ٹرور کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہیں ، فرانسیسی لغت میں یہ لفظ خوف و وحشت کے معنی میں آیا ہے اور دہشت گردی کی حکومت اس انقلابی حکومت کے اصول میں سے ہے جو کہ ژیروندوں  (۳۱ مئی ۱۹۷۳ سے ۱۹۷۴ تک)کی حکومت کے ساقط ہونے کے بعد فرانس میں مستقر ہوئی اور اس نے بہت سے لوگوں کو سیاسی پھانسی پر چڑھایا(۲) ۔

اس لغت میں دہشت گردی کی تعریف میں بیان ہوا ہے : ” اصل حکومت یعنی وحشت و فشار جو کہ فرانس (۱۹۹۳ سے ۱۹۹۴ تک)کی حکومت کے قوانین میں سے ایک قانون ہے ۔ فارسی زبان میں یہ کلمہ ایسی اصل پر اطلاق ہوتا ہے جس میں سیاسی قتل اور ٹرور سے دفاع ہوتا ہے (۳) ۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ لغت کی کتابوں میں اس لفظ کے اصطلاحی معنی کی طرف بھی توجہ کی گئی ہے اور اس لفظ کے بہتر معنی کو درک کرنے کے لئے اس کے اصطلاحی مفہوم سے متعلق بحث کرنے پر مجبور ہیں البتہ اہل لغت کی کتابوں میں لفظ ٹرور پایا جاتا ہے لیکن یہ لفظ دہشت گردی کے مساوی نہیں ہے اور ان میں کچھ فرق پایا جاتا ہے جن کی طرف بعد میں آنے والی بحثوں میں اشارہ کیا جائے گا ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 next