دنیا ،منجی عالم بشریت کے ظہور کی منتظر



ظہورکا زمانہ انسانوں کی سعادت ، خوش بختی اور مستضعفان کی نجات کا وقت ہے ۔

منجی عالم بشریت کے ظہور کی حقیقت اوردنیا کے امور کی اصلاح ان بدیہات اور مسلمات میں سے ہے جن کاعقل سلیم کبھی بھی انکار نہیں کرسکتی ۔ تمام ادیان و مذاہب اور انسانوں کے حقیقی اعتقادات میں منجی عالم بشریت کی نشانیاں موجود ہیں اور تمام انسانوں اس کے ظہور کے منتظر ہیں ۔آسمانی کتاب اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا دائمی معجزہ قرآن کریم ، سورہ انبیاء میں فرماتا ہے : ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون ۔ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین ۔

 اور ہم نے ذکر(توریت) کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے ۔ یقینا اس میں عبادت گزار قوم کے لئے ایک پیغام ہے (۱) ۔

ارض“ پوری زمین کو کہا جاتا ہے ۔ لغت میں ”ارث“ کے معنی اس چیز کے ہیں جو بغیر کسی معاملہ اور لین دین کے کسی کو مل جاتی ہے ، لیکن قرآن کریم میں بعض جگہوں پر ”ارث“ کے معنی کسی صالح قوم کا صالح افراد کے اوپر کامیاب ومسلط ہونے اور ان کے امکانات و ہدایا کو اپنے اختیار میں لینے کے بیان ہوئے ہیں:  ” و اورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض و مغاربھا“ (۲) ۔  

 اور ہم نے مستضعفین کوزمین کے شرق و غرب کا وارث بنادیااور اس میں برکت عطا کردی۔

لغت میں ”زبور “ کے معنی ہر طرح کی لکھائی اور کتابت کو کہتے ہیں ، بعض مفسرین منجملہ صاحب مجمع البیان اور فخر رازی نے یہاں پر ”زبور“ کو گذشتہ انبیاء کی کتابوں کے معنی میں بیان کیا ہے ۔ اصطلاح میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی کتاب پر اطلاق ہوتا ہے جس کو عہد قدیم میں ”مزامیر داؤد “کہتے تھے ۔ اس کتاب میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مناجات، عبادات اور نصیحتیں بیان ہوئی ہیں ۔

اصل میں ”ذکر“ کے معنی یادآوری یا اس چیز کے ہیں جو یادآوری کا سبب ہو۔ لیکن اس آیت میں حضرت موسی (علیہ السلام) کی آسمانی کتاب یعنی توریت کی طرف اشارہ ہے جیسے : ” ولقد آتینا موسی و ھارون الفرقان و ضیاء و ذکرا للمتقین“ ۔

اور ہم نے موسٰی علیہ السّلام اور ہارون علیہ السّلام کو حق و باطل میں فرق کرنے والی وہ کتاب عطا کی ہے جو ہدایت کی روشنی اور صاحبانِ تقویٰ کے لئے یاد الٰہی کا ذریعہ ہے (۳) ۔

لہذا آیات کا مفہوم یہ ہوتا ہے : توریت کے علاوہ زبور میں بھی ہم نے لکھا ہے کہ میرے صالح اور لائق بندے زمین کو اپنے اختیار میں لے لیں گے اور یہی عبادت کرنے (اور خداوند عالم کی بندگی کی راہ میں قدم اٹھانے) والوں کا اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے کافی ہے ۔شایدحضرت داؤد (علیہ السلام) کا نام اس لئے لیا گیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا شمار ان بزرگ پیغمبروں میں ہوتا ہے جنہوں نے حق و عدالت کی حکومت کو قائم کیا تھا ، اگر چہ ان کی حکومت صرف ان کے علاقہ سے مخصوص تھی اور پوری دنیا پر نہیں تھی ، لیکن حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بشارت دی گئی ہے کہ ایک ایسی حکومت قائم ہوگی جس میں آزادی، عدالت اور امن و امان ہوگا ۔

مندرجہ ذیل روایت میںآیات کی تفسیر مجمع البیان میں اس طرح بیان ہوئی ہے : ” ھم اصحاب المہدی فی آخر الزمان“ ۔  خداوند عالم نے جن صالح بندوں کو زمین کے وارث کے عنوان سے یاد کیا ہے وہ آخری زمانہ میں حضرت مہدی (عج) کے اصحاب و مددگار ہیں ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 next