دنیائے اسلام کی اہم ضرورت اسلامی اتحاد

مترجم: سید حسین حیدر زیدی


 استاد شہید مطہری کی نظر میں اسلامی اتحاد کی اہمیت، مفہوم اور کردار

یقینا اسلامی اتحاد کی آرزو مسلمانوں کے تمام مصلح اوردانشوروں کو رہی ہے اور انہوں نے اس راہ میں بہت زیادہ کوششیں بھی کی ہیں، اس عنوان میں اہم بات یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ واضح کیا جائے کہ اسلامی اتحاد سے کیامراد ہے ، ہر کوئی اپنے لحاظ سے اتحاد کا نیا مفہوم نہ سمجھے ، دوسری بات یہ کہ اسلامی اتحاد تک پہنچنے کے راستہ بیان کئے جائیں ۔

واضح ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑی مشکل آپس کا وہ تفرقہ اور اختلاف ہے جو مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان پایا جاتا ہے ، البتہ اس اختلاف و تفرقہ میں سب سے بڑاہاتھ استعمار خصوصا برطانیہ کا ہے جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے ، اگرچہ اسلامی ملکوں کے حکام کی قدرت طلبی دوسری علت بیان کی جاتی ہے اور علمائے اہل سنت اور علمائے تشیع کی غلط تدبیر تیسری علت بیان کی جاتی ہے ۔

اس تفرقہ کو دور کرنے اور اتحاد قائم کرنے کے لئے کوئی اچھا اقدام کرنا چاہئے ، جس طرح اہل سنت اور تشیع کے بزرگ علمائے اسلام جیسے علامہ شیخ عبدالمجید سلیم، علامہ شیخ محمود شلتوت، آیة اللہ بروجردی اور امام خمینی (رہ ) نے اساسی اور موثر اقدامات انجام دئیے تھے اور ہمیں اسی عمارت کو بنانا چاہئے جس کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی تاکہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت و قدرت کو دوبارہ حاصل کرسکیں، استاد شہید مطہری کی تالیفات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اس موضوع کی طرف بہت زیادہ توجہ دی ہے ،ہم اس مقالہ میں آپ کے نظریات کو بیان کریں گے ۔

آپ کے مقالہ '' الغدیر و وحدت اسلامی'' میں ہم پڑھتے ہیں:

ہمارے زمانہ کے اصلاح پسند اور دانشور مسلمان فرق و مذاہب کے اتحاد واتفاق کو خاص طور سے آج کے اوضاع و احوال کو مد نظر رکھتے ہوئے جس میں دشمن چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہمیشہ مختلف وسائل کے ذریعہ پرانے اور نئے اختلافات کو ہوا دے رہا ہے،اسلام کی سب سے اہم ضرورت سمجھتے ہیں ، اساسی طور پر جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ شارع مقدس اسلام نے اسلامی اتحاد اور بھائی چارگی کی طرف خاص توجہ دی ہے اور یہ اسلام کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے ۔ قرآن ، سنت اور تاریخ اس پر گواہ ہے ۔

اسلامی اتحاد سے کیا مراد ہے؟ کیا اسلامی اتحاد سے مراد یہ ہے کہ اسلامی مذاہب میں سے ایک مذہب کو انتخاب کرلیا جائے اور دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا جائے ، یا مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب کے مشترکات کو لے لیا جائے اور اختلافات کو چھوڑ دیا جائے اور ایک ایسا مذہب ایجاد کیا جائے جس میں موجودہ مذاہب میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو ، یا اسلامی اتحاد کا مذاہب کے اتحاد سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اورصرف اتحاد مسلمین سے مختلف مذاہب کے ماننے والوںکا اتحاد مراد ہے جس میں مذاہب کے اختلافات کے ساتھ تمام مسلمان اجنبی دشمن کے مقابلہ میں متحد ہوجائیں ۔

اتحاد مسلمین کے مخالفین ، اسلامی اتحاد سے غیر منطقی اور غیر علمی مفہوم بنانے کیلئے اس کو وحدت مذاہب کا نام دیتے ہیں تاکہ یہ پہلے ہی قدم پر شکست سے دوچار ہوجائے ۔ ظاہر ہے کہ اسلامی علماء اور دانشوروں کی اسلامی اتحاد سے مراد تمام مذاہب کو ایک مذہب میں حصر کرنا یا مشترکات کو لے لینا اور اختلافات کو چھوڑ دینا نہیں ہے جو کہ نہ معقول ہے اور نہ منطقی ہے ، بلکہ ان دانشوروں کی مراد یہ ہے کہ مسلمان ، اپنے مشترک دشمن کے مقابلہ میں ایک صف میں کھڑے ہوجائیں ۔

یہ دانشور کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں متفق ہونے کے بہت سے اسباب پائے جاتے  ہیں جس کے ذریعہ ان میں ایک محکم اتحاد قائم ہوسکتا ہے ۔ تمام مسلمان ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں، سب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں، سب کی کتاب ، قرآن اور سب کا قبلہ ، کعبہ ہے ، ایک ساتھ اور ایک طرح سے حج کو بجالاتے ہیں، ایک طرح نماز پڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں، سب کی طرح معاملہ انجام دیتے ہیں ، اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں ، سوائے جزئی امور کے ان کے کاموں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

تمام مسلمان ایک طرح کی جہان بینی سے متصل ہیں، سب کا تہذیب وتمدن مشترک ہے ۔ جہان بینی میں اتحاد، مذہبی اعتقادات، پرستش و عبادت ، سماجی آداب و سنن یہ سب چیزیں ایک قوم تشکیل دے سکتی ہیں اور ایسی عظیم قدرت و طاقت کو ایجاد کرسکتی ہیں کہ جس کے سامنے دنیا کی عظیم طاقتیں سرتسلیم خم کرلیں، جبکہ اس متعلق اسلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے، مسلمان قرآن کی صریح نص کے ذریعہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں، اور ان کے خصوصی حقوق و تکالیف ان کو ایک دوسرے سے مرتبط کردیتی ہے ،اس وضعیت کے ساتھ مسلمان ان تمام امکانات و وسایل سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے ۔



1 2 3 4 next