مرکزی ایشیا میں اسلام کی نئی زندگی



آج کے زمانے میں مرکزی ایشیاء پانچ مستقل جمہوریوں قزاقستان، قرقیزستان، ازبکستان، ترکمنستان، تاجیکستان سے تشکیل پاتی ہے یہ علاقہ بہت سے قدرتی ذخائر کا مالک ہے اور تجارت کے اعتبار سے اس کی جائے وقوع بہت مناسب ہے، زمانہ قدیم میں یہاں سے شاہ راہ ریشم کا عبور ہوتا تھا، مسلمانوں نے یہاں پر بہت سے مہم کارنامہ انجام دیئے اور علمی مراکز کو ایجاد کرتے ہوئے بہت سی مساجد بنوائیں اور دوسرے مذہبی کام انجام دیئے لیکن سولہویں صدی عیسوی کے وسط سے جب سے روسی اس علاقہ پر مسلّط ہوئے ، انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا، یہکام میں کومنسٹوں کی حاکمیت کے بعد شدید ہوگیا اور مساجد کی تخریب اور علمی مراکز کے انہدام کا سبب بنا، لیکن گوباچوف کے حاکم بننے کے بعد حالات بدل گئے اور مذہبی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز ہوگیا اور سویوں نئی مسجد بن گئیں، اس مقالہ میں اس دور کے گذرنے کے بعد مرکزی ایشیاء میں اسلام کی حیات کی تجدید کا جائزہ لیا جائے گا ۔

سوویت یونین کا انحلال اور مرکزی ایشیا میں نئی مستقل جمہوریوں کی تشکیل، معاصر تاریخ میں ایک معنی خیزحادثہ ہے، یہ امر اقتصادی اور سیاسی جغرافیہ کے حوالے سے بہت سی مہم تبدیلوں کا باعث ہوا، یہ حادثہ ایسے علاقہ میں رونما ہوا جہاں مدّت سے اسلام اور مسلمانوں کا دور دورہ تھا ۔

حقیقت میں سامانیان کی حکومت کے دوران مسلمان اس علاقہ پر مسلّط ہوگئے اور ان کا یہ تسلّط اکتوبر۱۹۱۷ عیسوی کے انقلاب تک جاری رہا ۔

 یہ علاقہ اسلام دنیا کا ایک بہت اہم حصّہ تھا کہ جس پر آخر میں ترک مسلّط ہوئے، اس علاقہ میں اسلام نے نہ تنہا بہت سی مذہبی، اجتماعی اور ثقافتی بنیادوں کو صدیوں پرمحیط وسعت بخشی، بلکہ بہت سے باعظمت شہر جیسے بخارا، سمرقند، تاشقند، مرو، اور خراسان کے بہت سے شہروں کی بنیاد ڈالی، یہ قدیم شہر بڑے علمی مراکز تھے ۔ مصنفین، مفکرین، دانشمند جیسے ابن سینا، بیرونی، غزالی، عمر خیام اور فردوسی کہ جس کا علمی تاریخی اور ادبی آثار کی تخلیق میں بہت بڑا حصّہ ہے، اسی علاقہ سے وجود میں آئے آج کے زمانہ میں مرکزی ایشیاء پانج مستقل جمہوریوں قزاقستان، قرقیزستان، ازبکستان، ترکمنستان، تاجیکستان سے تشکیل پاتی ہے، مرکزی ایشیاء بہت بڑے علاقہ پر محیط ہے کہ تقریباً جس کی وسعت ۴۰ لاکھ کلومیٹر مربع اور اس کی آبادی تقریباً چھ کروڑ ہے ۔ یہ علاقہ شمال سے روسی فیڈریشن، مشرق سے چین، جنوب سے ایران اور افغانستان اور مغرب سے دریائے خزر سے ملتا ہے اور مختلف آب وہوااور متنوع قدرتی اوضاع کا مالک ہے، شمال اور معرب میں وسیع وعریض دشت، مشرق میں ایک بڑے گرم بیایان، مغرب میں پامیر اور مشرق میں کیان شان مرکزی ایشیا کو بقیہ برِّاعظم سے جدا کرتا ہے، مرکزی ایشیا میں دو بڑی ”آمودریا“ اور ”سیردریا“ نامی نہریں ہیں، اس علاقہ کو عربی میں ”ماء النہر“ کہتے ہیں اس سے پہلے اس کو ”Transoxiana“ یعنی دو نہروں کے درمیان کا علاقہ کہا جاتا تھا (۱) اس علاقہ میں چند جزیرہ اور کچھ چھوٹے بڑے دریا پائے جاتے ہیں ان میں سب سے بڑا دریا مغرب میں کاسپین اور مرکز کے اطراف میں آرال نامی ایک چھوٹا دریا اور مشرق میں بالخاش نامی دوسرا چھوٹا دریا ہے ۔ یہ علاقہ قابل توجہ قدرتی ذخائر جیسے تیل، گیس، پتھر کا کوئلہ، سونا، یورینیم اور دوسرے معادن سے سرشار ہے اور کھیتی باڑی کے اعتبار سے بھی بہت زرخیز ہے ۔

تجارت کے اعتبار سے مرکزی ایشیا کی جغرافیائی جائے وقوع بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے، سمندری راستے کے کشف سے پہلے مرکزی اور مشرقی ایشیا کی مشرقی یورپ اور مشرق کے نزدیکی ملکوں کے درمیان تجارت، اسی راستے پر تکیہ کرتی تھی (۲)

تاریخی نظر سے مرکزی ایشیا کے لوگ دو دستوں میں تقسیم ہوتے ہیں:

۱۔ پہلا دستہ خانہ بدوشوں کا ہے اور دوسرا دستہ شہر نشینوں کا، سب سے پہلے شہری مراکز تقریباً حضرت عیسیٰ مسیح(علیه السلام) کی ولادت  سے ۱۵۰۰/سال پہلے ترکمنستان میں اور احتمالاً ایران پسند لوگوں سے بسائے گئے، سکندر کے ذریعہ ”ہخامنشیان“ کی بربادی کے بعد اس کے جانشینوں نے ہینسم کو مرکزی ایشیا کے جنوبی علاقہ میں اپنا رئیس بنالیا (۴) عیسیٰ مسیح(علیه السلام) کی ولادت سے قبل تیسری صدی کے درمیانی حصّے میں مرکزی ایشیا کے مشرق میں (آج کا ازبکستان) یونانی ۔ بلخی (باکتری) حکومت تشکیل پائی، حالانکہ مرکزی اشیا کا مغربی حصّہ (آج کا ترکمنستان) پارٹ بادشاہت سے متحد ہوگیا اسی وجہ سے الگ الگ تہذیبیں وجود میں آئیں لیکن یہ پورا علاقہ ایک ہی شاہ راہ بنام (شاہ راہ ریشم) سے جڑتا تھا ۔ یہ ایک ایسا تجارتی راستہ تھا جو پورے بِّر اعظم جیسے چین، ہندوستان، وسطی ایشیا اور کالے سمندر کے ساحلی کے ممالک سے گذرتا تھا (۵)

حضرت عیسیٰ مسیح(علیه السلام) کی ولادت کے تیسرے سال کہ جب ایران پر ساسانی گروہ حاکم تھا تو اُس نے مرکزی ایشیاء کے جنوبی حصّے میںدوبارہ سے اپنا جھنڈا گاڑدیا ۔

ان کی حکومت کے دوران کئی صدیوں تک اس علاقہ کا سیاسی انتظام، ثقافتی سرگرمیاں اور اقتصادی حالات بہت مناسب رہے (۶) لیکن ساتویں صدی عیسوی میں عربیوں کے حملہ سے لے حالت بدل گئی (۷) اسلام نے نہ فقط ایک جدید عقیدتی نظام بدلا بلکہ اس نے ایک اجتماعی اور معرفت شناسی کا نیا نظام پیش کیا (۸)

سن ۷۴۰ عیسوی یعنی ولید بن الملک کے دوران حکومت ،عربی لوگ قتیبہ بن مسلم بن عمرو الباہلی کی حاکمیت میں مرکزی ایشیاء پر حکومت کرتے تھے (۹) عربی سپہ سالار ”مرو“ میں آج کے ترکمنستان کے ”ماری“ شہر کے نزدیک تھا ۔ اس دوران تقریباً پچاس ہزار عربی لوگوں نے بصرہ اور کوفہ سے ہجرت کی اور خراسان، بخارا اور دوسرے علاقوں میں جابسے ۔ (۱۰) قتیبہ نے اپنی فوج میں بہت سی اصلاحیں کیں اور اس طرح اُس نے مقامی لوگوں کی وفاداری اور اطمینان کو جلب کرکے انکا دل جیت لیا ۔ اُس نے بخار ا میں دو مسجدیں تعمیر کرائیں کہ جن میں سے ایک کو ”مسجد قتیبہ“ کہا جاتا ہے ۔ کومنسٹوں کی حکومت کے دوران یہ مسجد کسٹم کے انبار میں تبدیل کردی گئی تھی، لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ یہ مسجد مسلمانوں کو سپر کردی گئیں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next