معتزلہ کی نظر میں قرآن کا اعجاز

حسین حیدر زیدی


معتزلہ کی پیدائش دوسری صدی کے پہلے حصہ میں ہوئی ہے ۔ اور ساتویں ہجری تک یہ فکر باقی رہی۔ اور اس نے بہت ہی اچھے مطالب ،اسلامی دنیا کے سامنے پیش کئے

خلاصہ

ملل و نحل ، کلامی اور تاریخی کتابوں میں معتزلہ اوران کے اکثر بزرگ علماء پر قرآن کریم کے معجزہ نہ ہونے کا الزام لگایا ہے اور کہا گیاہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا معجزہ نہیں سمجھتے ،یہ مقالہ اس لئے لکھا گیا ہے تاکہ اس مرسوم نظریہ پرمختلف کتابوں میں موجود قرائن و شواہد کے ذریعہ نقد و تنقید کی جائے، اس امید کے ساتھ کہ معتزلہ کی شناخت کے بعد اس میں نئے باب کا ضافہ ہوسکے ۔

معتزلہ کی پیدائش دوسری صدی کے پہلے حصہ میں ہوئی ہے ۔ اور ساتویں ہجری تک یہ فکر باقی رہی ۔ اور اس نے بہت ہی اچھے مطالب ،اسلامی دنیا کے سامنے پیش کئے جن میں سے اکثر مطالب ، مذہبی تعصب کی وجہ سے ختم ہوگئے ۔

توحید، عدل، منزلة بین منزلتین، وعد و وعید، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، معتزلہ کے اصولوں میں شمار ہوتے ہیں ، مسعودی (١) اس متعلق لکھتے ہیں: '' فھذا ما اجتمعت علیہ المعتزلہ و من اعتقد ما ذکرنا من ھذہ الاصول الخمسة کان معتزلیا: فان اعتقد الاکثر او ا لاقل لم یستحق اسم الاعتزال ، فلا یستحقہ الا باعتقاد ھذہ الاصول الخمسة '' (٢) لیکن معتزلہ صرف انہی پانچ اصل پر کیوں پاپند تھے اور انہوں نے دوسرے اہم اصولوں کو کیوںہاتھ نہیں لگایا ان سب چیزوں کو بیان کرنے کی اس مقالہ میں گنجائش نہیں ہے ۔

بعض غلط چیزوں کا معتزلہ کی طرف نسبت دینا اور ان کو تعصب سے دیکھنے کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی قرآن کے معجزہ نہ ہونے کو اکثر معتزلہ کی طرف نسبت دینے لگے ۔ سب سے پہلے اس متعلق جس شخص نے صراحت کے ساتھ بیان کیا وہ الفرق بین الفرق کے مولف ، عبدالقاہر بغدادی (٣) ہیں : '' زعم اکثر المعتزلہ ان الزنج والترک والخزر قادرون علی الاتیان بمثل نظم القرآن و بما ھو افصح منہ و انما عدموا العلم بتالیف نظمہ و ذلک العلم مما یصخ ان یکون مقدورا لھم '' (٤) ۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں :  '' زعم النظام مع اکثر القدریة ان الناس قادرون علی مثل القرآن و علی ما ھو ابلغ منہ فی الفصاحة والنظم'' (٥) یہ نسبتیں باعث بنی کہ مشہور مستشرق گلدزیھر(٦) نے بھی اس بات کی معتزلہ کی طرف نسبت دی : '' جی ہاں معتزلہ کے علماء میں ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو قرآن کے معجزہ نہ ہونے یا معجزہ ہونے کو ضعیف قرار دیتے ہیں (٧) اور انہوں نے اپنی بات کی تائید کے لئے عبدالقاہر بغدادی کے اسی قول کو نقل کیا ہے ۔ اسی طرح انہوں نے ایک بات ابوالعلاء معری(٨) کے رسالة الغفران سے لیا ہے اور کہا ہے : '' ابوالعلاء نے اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے نقل کیا ہے جو قرآن کے معجزہ ہونے کو ضعیف کرنے کی علامت ہے (٩) ۔ اس کے جواب میں کہنا ضروری ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ ابوالعلاء معری ، معتزلی نہیں ہے بلکہ معتزلہ کے سرسخت مخالف ہے (١٠) دوسری بات یہ ہے کہ ابوالعلاء نے رسالة الغفران میں ان باتوں کا مذاق اڑایا ہے ،لیکن قرآن کے معجزہ ہونے کے باب میں انہوں نے قرآن کے مشہور طاعن ابن راوندی کے خلاف (١١) بیان کیا ہے اور اس میں کوئی مسخرہ والی بات نہیں ملتی ۔

قرآن کے معجزہ ہونے کے سلسلہ میں نظریات

قرآن کے معجزہ ہونے کے متعلق اسلامی مذاہب کے علماء کے درمیان اختلاف ہے جن میں سے اہم اقوال کو ہم یہاں پر بیان کرتے ہیں:

١ ۔  صرفہ :  یعنی خداوند عالم نے لوگوں سے اس قدرت کو سلب کرلیا ہے کہ وہ قرآن کے مثل کوئی چیز پیش کرسکیں، اس نظریہ کو ماننے والی اہم شخصیات یہ ہیں: معتزلہ میں نظام، جاحظ، رمانی، ابو اسحاق نصیبی (١٢) ۔ شیعوں میں شیخ مفید (١٣) ، سید مرتضی (١٤) اور محقق طوسی (١٥) ۔ ظاہریہ میں ابن حزم اندلسی (١٦) ۔ اشاعرہ میں ابواسحاق اسفراینی (١٧) ۔ زیدیہ میں ابن مرتضی (١٨) ۔

٢ ۔  قرآن مجید کی بلاغت، قرآن کا معجزہ ہے ۔ اس نظریہ کو اکثر اشاعرہ نے قبول کیا ہے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 next