امام مهدی (ع) کے بار ے میں گفتگو



 

خدا وند عالم کی حمدو ثنا اور خدا وند سبحان کی بہترین مخلوق رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اور ان کی آل پاک اور ان کے پاکیزہ چاھنے والوں نیز ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک شائستگی کے ساتھ ان کی پیروی کریں گے درور سلام ھو۔خورشید اسلام کے طلوع ھونے سے آج تک مسلمان آخرزمانہ میں آپ کے خاندان سے مہدی نامی ایک شخص کے ظاھر ھونے کے بارے میں نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی بشارت کی حقانیت کا عقیدہ رکھتے ھیں۔ وھی شخص جو اس بے ثبات دنیا کے ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد اس کرہٴ خاکی کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔

اس بنا پر، خاندان عصمت و طھارت کے مہدی کے ظھور کے سلسلہ میں چشم انتظار و لحظہ شماری امت کی ھر فرد کے درمیان صدیوں سے چلی آرھی ھے اور مسلمان اس عقیدہ پر باقی ھیں جز اےسے انگشت شمار افراد جو جدت پسندی اور علم و دانش، تہذیب و تمدن کے دعویدار ھیں اور اسلامی معاشرہ سے الگ ھو کر اس کردار ساز مقدس اور پاکیزہ نظریہ کو بے بنیاد قرار دے کر منحرف ھو گئے ھیں؛ اےسا انحراف جو کہ مستشرقین کے غرض پسند اور حقیقت سے خالی نوشتوں اور نظریات سے متاثر عقیدہ کا نتیجہ ھیں مثلاً فان فلو تن، دونا لڈسن اور گلدز یھر اور تمام مشرقی محققین جنھوں نے عدل سے جنگ اور حق سے گریز کی شرمناک روش اختیار کرکے اسلامی نظریہ کے بارے میں تحقیق کی ھے تا کہ آخری زمانے میں ”انقلاب مہدی(علیہ السلام)“ کا انکار کریں۔

 افسوس کہ خود مسلمانوں کے خیمے میں بعض روشن فکر، مستشرقین کی علمی گندگی اور کثافت سے مرعوب اور متاثر ھوئے ھیں چنانچہ حسن نیت اور اسلام کے دفاع کے قصد سے تجدید نظر اور بازنگری کے عنوان سے نغمہ سرائی کی تا کہ خالص اسلام کے اصول اور بنیاددوں میں اپنے آپ کو لگادیں اور اسلامی عقائد کو مناسب اور سازگار انداز میں پیش کرنے کے لئے انسانی عصر حاضر کے تمدن کے مفروضوں کے ساتھ کوشش کی۔ اس نظریہ اور خیال کی بنیاد پر انھوں نے ”اصل مہدویت“ کو اسلامی معتقدات کے صحیفہ سے دور کرنے کے لئے کوشش کی تا کہ اس کے خلاف تجاوز کرنے والوں سے دفاع کا بھانہ لے کر اپنے تعصب آمیز صلبیی نظریہٴ غرب کوپیش کریں۔ نقصان دہ اور پژمردہ نظریہ کو اپنے فریب آمیز اور جھوٹے نقاب کی آڑ اور شرقی بے روح تحقیق اور استشراقی مطالعہ کے سایہ میں، انھوں نے اسلام کے نورانی اور درخشاں شجرہ طوبی کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کی ٹھان لی ھے۔

اس طرح مغربی صلیبی افواج کے نقاب داروں نے مشرق شناسی کے بعض مطالعات کے نتیجے میں اپنا منحوس سایہ بعض مسلمانوں کی فکری فضا پر ڈال دیا ھے اور اس کے پس پردہ داخلی محاذپر ایک شگاف پیدا کردیا ھے جس کے اندر بعض محکمات اور اصول دین میں تحریف آمیز تاویلیں اور بعض دوسرے محکمات اور اصول دین میں شک وتردید کا اظھار جیسے مہدی ﷼ منجی کے ظھور اور اس سلسلہ میں مستشرقین کے نظریات کی رنج آور تکرار ھمارے سامنے ھے۔

اگر روشن فکر نما سادہ لوح مسلمان کی بے حساب ملاقات اور ردّ وبدل سیاہ اور مسموم ثقافتی سودا بازاری سے نہ ھوتی اور اس کا استقبال اور اس درجہ اسے قبول کرنا نہ ھوتا جو کہ ایک نا قابل انکار واقعیت ھے؛توموجودہ اسلامی نظریہ میں نا گوار پیغامات اور دامن گیر خیالات کا وجود نہ ھوتا۔ یہ اس وقت ھے جب ھم مکاّر،حق سے بر سر پیکار خیانت آمیز پوشیدہ ماھیت سے اسلام عزیز اور امت مسلمہ کی موجودیت کے خلاف مکمل آگاہ ھوں۔

آیا استشراقی سپاھیوں کی ہٹ دھرمی اور دشمنی کا مطالعہ کرنے کے لئے گولڈ زیھر  (Gold Zeehar) دی بویر (Debuier) مکڈونالڈ (Mcdonald) اور بندلی جوزی (Bedli jauzi)کے گندے اور ناپاک خیالات اور ان کے بے بنیاد اور مضحکہ خیز استدلال کا قرآن کریم کی تناقض گوئی پر مبتنی مطالعہ کافی نھیں ھے[1] بس تعجب خیز اور انتظار سے دور نھیں ھے کہ صلیبیوں کی تبشیری تحریکوں کے امتداد میں آج ایسے افراد ملیں گے جو مسلمانوں کے ظھور مہدی کے اعتقاد کا مذاق اڑائے اور زبان سے طعن و تشنیع کرتے ھیں۔ قابل ذکر ھے کہ صلیبی خیمے کا حملہ جھان اسلام اور عقیدہ ظھور منجی کے برخلاف ایسے وقت ھو [2]رھا ھے جب یہ عقیدہ صرف جھان اسلام سے مخصوص نھیں ھے بلکہ ھر فرقے اور مسلک کا عالمی مسئلہ بن چکا ھے ھم اسی مقدمے میں اس کی وضا حت کریں گے۔

”عقیدئہ مہدی“ عالمی اور مکمل اسلامی عقیدہ ھے۔

ایک عظیم منجی کے ظھور کا عقیدہ جو کہ اپنے ظھور کے بعد،تاریخ حیات انسانی کی آخری حد تک عدل و انصاف کا سکون واطمینان اورآسائش و آرام پیدا کرے گا۔اور ظالموں کے ظلم وستم کو کرئہ خاکی سے نابود کردے گا اور عدل وانصاف کے محور پر حکومت کی بنیاد ڈالے گا۔ایک ایسا واحدعقید ہ ھے کہ ادیان ابراھیمی کے ماننے والے اور بقیہ ملتوں کی بھاری اکثریت اس پر،عقیدہ رکھتی تھی اور رکھتی ھے یھودی بھی عیسائی کی طرح جو حضرت عیسیٰ کے ظھور کا عقیدہ رکھتے ھیں ایک منجی کے ظھور کے بارے میں نظریہ رکھتے ھیں اورجس طرح زرتشتی بھرام شاہ، کی رجعت کے معتقد ھیں، نصرانی حبشی بھی اپنے بادشاہ تئو، دور موعود کا انتظار کررھے ھیں،اور ھندوحضرات ’وشنو ‘کا انتظار کررھے ھیں،مجوسی ’ھوشیدر ‘کے زندہ ھونے کا راسخ عقیدہ رکھتے ھیں، بودھ مذھب کے ماننے والے ’بودا‘ اور اسپین والے اپنے بزرگ پیشوا ’رودریک‘ اور مغل قوم اپنے رھبر ’چنگیز‘ کو عظیم منجی شمار کرتے ھیں۔اسی طرح ”منجی کے ظھور ‘کامصری باستان میں بھی رواج تھاجس طرح چینی قدیمی عبارتوں میں یہ نظریہ دیکھا گیا ھے [3]ان تعب آور اوراضطراب آمیز حقائق کے مقابل مغرب کے رھنے والے نابغہٴ روزگار اور اس دیار کے دانشوروں کی قابل غور تصریحات ھیں اور یہ تصریحات اس بات پرمبنی ھیں کہ دنیا ایک بڑے مصلح کے انتظار میں ھے جو تمام امور کی باگ ڈور اپنے ھاتھ میں لے گا اور انسانی معاشرہ کو ایک پرچم کے سایہ اور ایک ہدف کے تحت جمع کرے گا۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next