امام(علیہ السلام) کے چاھنے والوں پر حقوق



 

حضرت حجة ابن الحسن المہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)، رسول خدا کی ذریت، چودھویں معصوم، بارھویں امام اور خدا کی حجت، امت کے زندہ و جاوید ولی، فیض الٰھی کا ذریعہ اور زمین وزمان کے لئے امان ھیں یہ بلند و بالا مقام اور ممتاز شخصیت اور بے شمار وجودی برکتیں آنحضرت کے لئے کچھ حقوق کا اثبات کرتی ھیں تاکہ مخلص اور سچے ماننے والے اپنے مولیٰ اور رھبر کے ساتھ دینی ادب کی بنیاد پر خوب گھرے اور منظم رابطے کے ساتھ ان کے حقوق کو پہچانیں اور ان فرائض اور ذمہ داریوں کی تلاش کریں جن کا ان سے تعلق ھے اور اسے اچھے طریقے سے انجام دیں۔

اب میں ان حقوق کو اختصار کے ساتھ بیان کروں گا: وجود سے مالا مال ھونے کا حق، دنیا میں باقی رھنے کا حق (کہ ان دو کی طرف اشارہ ھو چکا ھے) رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی قرابت کا حق[1]

منعم (انعام کرنے والے) کا انعام سے فیضیاب ھونے والے پر حق [2]امت پر باپ کا حق[3] استاد کا شاگرد پر حق[4]

ولی کا مولّی علیہ (جس کا ولی ھے) پر حق[5]

رھبری اور زعامت کا حق[6]

پہچانے جانے کا حق[7]

امام زمانہ کا تعارف کرانے میں دینی معرفت رکھنے والوں کی خاص ذمہ داری

 دسواں مورد ”متعارف ھونے کا حق“ ھے مناسب ھے کہ اختصار کے ساتھ آئندہ بحث میں اس کی تشریح کروں۔ دسویں امام حضرت علی بن محمد الھادی(علیہ السلام) سے اس طرح روایت کی گئی ھے: اگر قائم کی غیبت کے بعد اےسے دانشور موجود نہ ھوں جو لوگوں کو امام زمانہ عجل اللہ و تعالیٰ کی طرف دعوت دیں اور ان کی طرف رھنمائی کریں اور الٰھی دلیل و برھان سے دین کی حفاظت کریں، خدا کے کمزور بندوں کو ابلیس اور اس کے ھمنوا کے جالوں اور دشمنان اھل بیت(ع)کے پھندوں سے نجات نہ دیں کہ جو ضعیف العقیدہ شیعہ کے دل کو کشتی کے ساکنوں کے مانند ھاتھ میں لئے ھیں تو کوئی بھی باقی نھیں رھے گا مگر یہ کہ دین الٰھی سے پھر جائے۔ ایسے دانشور خدا کے نزدیک با فضیلت گروہ میں شمار ھوتے ھیں[8]

اس حدیث شریف اور اس سے مشابہ دوسری حدیث کی بنیاد پر[9] غیبت کے زمانہ میںعلما ئے دین کی ذمہ داری الٰھی شخصیت کے حدود اربعہ کا تعارف کرانا اور چاھنے والوں کو ان کے ملکوتی و روحانی چھرہ نیز ان کی عظیم رسالت اور واجب الادا حقوق کی شناسائی کرانا ھے۔ یعنی تمام امت کی متعدد ذمہ داریوں سے قطع نظر حضرت کے ظھور میں تعجیل کی دعا کرنا، امام زمانہ سے تجدید بیعت کرنا، ان کی طرف سے حج بجالانا، حضرت کی نیابت میں صدقہ دینا وغیرہ وغیرہ ھے[10]خدا وند عالم حضرت کے تمام دوستداروں کو ان کی ادائیگی کی توفیق دے،دین کے ماھرین کی ذمہ داری ھے کہ تحریر و تقریرسے (نوک زبان اور قلم سے) امت کو پھلے سے زیادہ عمیق اور گھرے انداز میں، مہدی موعود(عج) کی شخصیت کے گونا گوں ابعاد و جوانب نیز ظھور کے شرائط اور انتظار کے صحیح معنی اور اس کے لوازم اور فرج کی کیفیت اس کے مقد مات، اور اس عظیم مصلح الھی کی اخلاقی، سماجی اور حکومتی شخصیت کا تعارف کرائیں اس کے بعد علماء دین کو شش کریں کہ امام اور امت کے درمیان قلبی اور روحانی انس و رابطہ بر قرار ھو تا کہ اس طرح سے اس نجم ثاقب کے درخشاں ھونے کے لئے فکری اور ذھنی بہترین راہ ھموار ھو۔ اس سلسلہ میں، تالیف، تحقیق، تصحیح، ترجمہ، طباعت و نشر و اشاعت، کتاب شناسی، طبقہ بندی۔ فھرست سازی معجم نویسی، مفید کتابیں اور حوزہ کے بارز ترین تحقیقی آثار خاص اھمیت اور مقام کے حامل ھیں۔ (ص/۱۰)

اس بات کی اھمیت اس وقت بہتر معلوم ھوگی جب یہ جانیں کہ عالم اسلام میںبعض[11] محققین کی طرف سے اعلان کردہ تعداد و شمار کے مطابق تقریباً ھر ڈھائی سو آدمی پر صرف امام مہدی(علیہ السلام) سے متعلق ایک کتاب موجود ھے ! اس سے قطع نظر کہ انھیں موجودہ کتابوں میں سے کچھ کتابیں علمی اور فنی اعتبار سے محکم اور متقن نھیں ھیں۔



1 2 next