ثقلین کے آئینے میں موعود کی علامت



ثقلین کے آئینے میں موعود کی علامت

قرآن میں منجی موعود

یہ ایک حقیقت ھے کہ ”قرآن کریم“ ”اور سنت نبوی“ ایک مبارک ریشہ اور اصل سے دو شجرہ طوبیٰ ھیں اور دونوں ھی ایک قانون گذار سے متعلق ھیں۔ بیشک قرآن کریم نے، عقیدہ ظھور مہدی سے متعلق مسلمانوں کے اعتقاد کو جو کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے متواتر ھے آیات شریفہ کے مجموعہ سے تائید کی ھے؛ وہ آیات جن کی بہت سارے مفسرین نے امام مہدی پر تطبیق کی ھے اور جن کے ظھور کی آخری زمانہ میں نوید دی گئی ھے۔ جو کوئی مطلب بھی پیغمبر سے متواتر ھو اُسے، ناگزیر قبول کرنا چاہئے اور قرآن کریم نے اس سے بالکل خاموشی اختیار نھیں کی ھے ھر چند ھماری عقلیں وھاں تک نہ پھونچ سکیں کیونکہ خدا وند متعال قرآن کی توصیف میں فرماتا ھے:

”اور ھم نے یہ قرآن تم پر اس لئے نازل کیا ھے تا کہ ھر چیز کی حقیقت روشن ھو جائے“[1]                        

اس بناپر، آیت مبارکہ سے اس عقیدہ کا استخراج اس کے ذمہ ھے جو قرآنی حقائق کو فھم و فراست سے درک کرتا ھے اور اس میں شک نھیں کہ حدیث شریف ثقلین کی تصریح کی بنا پر جو کہ تمام مسلمانوں کے نزدیک متواتر اور مسلم ھے، ”اھل بیت“ قرآن کے ھمتا اور ھم پلہ ھیں۔ اس لحاظ سے، ان آیات کو جنھیں اھل بیت(ع)نے حضرت مہدی(علیہ السلام) کے ظھور پر حمل کیا ھے۔ عقیدہٴ مہدویت پر قرآنی دلیل شمار کریں گے۔

اس سلسلہ میں ائمہ حضرات  (ع)سے کثرت سے احادیث نقل ھوئی ھیں اور انھوں نے بہت ساری آیات کو حضرت مہدی(علیہ السلام) پر منطبق کیا ھے؛ البتہ اس کتاب میں ان احادیث کا ایک حصہ ذکر کریں گے جو تفسیری اور روائی نصوص کے اعتبار سے مذاھب اھل سنت کی مورد تائیدھیں۔

 سورہ توبہ کی ۳۳/ویں آیت کو بہتر انداز سے سمجھنے کے لئے ضروری ھے کہ ایک مختصر مقدمہ بیان کریں۔ اسلام دشمن عناصر کا مقصد، خواہ اھل کتاب ھوں یا منافقین،مشرکین ھوں یا ان کے ھم دست اور شریک کار، نور الہٰی کو خاموش کرنا ھے، جیسا کہ قرآن کریم ارشاد فرماتا ھے : وہ چاہتے ھیں کہ نور الھی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن خدا اپنے نور کو کامل کر کے رھے گا، خواہ کافروں کو ناپسند ھی کیوں نہ ھو۔

اللہ کا حیرت انگیز کلام اس بات کی وضاحت کررھا ھے کہ اس گروہ کی مثال اس شخص کی سی ھے جو اپنی پھونکوں سے اےسے عظیم نور کو (جو آسمانی آفاق میں درخشاں ھے) خاموش کرنا چاہتا ھے جب کہ خدا کا ارادہ ھے کہ اس نور کو حد درجہ درخشاں اور نورانی کردے۔

یہ تمثیل ان کی حد درجہ ذلت و خواری اور ان کے حیلہ و تدبیر کے کمزور اور سست ھونے پر دلالت کرتی ھے۔ اس لئے کہ پھونک سے صرف ھلکی روشنی جیسے فانوس کے نور کو خاموش کیا جاسکتا ھے۔ کبھی اسلام کے درخشاں اور عظیم نور کو خاموش نھیں کیا جاسکتا اور یہ تصویر قرآنی حیرت انگیز تعبیروں اور ظریف ترین الھی توصیفوں میں سے ایک ھے۔ کیونکہ یہ فنی اور مکمل خوبصورت تشبےہ پر مشتمل اور فصاحت کی بلندی پر ھے جس کی قرآن کے علاوہ کھیں نظیر نھیں ملے گی۔

پھر قرآن کریم اس طرح سلسلہ کو باقی رکھتا ھے: اللہ کا ارادہ (دشمنوں کی تمناوٴوں کے خلاف) اس دین مقدس کو بطور کامل ظاھر کرناھے اس لحاظ سے فرماتا ھے:

وہ خدا ھے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تا کہ تمام آئین پر اسے فضیلت و برتری عطا کرے، چاھے مشرکوں پر گراں کیوں نہ گزرے [2]واضح ھے کہ ”الدین الحق“ سے مراد اسلام ھے۔ کیونکہ خداوند عالم فرماتا ھے: جو بھی اسلام کے علاوہ کوئی دوسرے دین کو اختیار کرے گا اسے ھرگز قبول نھیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ھوگا[3]

<لِیُظْھِرَہ عَلَی الدِّین کُلِّہ> (تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے)کا مفھوم خدا کا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی مدد کرنا اور تمام ادیان پر ان کے دین کو غالب کرنا ھے۔ اور ”لیظھرہ“ میں ضمیر ”ہ“ کا مرجع اکثر اور مشھور و معروف ترین مفسر کے نزدیک ”دین حق“ ھی ھے۔ اس طرح سے کہ اسی مطلب کو آیت سے متبادر جانا ھے، یہ ایک عظیم نوید و خوشخبری ھے کہ جس کے ذریعہ خدا وند متعال نے اپنے رسول کو اس کے دین کا تعاون کرنے اور اپنے کلمہ کی بلندی کا وعدہ دیا ھے یہ بشارت اس حقیقت کے ساتھ جڑا ھوا ھے کہ دشمنان دین کا ارادہ نور اسلام کو خاموش کرنے کا، اللہ کی مشیت قاھرہ جو کہ اپنے دین کے تمام آئین پر کامیابی عطا کرنا چاہتا ھے کبھی غالب نھیں ھوگا، خواہ مشرکوں کو ناگوارھی کیوں نہ لگے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 next