امام مہدی(علیہ السلام) کے خاندان کی معرفت کے بارے میں گفتگو



 

مہدی شناسی

گذشتہ مباحث کو نظر میں رکھتے ھوئے یہ بات واضح ھو گی کہ امام مہدی(علیہ السلام) کے ظھورسے متعلق تمام مسلمانوں کا عقیدہ ھیں (کہ جس کی آمد کے بارے میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے منقول روایتوں میں بشارت دی گئی ھے) اب یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اگر امام مہدی(علیہ السلام) کے ظھور آخری زمانہ میں ھونے سے متعلق روایتوں کا اعتبار علمائے اسلام کے نزدیک اس درجہ واضح و روشن ھے کہ سب کے سب ان کے صحیح ھونے کا یقین رکھتے ھیں اور سبھی نے ان اخبار کے متواتر ھونے کی تصریح کی ھے، تو پھر ان روایتوں کے درمیان جو امام مہدی(علیہ السلام) کے نسب کی وضاحت کرتی ھیں کس طرح اختلاف پایا جاتا ھے؟ وہ بھی اس طرح سے کہ ان میں سے بعض روایتیں بعض روایتوں سے بالکل متضاد ھیں۔

 اس لحاظ سے، قطعی طورپر یہ سوال پیش آتا ھے کہ حقیقت میں امام مہدی(علیہ السلام) کون ھیں؟ آیا ان اختلافات کے باوجود انھیں پہچانا جاسکتا ھے؟عنوان مہدی کی تطبیق اس حقیقی مصداق اور واقعی مسمیٰ پر اس طرح سے ھو کہ کوئی شک و شبہہ نہ رہ جائے؟

اس سوال کا جواب دینے کے لئے، ان مشکلات اور رکاوٹوں کی جو امام مہدی(علیہ السلام) کے نسب کی تشخیص کے بارے میں بعض لوگوں کے لئے پیدا ھوتی ھیں۔ (جب کہ اصل ظھور امام مہدی(علیہ السلام) کے بارے میں معتقد ھیں) کی تحقیق کرنی چاہئے؛ لیکن ان مشکلات کی وضاحت سے پھلے اس نکتہ کی طرف توجہ دینا ضروری ھے کہ آخری زمانے میں ظھور امام مہدی(علیہ السلام) کے ایسے معتقد شخص کی مثا ل جو یہ نھیں جانتا کہ اس وقت دنیا میں حقیقی مہدی موعود کون ھے، اس شخص کی سی ھے جو نماز کے وجوب کو یقینی طور پر جانتا ھے، لیکن ارکان نماز کو نھیں پہچانتا؛ لہٰذا جس طرح وہ شخص نماز گذار محسوب نھیں ھوتا، اسی طرح وہ شخص بھی جو ایک نامعلوم مہدی کا منتظر ھے، وہ امام مہدی(علیہ السلام) کے واقعی منتظرین میں شمار نھیں ھوسکتا۔ اس بات کی دلیل ھم آئندہ پیش کریں گے۔

قابل توجہ بات یہ ھے کہ یہ فصل ھر طرح کی مشکل کے لئے حدود معین کرنے کی ذمہ دار ھے جو امام مہدی(علیہ السلام) کے نسب کی تشخیص کی راہ میں درپیش ھے۔ تا کہ ھمارے قارئین کو معلوم ھوجائے کہ مہدی موعود کون شخص ھے آخر تک ان کی نصرت و مدد کرے اس سوال کا اھم اور اصلی جواب دریافت کرنے کے لئے ھم عہد کرتے ھیں کہ اپنے معتقدات اور مقبول مفروضات کو اس بحث میں پس پشت ڈال دیں گے تا کہ ھماری بحثوں پر اپنا سایہ نہ ڈال سکے؛ اےسے مباحث کہ جن کا مقصد حق تک رسائی کے سوا کچھ نھیں ھے، خواہ ھم حق پر ھوں یا حق پر نہ ھوں۔کیونکہ عقلمند انسان وہ ھے جو حق سے دشمنی نہ رکھتا ھو؛ چنانچہ اگر قارئین محترم اس بات پر غور کرے تو یقیناً ان مباحث کو پڑھنے کے بعد امام مہدی(علیہ السلام) کے خاندان کے سلسلہ میں مشکلات و موانع کو برطرف کرنے اور اس کے حل کرنے میں ھماری باتوں کی تصدیق کرے گا نیز اس کے بہترین راہ حل پر صحیح کا نشان لگائے گا۔

شایان ذکر ھے کہ ”مانع روائی تشخیص“ سے مراد وہ احادیث ھیں کہ جو بادی النظر میں متعارض اور متخالف لگتی ھیں؛ ایسا مسئلہ جس کا حل بہت سارے لوگوں پر مشکل اور نا قابل حل ھے، بالخصوص وہ افراد جو علم حدیث کے میدان میں کافی مھارت نھیں رکھتے ھیں اور یہ ایک ایسا عامل اور سبب ھے کہ سست ایمان افراد کے لئے آسانی اور حیرت انگیز انداز سے عقیدہ مہدویت سے انکار کرنے میں معاون ثابت ھوتا ھے، خواہ یہ منکر افراد برائے نام اپنے آپ کو مسلمان کہتے ھوں یا علنی طور پر مسلمانوں سے بر سر پیکار ھوں۔

امام مہدی(علیہ السلام) کے نسب کے بارے میں وارد روایات

وہ صحیح احادیث جو امام مہدی(علیہ السلام) کے بارے میں وارد ھوئی ھیں اگرچہ ان کی چند قسمیں ھیں لیکن سب کا مفاد ایک ھی ھے اور ایک دوسرے سے کوئی اختلاف نھیں رکھتیں۔ اس بناء پر حضرت کے نسب کی تشخیص کے سلسلہ میں کوئی مشکل ایجاد نھیں کرتیں۔ آئیے اب ان گذشتہ روایتوں کی تحقیق کرتے ھیں:

الف۔ حدیث ”مہدی کنانی قرشی اور ھاشمی ھیں“

مقدسی شافعی نے عقد الدرر اور حاکم نے المستدرک میں ایک ایسی حدیث ذکر کی ھے جس میں امام مہدی(علیہ السلام) کو سب سے پھلے ”کنانہ“ پھر ”قریش“ اور پھر ”بنی ھاشم“ سے منسوب کیا ھے۔یہ وھی حدیث ھے جسے قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 next