مہدی موعود محمد بن حسن عسکری(علیہ السلام) ھیں



 

 ھم اس حصہ میں ان اخبار اور نصوص کو ذکر کریں گے جو بلا واسطہ اس شخص پر دلالت کرتی ھیں اور صراحت کے ساتھ نا قابل تاویل مہدی موعود کا مصداق معین کرتی ھیں اور حضرت کی غیبت واقع ھونے سے پھلے حضرت کے غائب ھو نے کی خبر دیتی ھیں:

۱۔ صدوق صحیح اسناد کے ساتھ محمد بن حسن بن ولید سے اور وہ محمد بن حسن صفار سے وہ یعقوب بن یزید سے وہ ایوب بن نوح سے اس طرح نقل کرتے ھیں:

میں نے امام رضا(علیہ السلام) سے عرض کیا : میں امید وار ھوں کہ آپ ھی مہدی موعود ھو گے اور قیام کی ذمہ داری آپ ھی کے سپرد کی گئی ھے۔ اور خدا وند عالم آپ کو بغیر تلوار نکالے حکومت عطا کرے گا، جب کہ سب نے بیعت کی ھو گی اور درھم و دینار پر آپ کے نام کا سکہ رائج ھوگا۔

 امام نے جواب دیا:”ھم میں سے کوئی خطوط اور رسالوں کا مخاطب واقع نھیں ھوا ھے اور لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کا مرجع نھیں بنا ھے اور خاص و عام کی توجہ کا مرکز نھیں تھا، مگر یہ کہ قتل کیا گیا ھو یا بستر مرگ اس کا نصیب ھو، یھاں تک کہ خداوند عالم رسالت انجام دینے کے لئے ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جس کے تولد کا زمانہ نا معلوم ھے لیکن اس کانسب معلوم ھے۔“[1]

اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ امام مہدی(علیہ السلام) کی ولادت ایسے امور و حوادث کے ساتھ ھے کہ جس سے صرف امام ابو محمد حسن عسکری(علیہ السلام) آگاہ ھیں۔ اس لحاظ سے صحیح خبر میں مذکور ھے کہ: ”مہدی وہ شخص ھے کہ لوگ ان کے بارے میں کہتے ھیں کہ ابھی وہ پیدا نھیں ھو ئے ھیں“

شیخ صدوق صحیح سند کے ساتھ اپنے والد سے اور وہ سعد بن عبد اللہ سے اور وہ حسن بن موسیٰ خشّاب سے اوروہ عباس بن عامر سے اوروہ امام موسیٰ کاظم(علیہ السلام) سے اس طرح روایت کرتے ھیں:

اس امر کا مالک وہ شخص ھے کہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ھیں: ابھی وہ پیدا نھیں ھوئے ھیں[2]

۲۔ مقدسی شافعی امام محمد باقر(علیہ السلام) سے اس طرح روایت کرتے ھیں:

یہ امر ھمارے سب سے زیادہ جوان کے ذمہ ھے[3]

یہ امام مہدی محمد بن حسن عسکری(علیہ السلام) کی طرف اشارہ ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 next