نسب شناسوں کا امام مہدی(علیہ السلام) کی ولادت پر اعتراف



 

بدیھی اور آشکار مسائل میں، اھل فن اور ماھرین کی طرف رجوع کیا جاتا ھے اور امام مہدی(علیہ السلام) کی ولادت کے بارے میں بھی قاعدتاً علم الانساب کے جاننے والے اور ماھرین دوسروں سے بہتر اظھار نظر کا حق رکھتے ھیں۔ اب ان میں سے ھم بعض کا فیصلہ باھم ملاحظہ کرتے ھیں:

۱۔ علم نسب کے مشھور ماھر ابونصر سھل بن عبد اللہ داود بن سلیمان بخاری، یہ چوتھی صدی ہجری کے اکابر میں شمار ھوتے ھیں اور ۳۴۱ھ تک زندہ رھے اور غیبت صغری کے زمانے کے مشھور ترین عالم شمار ھوتے ھیں۔ جس کا اختتام ۳۲۹ھ میں ھوا وہ اس سلسلہ میں کہتے ھیں:

علی بن محمد تقی(علیہ السلام)، حسن بن علی عسکری نامی فرزند کے والد ھوئے آپ کی ولادت ام ولد نوبیہ ریحانہ نامی کنیز سے ۲۳۱ھ میں ھوئی اور شھادت ۲۶۰ھ ۲۹/سال کے سن میں مقام سامرا میں ھوئی اور علی بن محمد تقی(علیہ السلام) جعفرنامی فرزند کے والد ھوئے کہ شیعہ ا نھیں جعفر کذاب کے نام سے جانتے ھیںاور اس وجہ سے کہ وہ خود کو اپنے بھائی حسن بن علی عسکری کا وارث جانتے تھے اور اپنے بھتیجے یعنی حجت قائم۔کو ان کا وارث نھیں سمجھتے تھے یقیناً ان کے نسب میں کوئی شک و شبہہ نھیں پایا جاتا[1]

۲۔ پانچویں صدی ہجری کے مشھور عالم نسب سید عمری اس طرح لکھتے ھیں:

ابو محمد (امام حسن عسکری(علیہ السلام)) کی شھادت ھوئی تو نرجس خاتون کے بطن مبارک سے ھونے والے فرزند ان کے خا ص اصحاب اور معتمدین کے نزدیک معلوم اور معین تھے اور سلسلہ ولادت کے باب میں وارد اخبار کو ھم ذکر کریں گے اور مومنین بلکہ تمام لوگ ان کی غیبت کی وجہ سے مورد امتحان الٰھی واقع ھوئے اور جعفر بن علی اپنے بھائی کے مال و منال اور حیثیت و مقام کے حرےص و لالچی ھو گئے اور اپنے بھائی کے صاحب اولاد ھونے سے انکار کر گئے اور بعض ستمگروں اور نابکار لوگوں کی امام حسن عسکری(علیہ السلام) کے خدمتگذاروں اور کنیزوں تک رسائی کے لئے مدد کی[2]

۳۔ فخررازی شافعی م ۶۰۶ھ؛ اس طرح کہتے ھیں:

امام حسن عسکری(علیہ السلام) کے دو لڑکے اور دولڑکیاں تھیں، ان دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے کا نام صاحب الزمان (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) اور دوسرے کا نام موسیٰ تھا جو کہ اپنے باپ کی حیات ھی میں انتقال کرگئے تھے؛ رھیں آپ کی دولڑکیاں:ایک کا نام فاطمہ تھا جو اپنے باپ کی زندگی ھی میں ھی انتقال کرچکی تھیں اور دوسری ام موسیٰ نامی لڑکی بھی انتقال کرگئی تھی[3]

۴۔ مروزی ازروقانی (م ۶۱۴ھ  کے بعد)

 وہ بھی جعفر بن ھادی کو اپنے بھتیجے کے انکار کرنے کی وجہ سے کذاب کھا ھے اور حضرت مہدی(علیہ السلام) کی ولادت پراعتقاد رکھنے کی خود بہت بڑی دلیل ھے[4]



1 2 3 next