حضرت خديجه تاريخ کے آئينه ميں

حضرت فاطم زراسلام الله عليها


 حضرت خديجہ کا شمار تاريخ انسانيت کي ان عظيم خواتين ميں ھوتاھے جنھوں نے انسانيت کي بقاء اور انسانوں کي فلاح  و بھبود کے لئے اپني زندگي قربان کر دي ـ

 تاريخ بشريت گواہ ھے کہ جب سے اس زمين پر آثار حيات مرتب ھونا شروع ھوئے اور وجود اپني حيات کے مراحل سے گزر تا ھوا انسان کي صورت ميں ظھور پذير ھوا اور ابوالبشر حضرت آدم عليہ السلام اولين نمونہ انسانيت اور خلافت الھيہ کے عھدہ دار بن کر روئے زمين پر وارد ھوئے اور پھر آپکے بعد سے ھر مصلح بشريت جس نے انسانيت کے عروج اور انسانوں کي فلاح و بھبود کيلئے اسکو اسکے خالق حقيقي سے متعارف کرانے کي کوشش کي،کسي نہ کسي صورت ميںاپنے دور کے خودپرست افراد کي سر کشي اور انانيت کا سامنا کرتے ھوئے مصائب وآلام سے دوچار ھوتا رھا دوسري طرف تاريخ کے صفحات پران مصلحين بشريت کے کچہ ھمدردوںاور جانثاروںکے نام بھي نظر آتے ھيںجو ھر قدم پر انسانيت کے سينہ سپر ھوگئے اور در حقيقت ان سرکش افراد کے مقابلے ميں ان ھمدرد اورمخلص افراد کي جانفشانيوںھي کے نتيجے ميں آج بشريت کا وجود برقرار ھے ورنہ ايک مصلح قوم يا ايک نبي يا ايک رسول کس طرح اتني بڑي جمعيت کا مقابلہ کرسکتا تھا جوھر آن اسکے در پئے آزارھويھي مٹھي بھر دوست اور فداکار تھے جنکے وجود سے مصلحين کے حوصلے پست نھيں ھونے پاتے تھےـ

    مرور ايام کے ساتھ پرچم اسلام آدم  (ع)و نوح (ع)و عيسيٰ وابراھيم عليھم السلام کے ھاتھوں سربلندي وعروج حاصل کرتا ھوا ھمارے رسول  کے دست مبارک تک پھونچااورعرب کے ريگزار ميںآفتاب رسالت نے طلوع ھوکر ھر ذرہ کو رشک قمر بنا ديا،ھرطرف توحيد کے شاديانے بجنے لگے از زمين تا آسمان لا الھٰ الا اللهکي صدائيں باطل کے قلوب کو مرتعش کرنے لگيں ،محمد رسول الله کا شور دونوں عالم پر محيط ھوگيا اور تبليغ الٰھي کا آخري ذريعہ اور ھدايت بشري کے لئے آخري رسول رحمت بنکر عرب کے خشک صحرا پر چھاتا ھوا سارے عالم پر محيط ھوگيا دوسري طرف باطل کا پرچم شيطان ونمرود ،فرعون وشداد کے ھاتھوں سے گذرتا ھوا ابولھب ،ابو جھل اور ابوسفيان کے ناپاک ھاتھوں بلند ھونے کي ناپاک کاوشوں ميں مصروف ھوگيا ـرسول کے کلمہ توحيد کے جواب ميں ايذا رساني شروع ھوگئي اور حق وباطل کي طرح برسر پيکار ھوگئے ايسے عالم ميں کہ ايک طرف مکہ کے خاص وعام تھے اور دوسري طرف بظاھر ايک تنگ دست اور کم سن جوان جس کے اپنے اس کے مخالف ھو چکے تھے ـ ليکن پيغام الٰھي کي عظمت، مصائب کي کثرت پر غالب تھي اور ھر اذيت کے جواب ميں رسول الله  کا جوش تبليغ اور زيادہ ھوتا جاتا تھا ـ

ايسے کسمپر سي کے عالم ميں جھاں ايک طرف آپکے چچا ابوطالب نے آپ کي ھر ممکنہ مدد کي وھيں دوسري طرف آپ کي پاک دامن زوجہ حضرت خديجہ نے آپ کي دلجوئي اور مدارات کے ذريعہ آپکو کفار مکہ سے پھچنے والي تمام تکاليف کو يکسرہ فراموش کرنے پرمجبورکرديا ـ حضرت خديجہ نے آپ کي زبان سے خبر بعثت سنتے ھي اٰمنا وصدقنا کھہ کر آپ کي رسالت کي پھلے ھي مرحلے ميں تائيد کردي ـجناب خديجہ کا يہ اقدام رسول اکرم کيلئے بھت حوصلہ افزاء ثابت ھوا ـآپکي اسي تائيد وتعاون کو رسول اکرم  آپ کي وفات کے بعد بھي ياد فرماتے رھتے تھے اور اکثر وبيشتر آپ کي زبان اقدس پر حضرت خديجہ کا تذکرہ رھتا تھا (1)

عائشہ نے جب آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتے ھوئے کھا کہ خديجہ ايک ضعيفہ کے سوا کچہ نھيں تھي اور خدا نے آپ کو اس سے بھتر عطا کردي ھے (عائشہ کا اشارہ اپني طرف تھا )تو حضور  ناراض ھو گئے  (2 )ـ

اور غضب کے عالمo ميں فرمايا کہ خدا کي قسم خدا نے مجھکو اس سے بھتر عطا نھيں کي  وللٰہ لقد اٰمنت  بي اذکفر الناس واٰوتيني اذرفضني الناس و صدقتني اذکذبني الناس (3) خدا کي قسم وہ (خديجہ )اس وقت مجھ پر ايمان لائي جب لوگ کفر اختيار کئے ھو ئے تھے اس نے مجھے اس وقت پنا ہ دي جب لوگوں نے مجھے ترک کرديا تھا اور اس نے ميري اس وقت تصديق و تائيد کي جب لوگ مجھے جھٹلا رھے تھےـ

خاندان و نام ونسب

شجر اسلام کي ابتدائي مراحل ميں آبياري کرنے والي اور وسطي مراحل ميں اس کي شاخوں کو نمو بخشنے والي يہ خاتون قريش کے اصيل و شريف گھرانے ميں پيد ا ھوئي ـروايات ميں آپ کي ولادت عام الفيل سے پندرہ سال قبل ذکر ھوئي اور بعض لوگوں نے اس سے کم بيان کيا ھے ـآپ کے والد خويلد ابن اسد بن عبد العزي بن قصي کا شمار عرب کے دانشمند وں ميں ھوتا تھا ـاور آپکي والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن رواحہ ھيں (4)آپ کا خاندان ايسے روحاني اور فداکار افراد پر مشتمل تھا جو خانہ کعبہ کي محفاظت کے عھد يدار تھے ـ جس وقت بادشاہ يمن ”تبع “نے حجر اسود کو مسجد الحرام سے يمن منتقل کرنے کا ارادہ کيا تو حضرت خديجہ کے والد ذات تھي جنھوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کي جس کے نتيجہ ميں مجبور ھوکر ”تبع “کو اپنے ارادہ سے منصرف ھو نا پڑا ـ(5)

حضرت خديجہ کے جد اسد بن عبد العزي پيمان حلف الفضول کے ايک سرگرم رکن تھے يہ پيمان عرب کے بعض با صفا وعدالت خواہ افراد کے درميان ھو ا تھا جس ميں متفقہ طور پر يہ عھد کيا گيا تھا کہ مظلومين کي طرف سے دفاع کيا جائے گا اور خود رسول اکرم  بھي اس پيمان ميں شريک تھے (6)”ورقہ بن نوفل “(حضرت خديجہ کے چچا زاد بھائي )عرب کے دانشمند ترين افراد ميں سے تھے اور انکا شمار ايسے افراد ميں ھوتا تھا جو بت پرستي کو نا پسند کرتے تھے ي (7)اور حضرت خديجہ کو چندين بار اپنے مطالعہ کتب عھدين کي بنا پر خبر دار کرچکے تھے کہ محمد  اس امت کے نبي ھيں ـ(8)خلاصہ يہ کہ اس عظيم المرتبت خاتون کے خاندان کے افراد، متفکر ،دانشمنداوردين ابراھيم کے پيرو تھے ـ

تجارت



1 2 3 next