عالمی مصلح عقل و دانش کے میزان میں



 

مہدویت کے منکرین بہت سارے ایسے نظریات اور خیالات رکھتے ھیں جو ایمان و اعتقاد کی دعوت میں اسلامی روش سے علیحدہ اور جدا ھیں۔ اسلام اپنی دعوت میں، جس طرح عقل و منطق پر تاکید کرتا ھے، اسی طرح فطرت اور غیب پر بھی تکیہ کرتا ھے۔ غیب پر ایمان رکھنا ایک مسلمان کے عقیدہ کا جز ھے؛ کیونکہ قرآن اور سنت نے مومنین کو اس کی طرف دعوت دی ھے۔ خدا وند سبحان فرماتا ھے:

 الم، یہ وہ کتاب ھے جس میں کوئی شک نھیں اور پرھیز گاروں کے لئے ہدایت ھے، ان لوگوں کے لئے جو غیب پر ایمان رکھتے ھیں[1]

نیز فرماتا ھے: یہ سب غیبی خبریں ھیں جس کی ھم تم پروحی کرتے ھیں[2]

سنت نبوی میں بھی سیکڑوں روایات پائی جاتی ھیں جو غیبی اخبار اور انبیاا ور اللہ کے رسولوں کی خبروں کی تصدیق و تاکید کرتی ھیں۔ مسلمان انسان کبھی ایمان بالغیب کا انکار نھیں کرسکتا ؛ خواہ اس کے اسرارو رموز اور اس کی کیفیت کو درک کرے یا درک نہ کرے جیسا کہ ملائکہ، جن، عذاب قبر، منکر و نکیر کے سوال اور ان تمام غیبی امور کہ جن سے قرآن کریم یا رسول خد ا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(قابل اعتماد رادیوں کہ نقل کے مطابق) نے ھمیں مطلع فرمایا ھے اسی دوسرے گروہ سے تعلق رکھتے ھیں۔

ان امور میں سے اھم ترین آخرزمانہ میں امام مہدی(علیہ السلام) کا ظھور اور ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد زمین کو عدل و انصاف سے پر کرنا ھے۔ تمام روایی کتابیں خواہ صحاح ھوں یا مسایند یا سنن واضح انداز میں یا اشارہ اور کنایہ میں مہدی کا تذکرہ کیا ھے، لہٰذا کوئی مسلمان متعدد طرق، ان احادیث کے راویوں کی وثاقت اور گونا گوں تاریخی دلایل کے ھوتے ھوئے حضرت مہدی(علیہ السلام) کے وجود کا انکار نھیں کر سکتا۔اس لحاظ سے، منکرین خواہ اس گروہ سے تعلق رکھتے ھوں جو مستشرقین کے نظریوں سے متاثر ھوئے ھوں خواہ اس گروہ سے ھوں جنھیں گزشتگان کی میراث کے تعصب نے اس طرح کے موقف پر آمادہ کیا ھے اور سب نے یھی کوشش کی اور جب دیکھا کہ ان کا مکرو فریب ذلیل و رسوا ھوگیا ھے اور ان کی دستاویز کثرت سے پائی جانے والی نقلی ادلہ اور قاطع برھان اور مہدی موعود کے بارے میں علمائے اسلام کے لئے درپئے اعترافات کے مقابلے میں کار ساز نھیں ھوئیں تو بے بنیاد شبھات بے وقت اور ابھام آفرینی کی ترویج کریں تا کہ امت مسلمہ کو ”انتظار“ کے مرحلہ میں اپنی ذمہ داری نبھانے اور فریضہ رسالت انجام دینے سے باز رکھیں لہٰذا اس سلسلہ میں مختلف مغالطے کا سھارا لیا کیونکہ اس نے یھی خیال کیا کہ امام مہدی(علیہ السلام) کی عمر کا طولانی ھونا عقلانی علم و منطق سے ساز گار نھیں ھے۔ ھاں اگر ان کے اس باطل خیال کی علمی معیار، منطقی قواعد اور صحیح تفکر کے میزان پر تحقیق کی جائے تو واضح طور پر ھم دیکھیں گے کہ اس کا علم و دانش اور عقل و خرد بہت زیادہ فاصلہ رکھتا ھے۔

اس سلسلہ میں اھم ترین شبھات جسے عنوان کیا ھے امام(علیہ السلام) کی کمسنی، طول عمر اور ”غیبت“ کا ان کے لئے فائدہ اور ان کے وجود سے امت کا غیبت کی حالت میں فیضیاب ھونا ھے جس کا ھم علم منطق اور عقلی دلیل کی بنیاد پر جواب دیں گے۔

پھلا سوال: امام مہدی پانچ سال کے سن میں کس طرح درجہ امامت پر فائز ھوئے؟

جواب: جیسا کہ مفکر شھید آیت اللہ سید محمد باقر صدر نے بیان کیا ھے کہ امام مہدی مسلمانوں کی رھبری اور پیشوائی کے منصب پر اپنے والد بزرگوار کے جانشین ھوئے یعنی آپ اپنی عمر شریف کے ابتدائی سالوں میں تمام روحی عظمت اور فکری بے نیازی کے لحاظ سے امام کے لائق تھے اور بچپنے کی امامت ایک ایسا امر ھے جو آپ سے پھلے بھی آپ کے بعض آباء و اجداد کے درمیان تحقق پاچکی ھے، مثال کے طور پر امام جواد(علیہ السلام) ۸/سال کے سن میں منصب امامت پر فائز ھوئے اور امام ھادی(علیہ السلام) ۹/سال کے سن میں خدا وند سبحان کی طرف سے امامت کے منصب پر فائز ھوئے اور امام حسن عسکری(علیہ السلام) امام مہدی کے والد گرامی نے بھی ۲۲/سال کے سن میں امت کی رھبری اور ہدایت کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر لی اور ھم بچپنے کی امامت کی معراج امام مہدی(علیہ السلام) اور امام جواد(علیہ السلام) میں مشاہدہ کر تے ھیں۔ اور ھم اس بچپنے کی امامت کو ایک ”حقیقت“ نام دیتے ھیں، نہ ایک مفروضہ کیونکہ یہ امر محسوس اور مشاہداتی اعتبار سے دو امام جواد(علیہ السلام) اور ھادی(علیہ السلام) میں پھلے ھی سے منعکس تھا اور امت نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تجربہ کیا تھا اور امت کے مشاہداتی اور ملموس تجربہ سے زیادہ محکم اور مضبوط کون دلیل اور کیا ھو سکتی ھے کہ جو ایک اجتماعی واقعہ کے لئے تحقق پذیر ھو؟

۱۔ خاندان نبوت سے متعلق ائمہ کی ولایت کوئی حکومتی دستگاہ اور بادشاھی تخت و تاج نھیں جو وراثت میں باپ سے بیٹے تک منتقل ھوئی ھے اور حاکم نظام اس کی حمایت کرلے، امویوں،فاطمیوں اور عباسیوں کی مانند، بلکہ ”نظام امامت“ لوگوں کی بڑھتی ھوئی طاقتوں کی رھبری جوکہ روحانی نفوذ اور ان کے نزدیک فکری مقبولیت سے حاصل ھوئی تھی۔ کیونکہ اسلام میں ایسی ھی امامت امت کی زعامت اور رھبری کے لئے مناسب اور شائستہ ھے وہ بھی روحانی بنیاد اور فکری اصول پر۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 next