عقیدہ مہدویت کے اجزا و عناصر سے متعلق بحث



 

عقیدہ مہدی اور امام زمانہ(علیہ السلام) سے گھرے قلبی رابطے کی ضرورت۔

اسلامی تہذیب و ثقافت نیز قرآنی نقطہ نظر سے آدمی کی برتری و شرافت کا معیار اللہ کی بندگی ھے جسے ذکر حکیم میں تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ھے آسمانی وحی، انسانی معاشرہ کو خبردار کرتی ھے کہ سب سے مکرم اور گرامی قدر پر ھیز گار لوگ ھیں۔ تقویٰ کمال کی طرف پرواز کرنے کی راہ اور تکامل کا راز ھے۔

غیب پر ایمان رکھنا تقویٰ کا سب سے پھلا رکن

دوسری طرف خدا وند سبحان بیان فرماتا ھے: کمال آفرین اکسیر کے رکن کو انسانوں کے لئے بیان فرماتا ھے:

<ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیب فِیْہِ، ھُدًی لِلْمُتَّقِین الَّذِین یومِنُوْنَ بِالْغَیب وَیقیموْنَ ال-صَّ-لَاةَ وَ مِ-مَّ-ا رَزَقْ-نَ-اھُ-مْ ےُ-نْ-ف-ِق-ُوْنَ[1] اُوْلٰ-ئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّن رَّبِّھِمْ وَاُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ>[2]

یہ ایک ایسی کتاب ھے جس کی (حقا نیت) کے بارے میں کوئی شک و شبہہ نھیں اور پر ھیز گاروں کے لئے ہدایت کا باعث ھے وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے اور نماز قائم کرتے اور جو کچھ ھم نے انھیں رزق دیا ھے اسے خرچ کرتے ھیں۔۔۔ وھی لوگ اللہ کی ہدایت سے مالامال اور کامیاب ھیں۔ قرآن کریم غیب پر ایمان رکھنے کو تقویٰ کاسب سے پھلا رکن شمار کرتا ھے، ہستی شناسی توحید کی بنیاد پر دنیا دو حصہ ”نشہ شھود“ اور”نشہ غیب“ یعنی عالم مشھود ومحسوس و عالم غیر مشھود و محسوس سے تشکیل پائی ھے۔ پرھیزگارموحد (خداکی وحدانیت کا اقرار کرنے والا) وہ شخص ھے جو عالم غیر محسوس یعنی عالم ”غیب“ پر اس کی تمام تر وسعتوں، عناصر اور اجزا کے ساتھ یقین رکھتا ھو۔

اس سلسلہ میں علامہ طباطبائی اس طرح فرماتے ھیں:

 ”اَلْغَیْبُ خِلَافُ الشَّھَادَةِ وَیُطْلَقُ عَلٰی مَالَایَقَعُ عَلَیْہِ الْحِسُّ وَ ھُوَ اللّٰہُ سُبْحَانَہ وَ آیَاتُہ الْکُبْرَیٰ اَلْغَائِبَة عَنْ حَوَاسِنَا۔۔۔۔“[3]

غیب مشھود (ظاھر) کے خلاف چیز ھے اور اس پر تمام غیر محسوس امور کا اطلاق ھوتا ھے خداوند سبحان اور اس کی عظیم پوشیدہ نشانیاں اسی کے زمرے میں ھے“جس طرح حضرت حجت بن الحسن المہدی منجی موعود(علیھما السلام) منتظر اور اللہ کی عظیم پوشیدہ نشانیوں میں سے ایک ھیں[4] خداوند سبحان نے قرآن مجید میں ان کے ظھور کے بارے میں اپنے قطعی وعدہ سے روشناس کرایا ھے[5]

لہٰذا مذکورہ بالا آیات کی بنیاد پر، حضرت پر ایمان رکھنا تقویٰ کا عظیم رکن اور کامیابی کا باعث شمار کیا گیا ھے؛اسی طرح علاّمہ طباطبائی اسی آیت کے ذیل میں روائی بحث کے عنوان سے یہ قابل توجہ اور اھمیت حدیث امام صادق(علیہ السلام) سے نقل کرتے ھیں:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next