مہدی کے معتقدین کے فرائض سے متعلق بحث



 

انتظار کی تحقیق و جستجو

اسلام کے حیات بخش دینی مکتب کی ادبیات میں لفظ ”انتظار“ کامفھوم بہت ھی عمیق اور بیش بھا اھمیت کا حامل ھے۔ گویا ”انتظار“ حق تعالیٰ کی بندگی کا سب سے خوبصورت اور کامل جلوہ اور نمونہ ھے، اس طرح سے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(ابراھیم بن محمد بن موید جوینی سنی مذھب کے مشھور محدث کی نقل کی مطابق اپنی اسناد سے علی ابن ابو طالب(علیھما السلام) سے) اس طرح فرماتے ھیں:

اَفْضَلُ الْعِبَادَةِ اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ

”بہترین عبادت فرج کا انتظار ھے۔“[1]

اس مطلب کو ترمذی، شیخ صدوق، شیخ الطائفہ اور علامہ مجلسی نے اس عبارت کے ساتھ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے نقل کیا ھے:

”اَفْضَلُ اَعْمَالِ اُمَّتِی اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ“[2]

 ”میری امت کا بہترین عمل خداوند متعال سے فرج کا امیدوار ھونا ھے“

اسی مناسبت سے ھمارے دینی معارف میں انتظار کرنے والے عظیم اور ممتاز حیثیت کے حامل ھیں اور ان لوگوں کی قدر و منزلت کے سلسلہ میں عظیم الشان تعبیریں وارد ھوئی ھیں کہ جس کے نمونے ذیل کی عبارت میں ذکر کئے جا رھے ھیں؛امام علی ابن ابو طالب(علیھما السلام) نے فرمایا: 

”اَلْاٰخِذُ بِاَمْرِنَا مَعَنَا غَداً فِی حَظِیْرَةِ الْقُدْسِ وَالْمُنْتَظِرُ لِاَمْرِنَا کَالْمُتَشَحِّطُ بِدَمِہ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ“

”ھمارے امر سے متمسک رھنے والے کل ھمارے ساتھ فردوس بریں میں ھوں گے اور ان کے منتظرین ان لوگوں کے مانند ھیں جنھوں نے راہ خدا میں اپنے خون کی قربانی پیش کی ھو“[3]

”امر“ اس حدیث میں ممکن ھے ”اوامر“ کا مفرد ھو اور یہ بھی احتمال ھے کہ ”امور“ کا مفرد ھو دوسرے احتمال کی بنیاد پر حدیث شریف سے شاہد پیش کرنا زیاد ہ واضح ھے کیونکہ اکابر محدثین نے اسی دوسرے فرض ھی کو قبول کیا ھے۔ اس لئے اسے ”اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ فِی غَیْبَةِ وَلِیِّ الْعَصْرِ“ کے باب میں ذکر کیا ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next