انبیا کی بعثت اور مہدی(علیہ السلام) کا انقلاب



 

انبیا کی بعثت کا فلسفہ اور راز

آدمی فطری طور پر کمال کا طالب نیز نقص وعیب اور پستی و ذلت سے گریزاں ھے اس لحاظ سے کمال مطلق کو دریافت کرنا اور قدرت مطلقہ کے سرچشمہ سے متصل ھونا نیز علم مطلق اور جمال مطلق سے وابستہ ھونا ھے۔۔۔

وہ جانتا ھے کہ خدا کے علاوہ تمام موجودات (اپنے اپنے مراتب اور درجات کے لحاظ سے) نسبی اعتبار سے نقص سے دوچار ھیں یھی وجہ ھے کہ آدمی کا نفس ان نقصانات سے بچاو کرتے ھوئے اطمینان و سکون صرف اور صرف خدا کے نام اور اس کے ذکر میں محسوس کرتا ھے۔

<اَلَا بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ>[1]

آگاہ ھوجاو کہ دلوں کو سکون و اطمینان صرف یاد الھی سے ملتا ھے

 لیکن افسوس صد افسوس کہ ھم اس کی یاد اور تذ کرہ سے بھی غافل ھیں اور اس کی عبادت اور بندگی میں بھی سست ھیں ؛ نہ ھی اس کی ملاقات حاصل ھے اور نہ ھی سکون قلب میسر ھے۔

نفسانی خواہشات کی اسیری اور رکاٹوں کی زیادتیوں نے آدمی کو اس کے فطری قبلہ سے غافل بنا دیا ھے اور ابلیس کی دھوکہ دھڑی اور اس ناچیز دنیا کی ظاھری آرائش نے یاد محبوب کو اس کے دل میں مردہ بناکر اسے توحید پرستی سے روک دیا ھے۔

رب رحیم کہ جس نے بندوں کی گمراھی کو برداشت نھیں کیا اس نے اپنے خالص دوستوں اور کامل اولیاء کا انتخاب کیا اور انھیں لوگوں کی طرف مبعوث کیا تاکہ جس توحید کے پرچم کو الست کی صبح میں فطرت کی روشنائی اور ”بَلیٰ (ھاں)“ کی مھر کے ساتھ مزین بنایاتھا۔ ان سے مطالبہ کریں اور ان کی عقلوں (ان باطنی رسولوں) کو نورانی کریں اور ان کے مشام جان کو جان جانان کی روح نواز خوشبو سے معطر بنائیں اور ان کے طائر دل کو لاھوت کی بیکراں سہ پھر میں پرواز عطا کریں اور ان کے وجود کو کبریائی بجلی کے مقنا طیسی دائرہ میں قرار دیں تا کہ ان وصال طلب افراد کو ان کی اصل کی طرف رھنمائی ھو سکے، عصر غیبت اور خدا سے دوری اختیار کرنے کے جدید دور میں اور اس جدید دور کے بعد خدا سے جنگ کرنے کے زمانے میں، حضرت بقیتہ اللہ الاعظم(علیہ السلام)،ذخیرہ الھی نیز آسمانی بڑی طاقت، توحید کی آواز کو اس گنبد مینا کے زیر سایہ بلند کریں گے اور توحید کی حقانیت بجلی کے مانند خدا سے لڑنے والے شیاطین کے سروںپر برسائیں گے۔

 اس دن زمین دین سے برسرپیکار ھونے والوں سے پاک ھو جائے گی اور نصب پرچم اور علم بیکراں اپنی سیرت، رفتار و گفتار کے ساتھ آسمانی کتابوں اور وحی خدا وندی کے اسرار ور موز کو جستجو کرنے والے اور حق کے متلاشی افرادکے لئے تفسیر کریں گے اگر اس محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنی بعثت سے بشریت کے لئے قرآن پیش کیا تو یہ محمد (عجل اللہ تعالی) انسانی معاشرہ میں قرآن کے اہداف و مقاصد کو ثابت کریں گے۔

مہدی(علیہ السلام) صفات انبیاء(ع)کے آئینہ دار اور اس کا خلاصہ اور اوصیاء کا نچوڑ؛ بیت اللہ الحرام میں اپنے رخ سے نقاب ہٹائیں گے اور کعبہ سے ٹیک لگائے اس حالت میں کہ ان کی انگشت مبارک میں دو انگوٹھی ھوگی: ایک انگوٹھی حسن بن علی کی ھوگی جس پر لکھا ھوگا ”اِنِّی وَاثِقٌ بِرَحْمَتِکَ“

اور دوسری انگوٹھی حسین بن علی کی ھوگی جس پر لکھا ھوگا:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 next