نماز جمعه ایک اهم اسلامی فریضہ



اس اسلامی فریضہ کے اوپر بہترین دلیل اسی سورہ کی آیات ہیں جس میں تمام مسلمین اور مومنین کو حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی اذان سنتے ہی فورا نماز کی طرف دوڑو ۔

یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا نُودِیَ لِلصَّلاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا ِلی ذِکْرِ اللَّہِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذلِکُمْ خَیْر لَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ، فَِذا قُضِیَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ وَ اذْکُرُوا اللَّہَ کَثیراً لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون(سورہ جمعہ ، آیت ٩۔١٠) ۔

ایمان والو جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تو ذکر خدا کی طرف دوڑ پڑو اور کاروبار بند کردو کہ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جاننے والے ہو ۔  پھر جب نماز تمام ہوجائے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور فضل خدا کو تلاش کرو اور خدا کو بہت یاد کرو کہ شاید اسی طرح تمہیں نجات حاصل ہوجائے ۔

''نُودی''کا مادہ ''ندا''ہے جس کے معنی آواز دینے کے ہیں اور یہاں پر اذان کے معنی میں ہے، کیونکہ اسلام میں نماز کے لئے اذان کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں ہے ، جیسا کہ سورہ مائدہ کی ٥٨ ویں آیت میں بیان ہوا ہے :  '' و ا ذا نادیتم الی الصلواة اتخذوھا ھزوا و لعبا ذلک بانھم قوم لا یعقلون'' ۔

اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کو مذا ق اور کھیل بنالیتے ہیں اس لئے کہ یہ بالکل بے عقل قوم ہیں ۔

لہذا جب بھی نماز جمعہ کی اذان کی آواز آئے تو لوگوں کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اپنے کام اور روزگار کو چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑیں ۔ ''ذلکم خیر لکم ...'' اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت نماز جمعہ کو قائم کرنے اور اپنے کام وغیر ہ کو ترک کرنے میں مسلمانوں کے لئے اہم فائدہ کی بات ہے ، اگر اس میں صحیح غوروفکر سے کام لیا جائے ورنہ خداوند عالم سب سے بے نیاز اور سب کے لئے مہربان ہے ۔

س اسلامی فریضہ کے اوپر بہترین دلیل اسی سورہ کی آیات ہیں جس میں تمام مسلمین اور مومنین کو حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی اذان سنتے ہی فورا نماز کی طرف دوڑیں۔اور ہر طرح کے کام اور روزگار کو ترک کردیں ، یہی نہیں بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر کسی سال لوگ قحط سالی کا شکار ہوجائیں اور ان کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ ہو اور اسی وقت کوئی قافلہ آجائے جس کے پاس کھانے پینے کا سامان ہو تو مسلمان اس قافلہ کے پاس نہ جائیں بلکہ نماز جمعہ کے لئے جائیں ۔ اسلامی احادیث میں بھی اس بات کی طرف بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ایک خطبہ میں جس میں مخالف و موافق اقوال وارد ہوئے ہیں ، بیان ہوا ہے : '' ا ن اللہ تعالی فرض علیکم الجمعة فمن ترکھا فی حیاتی او بعد موتی استخفافا بھا او جحودا لھا فلا جمع اللہ شملہ، و لا بارک لہ فی امرہ ، الا و لا صلواة لہ ، الا و لا زکواة لہ، الا و لا حج لہ، الا و لا صوم لہ، الا و لا برلہ حتی یتوب'' ۔

خداوند عالم نے نماز جمعہ کو تم لوگوں پر واجب کیا ہے جو بھی میری زندگی یا میری وفات کے بعد اس کو سبک سمجھتے ہوئے یا اس کا انکار کرتے ہوئے ترک کردے خداوند عالم اس کو پریشان کرے گا ، اس کے کام میں برکت نہیں دے گا ، یہ جان لو ح۔کہ جب تک وہ توبہ نہیں کرے گا اس کی نماز قبول نہیں ہوگی،اس کی زکات، حج اور اس کے نیک اعمال قبول نہیں ہوں گے ۔

ایک دوسری حدیث میں امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا ہے : ''صلواة الجمعة فریضة ، والاجتماع الیھا فریضة مع الامام، فان ترک رجل من غیر علة ثلاث جمع فقد ترک ثلاث فرائض ، و لا یدع ثلاث فرائض من غیر علة الا منافق'' ۔

نماز جمعہ واجب ہے اور اس کے لئے امام (معصوم) کے ساتھ جمع ہونا بھی واجب ہے ، اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے تین نماز جمعہ کو ترک کردے تو اس نے واجب عمل کو ترک کیا ہے اور تین واجب کو بغیر علت کے منافق کے علاوہ کوئی ترک نہیں کرتا۔ ایک دوسری حدیث میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: من اتی الجمعة ایمانا و احتسابا استانف العمل'' جو شخص ایمان اور خداوند عالم کی وجہ سے نماز جمعہ میں شرکت کرے گا اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اور وہ اپنے اعمال کو شروع سے انجام دیتا ہے ۔



1 next