اہل حدیث



مکتب اہل حدیث خود ایک اہل حدیث کا طریقہ ، اصل میں ایک فقہی اور اجتہادی طریقہ تھا ۔ کلی طور پر اہل سنت کے فقیہ اپنی طور طریقہ کی وجہ سے دو گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں : ایک گروہ وہ ہے جن کا مرکز عراق تھا اور وہ حکم شرعی کو حاصل کرنے کے لئے قرآن و سنت کے علاوہ عقل سے بھی استفادہ کرتے تھے ۔ یہ لوگ فقہ میں قیاس کو معتبر سمجھتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بعض جگہوں پر اس کو نقل پر مقدم کرتے ہیں ۔ یہ گروہ ''اصحاب رائے'' کے نام سے مشہور ہے اس گروہ کے موسس ابوحنیفہ (متوفی ١٥٠ھ) ہیں ۔

دوسرا گروہ وہ ہے جن کا مرکز حجاز تھا ، یہ لوگ صرف قرآن وحدیث کے ظواہر پر تکیہ کرتے تھے اور مطلق طور سے عقل کا انکار کرتے تھے ، یہ گروہ '' اہل حدیث'' یا '' اصحاب حدیث'' کے نام سے مشہور ہے ، اس گروہ کے بزرگ علمائ، مالک بن انس (متوفی ١٧٩ھ)، محمد بن ادریس شافعی (متوفی ٢٠٤ھ) اور احمد بن حنبل ہیں ۔

اہل حدیث ، اپنے فقہی طریقہ کو عقاید میں بھی استعمال کرتے تھے اور اس کو صرف قرآن و سنت کے ظواہر سے اخذ کرتے تھے ۔ یہ لوگ نہ صرف عقاید کے مسائل کو استنباط کرنے کے لئے عقل کو ایک مآخذ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اعتقادی احادیث سے متعلق ہر طرح کی عقلی بحث کی مخالفت کرتے تھے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ یہ گروہ اس عقلی کلام کا بھی منکر تھا جس میں عقاید کا مستقل مآخذ عقل ہے اورایسے نقلی کلام کا بھی منکر تھا جس میںنقل کے عقلی لوازم کو عقل استنباط کرتی ہے ۔ یہاں تک کہ یہ گروہ عقاید دینی سے دفاع کے کردار کو بھی عقل کے لئے قبول نہیں کرتے تھے ۔ یہ بات مشہور ہے کہ جب ایک شخص نے مالک بن انس سے اس آیت ''الرحمن علی العرش استوی'' کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا: عرش پر خدا کا قائم ہونا معلوم ہے، اس کی کیفیت مجھول ہے، اس پرایمان واجب ہے اوراس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے ۔

بہرحال اہل حدیث ، دین کے متعلق ہرطرح کی فکر کرنے کے متعلق مخالفت کرتے تھے اورعلم کلام کا بنیادی طور پر انکار کرتے تھے ۔ اس گروہ کا معروف چہرہ ، احمد بن حنبل کے اس اعتقادنامہ پر ہے جس میں اس گروہ کے اساسی عقاید کو بیان کیا گیا ہے ، ان اعتقادات کا خلاصہ اس طرح ہے :

١۔  ایمان، قول وعمل اورنیت ہے ۔ ایمان کے درجات ہیں اور یہ درجات کم و زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ ایمان میں استثنائات پائے جاتے ہیں ، یعنی اگر کسی شخص سے اس کے ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس کو جواب میں کہنا چاہئے : انشاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا تو) میں مومن ہوں ۔

٢۔  اس دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قضا و قدر الہی ہے اور انسان، خداوند عالم کی قضا و قدرسے فرار نہیں کرسکتا ۔ انسانوں کے تمام افعال جیسے زنا، شراب پینا اور چوری وغیرہ خداوندعالم کی تقدیر سے مربوط ہے اوراس متعلق کسی کو خدا پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر کوئی گمان کرے کہ خداوند عالم گناہگاروںسے اطاعت چاہتا ہے لیکن وہ معصیت کا ارادہ کرتے ہیں،تو یہ گنہگار بندوں کی مشیت کو خداوند عالم کی مشیت پر غالب سمجھتے ہیں ، اس سے بڑھ کر خداوند عالم پر کوئی اور بہتان نہیں ہوسکتا ۔ جو بھی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ خداوندعالم کو اس جہان ہستی کا علم ہے اس کو قضا و قدر الہی کو بھی قبول کرنا چاہئے ۔

٣۔  خلافت اور امامت ، قیامت تک قریش کا حق ہے ۔

٤۔  جہاد ،امام کے ساتھ جائز ہے چاہے وہ امام عادل ہو یا ظالم ۔

٥۔  نماز جمعہ ، حج اور نماز عیدین (عید فطر و عید قربان) امام کے علاوہ قابل قبول نہیں ہے چاہے وہ امام عادل اور باتقوی بھی نہ ہو ۔

٦۔  صدقات ، خراج (لگان)اور جو مال بغیر کسی جنگ و وسایل جنگ کے حاصل ہو سب سلاطین کا حق ہے ، چاہے وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو ۔



1 2 3 4 5 6 next