خداوند عالم کے حقوق اور اس کی نعمتوں کی عظمت و وسعت اور فرائض کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت



خداوند عالم کے حقوق اس سے بڑے ہیں کہ بندے اس کے سامنے کھڑے ہوسکیں اور اس کی نعمتیں اس سے زیادہ ہیں کہ بندے انکا شمار کرسکیں ، لیکن تم ہر صبح و شام توبہ کرتے ہوئے اپنی خطاؤں کا اعتراف کرنا “

 

حدیث کے اس حصہ میں بحث کا محور ذمہ داریوں کا احساس اور فرائض کو انجام دینے کی اہمیت ہے

 

انسان کو یہ سمجھنے کے بعد کہ اسے اپنی عمرسے بخوبی استفاد ہ کرنا چاہیے اور یہ جاننے کے بعد کہ وقت اور فراغت سے بہتر استفاد کرنے کیلئے علم و آگاہی سے آراستہ ہونا ضروری ہے ، اس کی تلاش و سرگرمی کیلئے محرک ایجاد کرنے کی ضرورت کی نوبت آتی ہے، اور یہ محرک کیسے وجود میں آتا ہے محرک ایجادکرنے کیلئے اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ خداوند عالم اپنے بندوں پر کچھ حقوق رکھتا ہے اور اس لحاظ سے انسان کے اپنے پروردگار کیلئے کچھ فرائض ہیں انسان اپنی عقل و فطرت سے جانتا ہے کہ اگر کسی کا اس پر کوئی حق ہے تو اسے ادا کرنا چاہیئے اور ہر عاقل انسان جانتا ہے کہ خداوند عالم کے سب سے زیادہ حقوق اس پر ہیں

 

جب انسان یہ توجہ رکھے کہ تمام وہ نعمتیں جو اسے حاصل ہیں ---- حیات و زندگی کی اصل سے لے کر دیگر تمام مادی اور معنوی نعمتوں تک ---خداوند عالم کی طرف سے ہیں ، تو ممکن نہیں ہے وہ بندگی کے فریضہ کو بھول جائے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اپنے ولی نعمت کی شکر گزاری اور قدر دانی کرنی چاہئے اوریہ بذات خود سب سے بڑا محرک ہے جو مؤمن کو فرائض انجام دینے پر مجبور کرتا ہے ۔

 

لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روایت کے اس حصہ کے پہلے جملہ میں انسانو ںپر خداوند عالم کے حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کسی بھی صورت میں اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر بجالانے کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔

 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next