قول و فعل میں یکسانیت اورزبان پر کنٹرول



جس کا قول اس کے فعل کے مطابق ہو ، اس نے سعادت کی شکل میں اس کا پھل پالیا ہے اور جس کے قول و فعل میں ہم آہنگی نہ ہو وہ جزا پاتے وقت اپنی سرزنش کرے گا “

 

اکثر لوگ بات کرتے وقت اچھے اور نیک کام کا حوالہ دیتے ہیں، اس کی انجام دہی پر تاکید کرتے ہیں اس کی اہمیت ، قدرومنزلت اور انسانی کمال میں مومن ہونے کا ذکر کرتے ہیں لیکن عمل کے موقع پر ، ان کے قول و فعل میں ہم آہنگی نہیں ہوتی ہے ایسے بہت کم لوگ ہیں جن کے قول و فعل میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔

 

اگر قول و فعل کی ہم آہنگی کو ایمان کے درجات سے وابستہ جان لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو ایمان کے لحاظ سے جتنا کامل ہے وہ گفتار میں اتنا ہی صادق ہے اور ان کے قول و فعل میں زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے حقیقت میں ان کی رفتار ان کے گفتار کی تصدیق کرتی ہے ۔

 

آیہٴ مبارکہ ․․< اُولٰئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَ اُولٰئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُونَ >(بقرہ / ۱۷۷) کی تفسیر میں مرحوم علامہ طباطبائی ۺ فرماتے ہیں : ” صداقت “ ایک ایسی صفت ہے جس میں علم و عمل میں موجود تمام فضیلتیں پائی جاتی ہیں کیونکہ صدق اخلاق کی وہ صفت ہے جس میں تمام اخلاقی فضائل ، جیسے : عفت ، شجاعت ، حکمت ، عدالتکی شمولیت ہے ، انسان کو اس کے اعتقاد اورقول و فعل سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے انسان کے صادق ہونے کا مفہوم و معنی یہ ہے کہ اس کا عقیدہ ، قول و فعل ایک دوسرے کے مطابق ہوں ، یعنی جس چیز کا عقیدہ رکھتا ہے اور کہتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے ۔

 

انسان کی فطرت کا ، حق کو قبول کرنے اور اسکے سامنے باطنی طور پر تسلیم ہونے کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے خواہ وہ اس کے برخلاف بھی اظہار کرے پس اگر انسان نے حق کا اعتراف کرلیا اور اس اعتراف میں وہ سچا تھااور جو کچھ وہ اس کے بارے میں اعتقاد رکھتا تھا وہی کہتا تھا اور جو کچھ کہتا تھا اسی پر عمل کرتا تھا تو ایسی صورت میں اس کا ایمان خالص ہو گیا ہے اور اس کا اخلاق و عمل صالح آخری مرحلہ پر پہنچتے ہیں۔

 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next